| گذشتہ خبریں | ||||
![]() تمام مومنین کرام کی خدمت میں عید سعید فطر کے موقع پر دل کی گہراییوں سے مبارک باد پیش کی جاتی ہے انشاء اللہ اس مبارک موقع پر پاکستان کے سیلاب زدہ بھای بہنوں کو ضرور یاد رکھیں اور اپنی بھر پور مدد سے دریغ نہ کریں کیونکہ ایک حقیقی منتظر کی صفات میں سے ہے کہ وہ دوسروں سے تعاون کو ہمیشہ مدنظر رکھتا ہے ۔ (9/9/2010) حزب اللہ لبنان کے مرکزي دفتر سے جاري ہونے والے ايک اعلاميے ميں پاکستان کے صوبائي دارلحکومت کوئٹہ ميں جمعۃ الوداع يوم القدس کي ريلي ميں بم دھماکے کے نتيجہ ميں پچاس سے زائد شہداء اور سينکڑوں ذخميوں پر دھماکے کي شديد الفاظ ميں مذمت کي گئي ہے ،حزب اللہ کي طرف سے جاري شدہ بيان ميں دنيا بھر کے مسلمانوں اور بلخصوص پاکستاني مسلمانوں سے اپيل کي گئي ہے کہ پاکستان کے مسلمان صہيوني اور امريکي سازشوں سے ہوشيار رہيں اور آپس ميںمتحد رہيں۔حزب اللہ کي جانب سے کوئٹہ دھماکے کي مذمت ميں شہدائے يوم القدس اور ذخميوں کے ورثاء سے دلي ہمدردي اور اظہار يکجہتي کيا گياہے جبکہ کہا گيا ہے کہ حزب اللہ لبنان دکھ اور مصيبت کي اس سخت آزمائش ميں شہدائے يوم القدس اور ذخميوںکے لواحقين کے ساتھ ہے اور دلي ہمدردي کا اظہار کرتي ہے۔ (9/8/2010)
(9/7/2010)
![]() شیعہ نیوز کی خبر کے مطابق سعودی عرب میں وھابی مفتیوں کے شیعوں کے خلاف تکفیری اور غیر اخلاقی فتاوی اور شیعوں کے خلاف ناجائز اقدامات کرنے سے سعودی یونیورسٹیوں کے بہت سے طلباء کہ جن میں سے اکثر کا تعلق شمالی افریقا اور مشرق وسطی کے ممالک سے ہے نے شیعہ مذھب اثنا عشریہ میں تحقیق و بحث کرنا شروع کردی ہے ۔ ادھر سٹلایٹ پر شیعہ عربی چینل کے شروع ہونے اور وھابیوں کے شبہات کا جواب دینے اور وہابیوں پر ایسے عقایدی سوالات کرنے کہ جنکا انکے پاس کوی واضح جواب نہیں ہے اس سے بہت سے طلبا مذھب حقہ شیعہ کی طرف میلان پیدا کرنے اور مستبصر ہونے لگے ہیں فقط سعودی عرب کی قصیم یونیورسٹی میں ساٹھ (۶۰)سے زائد طلباء وطالبات پچھلے تین سالوں سے اپنا مذھب تبدیل کرکے مذھب اہلبیت علیھم السلام کو اختیار کیا ہے۔ حالانکہ قصیم کا علاقہ وھابیوں کے اہم مراکز میں سے ہے اور قصیم یونیورسٹی اس علاقہ میں سلفیوں کی فعالیت کا مرکز شمار ہوتی ہے۔ اس یونیورسٹی کے طلباء کا مذھب جعفری کی طرف میلان نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کو سخت پریشان کیا ہے کہ انہوں نے طلباء وطالبات میں اس شیعہ لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے وہابی علماء سے مدد مانگی ہے۔ (9/7/2010)
(9/5/2010)
![]() شیعہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی مختلف یونیورسٹیوں مثلاً امیرکبیر یونیورسٹی ،امام صادق علیہ السلام یونیورسٹی اور شریف یونیورسٹیی کے طلباء نے خط و کتابت کے ذریعے آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی اور آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی سے قران مجید کی اہانت کرنے والوں کی سزا کے حوالے سے فتوی مانگا ہے ۔ آیات عظام کا جواب مندرجہ ذیل ہے: جواب آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی: بسمہ تعالی سلام علیکم فقہ اسلامی کی رو سے اس قسم کے افکار کے خلاف شدید مخالفت لازمی ہے اور جو اس قسم کا کام کرنا چاہتے ہیں انکا قتل نیز واجب ہے۔ لیکن اس قسم کا پروگرام حاکم شرع کی راے کے ساتھ ہو اور اسکی اجازت کے بغیر جایز نہیں اور ہم اس قسم کی فکر (اھانت قران ) اور کام(جلانا) کی شدت کے ساتھ مذمت کرتے ہیں حسین نوری ھمدانی ۲۲۔۶۔۸۹(قمری شمسی) جواب آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی : بسمہ تعالی بلا شبہ قران مجید کو جلانا سبب بنے گا کہ جلانے والے کا خون مباح ہو لیکن اس قسم کے مسایل میں حاکم شرع کی اجازت کے بغیر قدم نہ اٹھایا جایے البتہ سب پر ضروری ہے کہ اسکی شدید مخالفت کریں ۲۲۔۶۔۸۹(شمسی) (9/19/2010)![]() ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
قال الله العزیز الحکیم: انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحافظون ملت عزیز ایران ـ عظیم ملت اسلامیہ! سیّدعلی خامنہ ای 22/شهریور/1389 هجری شمسی 4شوال المکرم 1431 ہجری قمری 13 ستمبر 2010 عیسوی (9/14/2010) ![]() رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نماز عید سعید فطر کے دوسرےخطبے میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو عالم اسلام کا سب سے فوری اور ضروری مسئلہ قراردیا اور اس تباہ کن سیلاب میں پاکستانی عوام کے درد و رنج اور غم پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور تمام مسلمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ اس حساس اور نازک موقع پر پاکستان کی مؤمن اور مصیبت زدہ قوم کی بڑھ چڑھ کر مدد کریں ۔ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شدید سعودی سنسر کے باوجود معلوم ہوا ہے کہ مدینہ منورہ میں سعودی عرب کے بدنام زمانہ وہابی فورس "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" بورڈ کے اہلکاروں نے میلاد امام زمانہ (عج) کی محافل پر حملہ کرکے تمام تزئینات، بینرز، بورڈز اور کتبوں کو توڑ پھوڑ دیا اور محافل میں شریک شیعیان اہل بیت (ع) کو تقریبات ختم کرنے پر مجبور کیا۔ الراصد نیوز ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ شیعیان و پیروان اہل بیت (ع) جشن میلاد امام زمانہ (عج) کے سلسلے میں تقریبات منا رہے تھے کہ سعودی عرب کے بدنام زمانہ وہابی فورس "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" بورڈ کے اہلکاروں نے ان پر ہلہ بول دیا۔ اس حملے میں کسی کے شہید یا زخمی یا گرفتار ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" بورڈ نے مسجد النبی (ص) اور جنت البقیع کے اطراف میں بھی بھاری نفری تعینات کی ہے اور شیعہ زائرین کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ سعودی عرب کی شيعيان اہل بیت (ع) گرمیوں کی چھٹیوں میں کثیر تعداد میں مکہ اور مدینہ جاکر عمرہ اور زیارت بجا لاتے ہیں۔ گذشتہ سال بھی "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" بورڈ کے شدت پسند وہابی اہلکاروں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے روز مسجد النبی (ص) اور جنت البقیع میں متعدد شیعہ زائرین کو قتل اور زخمی کیا تھا۔ (8/4/2010) مروی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اس رات جاگتے رہے اور متعدد بار کمرے سے باہر نکلتے اور فرمایا کرتے تھے کہ:خدا کی قسم میں جھوٹ نہیں کہتا اور مجھ سے جھوٹ نہیں بولا گیا یہی ہے وہ رات جس میں شہادت کا وعدہ دیا گیا ہے۔ (منتہی الآمال، ج1، ص 172) بہر صورت امیرالمؤمنین علیہ السلام نماز فجر کے لئے کوفہ کی مسجد اعظم میں داخل ہوئے اور سوئے ہوئے افراد کو نماز کے لئے جگایا؛ ان ہی میں سے اس امت کا شقی ترین فرد "عبدالرحمن بن ملجم مرادی" بھی تھا جو الٹا سویا ہوا تھا جس کو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے نماز کے لئے جگایا۔ آپ (ع) نماز میں مصروف ہوئے اور جب پہلی رکعت کے پہلے سجدے سے سر اٹھایا تو ابن ملجم کے دوسرے دہشت گرد ساتھی "شبیب بن بجرہ اشجعی" نے تلوار سے آپ (ع) کے سر کو نشانہ بنانا چاہا مگر اس کا وار محراب کے طاق پر جالگا اور ابن ملجم ملعون نے چلّا کر دوسرا وار کیا جو آپ کی پیشانی کو لگا جس سے آپ (ع) شدید زخمی ہوئے۔ تلوار امیرالمؤمنین علیہ السلام کی پیشای کے عین اسی مقام پر لگی جسے جنگ احزاب (غزوہ خندق) مین عمرو بن عبدود نے زخمی کردیا تھا۔ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السّلام نے فرمایا: "بسم الله و بالله و علی ملْة رسول الله فزت و ربّ الکعبه" (بحارالانوار، ج 42، ص 281؛) خدا کے نام سے اور خدا کے سہارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ملت پر؛ ربّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔ لوگ چلائے کہ ضارب کو پکڑو۔ صدائیں بلند ہوئیں، کچھ لوگ محراب کی طرف دوڑے؛ اور کچھ عبدالرحمن اور شبیب کو پکڑنے کے لئے مسجد سے باہر نکلے؛ امیرالمؤمنین علیہ السلام محراب مسجد میں زمین پر گر پڑے تھے اور محراب کی مٹی اٹھا اٹھا کر اپنی پیشانی پر ڈالتے اور اس آیت کی تلاوت فرمارہے تھے: «منها خلقناکم و فیها نعیدکم و منها نخرجکم تارة اخری»;( سورہ طہ، آیہ 55۔) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور تمہیں مٹی کی طرف لوٹائیں گے اور ایک بار پھر تمہیں مٹی سے باہر لائیں گے۔ اور اس کے بعد فرمایا: "جأ امرالله و صدق رسول الله، هذا ما وعدنا و رسوله"۔ خدا کا فرمان آن پہنچا، اور سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہی وہ وعدہ تھا تو خدا اور اس کے رسول (ص) نے ہمیں دیا تھا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے زخم کھایا تو زمین لرز اٹھی، سمندر طوفانی ہوگئے اور آسمان متزلزل ہوئے اور مسجد کے دروازے شدت ٹکرائے اور کالی آندھیاں چلیں جنہوں نے دنیا کو تیرہ و تار کردیا اور جبرائیل علیہ السلام کی فریاد آسمانوں اور زمین پر چھا گئی اور ہر شخص نے جبرائیل کو کہتے ہوئے سنا کہ: تهدمت و الله اركان الهدی، و انطمست أعلام التّقی، و انفصمت العروة الوثقی، قُتل ابن عمّ المصطفی، قُتل الوصی المجتبی، قُتل علی المرتضی، قَتَله أشقی الْأشقیاء؛( منتہی الآمال، ج1، ص 174۔) خدا کی قسم ہدایت کا رکن (ستون) ٹوٹ گیا، علم نبوت کے ستارے بجھ کر تاریک ہوگئے، اور پرہیزگاری کی علامتوں کو کو مٹا دیا گيا اور عروة الوثقی کو منقطع کیا گیا؛ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ابن عم کو قتل کیا گیا؛ برگزیدہ ترین وصی (سید الاوصیاء) قتل کئے گئے، علی مرتضی قتل کئے گئے اور آپ (ص) کو شقیوں میں سے زیادہ شقی (اور بدبخت ترین بدبخت یعنی عبدالرحمن ابن ملجم مرادی) نے قتل کردیا۔ (8/31/2010)
(8/31/2010)
![]() روایات کی رو سے جب امام حسن علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کو دی گئی آپ (س) نہایت خوش اور مسرور ہویےاور اشتیاق کے ساتھ سیدہ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہراہ سلام اللہ علیہا کے بیت مبارک تشریف لے گیے اور فرمایا : «يا اسماء هاتينى ابنى»، ای اسماء میرا بیٹا مجھے لاکر دے دے. حضرت اسماء نے حکم کی تعمیل کی اور فرزند زہراء آغوش رسالت میں پہنچ گیا؛ آنحضرت(ص) نے نواسے کے دائیں کان میں اذان دی اور بائیں کان میں اقامہ پڑھی اور یہ پہلی صدا تھی جس سے اس مبارک فرزند نے سماعت فرمایی اور یہ صدا آپ (ص) کے حق کا اقرار بھی تھی اور پیغام الہی کا مصداق بھی؛ صدائے تکبیر، صدائے توحید، صدائے تہلیل، اور آپ (ع) کے جد امجد خاتم الانبياء صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم کی رسالت کی صدائے تصدیق. اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں پیروان اہل بیت (ع) پر دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں ہونے والے انتہا پسندانہ اقدامات میں نماز جماعت برپا کرنے کی اجازت نہ دینا بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی سیکورٹی حکام نے اہم شیعہ راہنما علامہ سید محمد باقر الناصر اور حاج عبداللہ المھنا سے شہر الخبر میں تحریر لی تھی کہ وہ شیعہ مساجد یا رہائشگاہوں میں نماز جماعت ادا نہیں کریں گے تا ہم اس وقت سعودی عرب کے سلفی حکام شیعہ مسلمانوں کو اس مقام پر بھی نماز جماعت قائم نہيں کرنے دے رہے ہیں جو انھوں نے الخبر شہر کے باہر نماز جماعت کے لئے کرائے پر لے رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت نے پیروان اہل بیت (ع) کی مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے کےلئے ان کے سرکردہ رہنماؤں کو بار بار تھانوں میں طلب کرنا شروع کردیا ہے۔ الراصد کے مطابق شہر الخبر کے سکیورٹی حکام نے شیعہ رہنماؤں تھانے طلب کرکے انہیں دھمکی دی ہے کہ نماز جماعت برپا کرنے کی صورت میں انہیں شدید سرکاری رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قبل ازیں بھی سعودی حکومت نے علاقے کے علماء اور عوام کو مجبور کیا تھا کہ وہ مساجد تو کیا، اپنے گھروں میں بھی نماز جماعت بپا کرنے سے اجتناب کریں۔ سعودی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں سے تنگ آکر شیعیان شہر الخبر نے شہر کے باہر ایک جگہ کرائے پر لی اور نماز جماعت برپا کرنے کا انتظام کیا لیکن سعودیوں نے اس مقام پر بھی پیروان اہل بیت (ع) کو نماز جماعت سے منع کردیا ہے۔ سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے مارچ اور اپریل کے مہینوں میں چار شیعہ عمائدین کو نماز جماعت برپا کرنے کی پاداش میں ایک مہینے تک نظر بند کردیا تھا۔ آل سعود نے گذشتہ ڈیڑھ برس میں شیعہ مسلمانوں کی نو مسجدیں بند کردی ہیں۔ یہ مسجدیں شہر الخبر، دمام، ابقیق ، راس تنورہ اور الخفجی میں واقع ہیں۔ سعودی حکومت میں وہابیوں کے اثرورسوخ کی بناپر شیعہ مسلمانوں کےخلاف تعصب برتا جاتاہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے شیعہ مسلمانوں کےخلاف سعودی حکومت کے امتیازی رویے پراحتجاج کیا ہے۔ (8/22/2010) 5 اگست ملت اسلاميہ پاکستان کے شہيد قائد اور وحدت مسلمين کے علمبردار علامہ سيد عارف حسين حسيني کي برسي ہے ۔ ان کو استعماري ايجنٹوں نے 5 اگست 1988 ء کي صبح پشاور ميں واقع اپني درسگاہ مدرسۂ جامعۃ المعارف الاسلاميہ ميں نماز فجر کے وقت شہيد کيا ۔ شہيد عارف حسيني کي شہادت کي خبر پاکستان بھر ميں جنگل کي آگ کي طرح پھيل گئي اسلاميان پاکستان ميں صف ماتم بچھ گئي اور عالم اسلام کے گوشے گوشے ميں اس بھيانک قتل پر غم و اندوہ کا اظہار کيا گيا ۔ شہيد عارف سے بچھڑنے کا غم باني انقلاب اسلامي حضرت امام خميني (رح) پر بھي گراں گذرا چنانچہ آپ نے اپنے تعزيتي پيغام ميں لکھا : " ميں اپنے عزيز فرزند سے محروم ہوگياہوں " واقعا" شہيد عارف امام خميني (رح) کے روحاني فرزند تھے ، آپ کو امام امّت سے عشق کي حد تک لگاؤتھا ، شہيد عارف نے نجف اشرف سے ہي امام انقلاب خميني بت شکن سے لو لگالي تھي ، شہيد عارف انہي ايام ميں نجف پہنچے تھے جب امام خميني (رح) جلاوطن ہوکر عراق پہنچے تھے ۔ شہيد ملّت اسلاميہ علامہ سيد عارف حسين حسيني پاکستان کے قبائلي علاقے کرم ايجنسي کے صدر مقام پاڑہ چنار سے چند کلوميٹر دور پاک افغان سرحد پر واقع گاؤں پيواڑ ميں 25 نومبر 1946 ء کو پيدا ہوئے ۔ آپ کا تعلق پاڑہ چنار کے معزّز سادات گھرانے سے تھا ، جس ميں علم و عمل کي پيکر کئي شخصيات نے آنکھيں کھولي تھيں ۔ شہيد عارف حسيني ابتدائي ديني و مروجہ تعليم اپنے علاقے ميں حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے بعض ديني مدارس ميں زيرتعليم رہے اور علمي پياس بجھانے کے لئے 1967 ء ميں نجف اشرف روانہ ہوئے ۔ نجف اشرف ميں شہيد محراب آيت اللہ مدني جيسے استاد کے ذريعے آپ حضرت امام خميني (رح) سے متعارف ہوئے ۔ آپ باقاعدگي سے امام خميني (رح) کے دروس ، نماز اور ديگر پروگراموں ميں شرکت کرتے تھے ۔ 1974 ء ميں شہيد عارف حسين حسيني پاکستان واپس آئے ، ليکن ان کو واپس عراق جانے نہيں ديا گيا تو قم کي ديني درسگاہ ميں حصول علم ميں مصروف ہوگئے ۔ قم ميں آپ نے شہيد آيت اللہ مطہري ، آيت اللہ ناصر مکارم شيرازي ، آيت اللہ وحيد خراساني جيسے علمائے اعلام سے کسب فيض کيا ۔ آپ علم و تقوي کے زيور سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ قم ميں امام خميني (رح) کي اسلامي تحريک سے وابستہ شخصيات سے بھي رابطے ميں رہے چنانچہ قائد انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي اور شہيد آيت اللہ ہاشمي نژاد کے خطبات و دروس ميں بھي شامل ہوتے رہے ۔ شہيد عارف حسيني کي انقلابي سرگرميوں کي وجہ سے آپ کو ايک دفعہ شاہي خفيہ پوليس ساواک نے گرفتار کيا ۔ شہيد عارف حسين حسيني 1977 ء ميں پاکستان واپس گئے اور مدرسۂ جعفريہ پاڑہ چنار ميں بحيثيت استاد اپني خدمات انجام ديں ، اس کے علاوہ آپ نے کرم ايجنسي کے حالات بدلنے ميں بھي اہم کردار ادا کيا ۔ جب 1979 ء ميں انقلاب اسلامي ايران کامياب ہوا تو آپ نے پاکستان ميں اسلامي انقلاب کے ثمرات سے عوام کو آگاہ کرنے اور امام خميني (رح) کے انقلابي مشن کو عام کرنے کا بيڑا اٹھايا ۔شہيد عارف حسيني نے پاکستان کي ملّت تشيّع کو متحد و منظم کرنے کے لئے بھرپور کوششيں کيں اور تحريک نفاذ فقہ جعفريہ کے قيام ميں اہم کردار ادا کيا اگست 1983ء ميں تحريک کے قائد علامہ مفتي جعفر حسين کي وفات کے بعد 1984 ء ميں پاکستان کے جيّد شيعہ علما و اکابرين کے ايما پر علامہ شہيد عارف حسيني کو ان کي قائدانہ صلاحيتوں ، انقلابي جذبوں اور اعلي انساني صفات کي بناپر تحريک نفاذ فقہ جعفريہ کا نيا قائد منتخب کيا گيا ۔ علامّہ شہيد عارف حسيني کا دور قيادت پاکستان ميں جنرل ضياء الحق کي فوجي حکومت کے خلاف سياسي جماعتوں کي جد و جہد کے دور سے مطابقت رکھتاتھا ۔ چنانچہ آپ نے پاکستاني سياست ميں کليدي کردار ادا کرتے ہوئے ملک کي تقدير بدلنے کے لئے طويل جد و جہد کي ۔ اس سے قبل پاکستاني سياست ميں اہل تشيع کا مؤثر کردار نہيں تھا ، ليکن شہيد عارف حسيني نے اپنے ملک گير دوروں لانگ مارچ کے پروگراموں ، کانفرنسوں اور ديگر پروگراموں کے ذريعے دين اور سياست کے تعلق پر زور ديتے ہوئے اپني قوم کو سياسي اہميت کا احساس دلايا ، اس سلسلے ميں لاہور کي عظيم الشان قرآن و سنت کانفرنس قابل ذکر ہے ۔ آپ پاکستاني شہري ہونے کے ناطے سياسي و اجتماعي امور ميں ہر مسلک و مکتب اور زبان و نسل سے تعلق رکھنے والوں کي شرکت کو ضروري سمجھتے تھے ۔ علامہ عارف حسين حسيني نے پاکستان ميں امريکي ريشہ دوانيوں کو نقش بر آب کرنے اور قوم کو سامراج کے ناپاک عزائم سے آگاہ کرنے کے لئے بھي موثر کردار ادا کيا ۔ علامہ شہيد عارف حسين حسيني اتحاد بين المسلمين کے عظيم علمبردار تھے ، آپ فرقہ واريت اور مذہبي منافرت کے شديد مخالف تھے ، اس سلسلے ميں آپ نے علمائے اہل سنت کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کي صفوں ميں وحدت و يک جہتي کے لئے گرانقدر خدمات انجام ديں ۔ شہيد علامہ سيد عارف حسين حسيني کي ہمہ گير شخصيت آپ کے مکتب ميں فيض حاصل کرنے والے تمام لوگوں کے لئے ايک کامل نمونے کي حيثيت رکھتے تھي ، آپ صبر و حلم ، زہد و تقوي ، ايثار و فداکاري ، شجاعت و بہادري اور حسن خلق جيسے اعلي انساني صفات سے متصف عظيم انسان تھے ۔ رات کي تاريکيوں ميں خداوند عالم سے راز و نياز اور دن کو اسلام و مسلمين کي خدمت کا جذبہ آپ کي شخصيت کا طرۂ امتياز تھا ، اس سلسلے ميں آپ اپنے جد گرامي حضرت علي (ع) کي پيروي کرتے تھے ۔ علامہ شہيد سيد عارف حسين حسيني ايک عظيم قائد ، نڈر اور بےباک رہنما ، پر خلوص اور جذبۂ خدمت سے سرشار انسان اور باعلم عالم دين تھے ، ان کي ياد تاريخ ميں ہميشہ زندہ رہے گي ۔
(8/2/2010)
سفیر نے اعلان کیا کہ ایک اور بڑے سیلاب کی پیشین گوئی ہوئی ہے اور ہم آپ کی مادی اور معنوی و روحانی امداد کے خواہاں ہیں۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: ہمیں پاکستان کے سیلاب زدگان کے مصائب سے آگاہ ہوکر صدمہ ہوا ہے، میں پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے دعا کرتا ہوں اور حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر میں درس تفسیر کے دوران بھی لوگوں سے کہوں گا کہ وہ مدد کریں۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے پاکستانی سفیر سے کہا کہ وہ پاکستان کے مسلم بھائیوں اور بہنوں کے لئے 50 ہزار ڈالر کی امداد ارسال کررہے ہیں۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے سفیر پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان میں اہل تشیع کے قتل عام کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور کہا: ہم محسوس کررہے ہیں کہ جو لوگ دینی مدارس میں علوم دینیہ سیکھنے کا شوق لے کر آتے ہیں وہابیت انہیں دہشت گردی کی تعلیم دیتی ہے اور ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پیروان اہل بیت علیہم السلام کے قتل عام کا سد باب کرے۔ قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں آیات عظام اردبیلی اور صافی گلپایگانی نے امداد رسانی کے لئے وجوہات شرعیہ سے استفادہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ (8/19/2010) ![]() ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ العظمی سید عبدالکریم موسوی اردبیلی اور حضرت آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی گلپائگانی نے اپنے الگ الگ پیغامات میں پاکستان میں رونما ہونے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات اور کروڑوں پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے بے گھر ہونے پر افسوس ظاہر کیا اور سیلاب زدگان کے لئے تیزرفتار امداد رسانی کی ضرورت پر زور دیا۔ بسم الله الرحمن الرحیم و به نستعین و صلی الله علی سیدنا محمد وآله الطیبین الطاهرین غفر الله لنا و لکم آیت الله العظمی شیخ لطف الله صافی گلپائگانی کا فتوی ادھر پاکستان میں تباہ کن سیلاب کی مناسبت سے حضرت آیت اللہ العظمی لطف اللہ صافی گلپائگانی کے دفتر نے صدمہ برداشت کرنے والے پاکستانی خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس مرجع تقلید نے اس انسانی عمل کی انجام دہی کے لئے ایک تہائی سہم امام (ع) خرچ کرنے کی اجازت دے دی ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ "مؤمنین اپنا امدادی ساز و سامان قابل اعتماد راستوں سے سانحے کا شکار ہونے والے مسلمانوں کے لئے ارسال کریں"۔ (8/17/2010)
(7/6/2010)
(7/6/2010)
لبنانی دارالحکومت بیروت سے ابنا کی رپورٹ کے مطابق "فردوس تبلیغی و ثقافتی مرکز" کے زیر اہتمام دسویں بین الاقوامی امام علی (ع) سیمینار بعنوان "امام علی بن ابی طالب؛ عدل و انسانیت کی صدا" بیروت میں منعقد ہوا۔ "حجت الاسلام والمسلمین عبدالأمیر قبلان" کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں سے مختلف ادیان و مذاہب کے نامور علمی و سیاسی شخصیات نے خطاب کیا۔ "الامام علی بن ابیطالب؛ صوت العدالةالانسانیة" کے مصنف اور نامور عیسائی اہل قلم، "جارج جرداق" اس سیمینار کی افتتاحی نشست کے مقرر تھے۔ انھوں نے کہا: اس مقام پر شیخ سے کاہن و سید و عالی مقام شخصیات اکٹھی ہوگئی ہیں تا کہ ایک امام اعظم کی یاد منائیں؛ اور ان تمام بزرگوں کی سماعت میں اس امام کی صدا گونج رہی ہے۔ انھوں نے کہا: ہر انسان کے وجود میں علی علیہ السلام کی کوئی ایک خصوصیت موجود ہے؛ اسی بنا پر ہم امام علی علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں: "آپ دنیا کے تمام انسانون سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کہ آپ کا تعلق کسی ایک قوم یا نسل یا دین سے ہی نہیں ہے۔ اس سمینار میں جبل عامل کے آرتھوڈاکس سریانی بشپ "جارج صلیبا" نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی بے مثل شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: امام علی علیہ السلام، پیغمبر (ص) کے بعد اسلام کی دوسری بڑی شخصیت دنیا کی نادر و بے مثل شخصیت ہیں۔ وہ عظیم عالم اور صاحب دانش ہیں جنہیں اللہ تعالی نے تقوی، اخلاقی فضائل، آگہی اور ذکاوت و شجاعت جیسے تحفے عطا فرمائے ہیں۔ انھوں نے کہا: ان ہی مشہور غیر مسلم شخصیات میں سے ایک، عظیم سریانی عالم "قدیس مارمیخائل کبیر" ہیں جو عیسائی دنیا کے عظیم ترین مؤرخین میں سے ہیں اور انھوں نے علی علیہ السلام کی تقدیس و تمجید کی ہے۔ جارج صلیبا نے اپنی بات کا ثبوت دیتے ہوئے کہا: امام علی علیہ السلام کا اپنے ہم عصر عیسائی علماء سے قریبی رابطہ تھا جن میں "بشپ أثناثیوس الجمال (595 ـ 631 عیسوی)، "ماروشا التکریتی (628 ـ 649 عیسوی) اور "بشپ تھیوڈور" (631 ـ 648) خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور ان کا امام علی علیہ السلام سے رابطہ توحید، محبت اور عوام کی خدمت پر مبنی تھا اور یہی عوامل اس رابطے کا سبب بنے تھے۔ بشپ جارج صلیبا نے آخر میں کہا: سریانی تاریخ کی کتابوں میں کی حکمت، معرفت اور خاص قسم کی خداداد قوتوں اور صلاحیتوں کے پیش نظر امام علی علیہ السلام کو اصفیاء اللہ کے زمرے میں قرار دیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سریانی زبان در حقیقت آرامی اور عبری زبان کا ایک لہجہ ہے اور تورات اسی زبان میں نازل ہوا ہے۔ اس زبان کا مرکز عراق کے شمال میں واقع تھا اور یہ علاقہ دوسری صدی ہجری میں عیسائیون کا گڑھ سمجھا جاتا تھا. مقدونیہ اور یونان کے عوام کے کچھ گروہ ان سرزمینوں میں آبسے تو سریانی کو دوسرے آرامی لہجوں پر فوقیت حاصل ہوئی اور یونانی الفاظ سریانی میں گھل مل گئے اور اس کی انشاء اور اسلوب میں تبدیلیاں رونما ہوئیں حتی کہ یہ ایک غنی اور مقتدر زبان میں تبدیل ہوئی۔ عیسائیت کے دینی، فلسفی اور علمی مسائل دینی مسائل کی کتابیں اسی زبان میں لکھ دی گئیں اور عیسائیت کے ادبی، تاریخی و دینی علوم اور مذہبی نظموں کی بہت سی کتابیں اسی زبان میں محفوظ ہیں۔ (7/3/2010) ولی دوجہاں ،روح اسلام، مومنین کے دلوں کا کعبہ،قران ناطق ،خلیفہ بلا فصل امام حق امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ الصلوۃ والسلام کی پرنور ولادت کی سالگرہ پر کاینات کے تمام مومنین اور علی کے محبین و عشاق کومبارک باد پیش کرتے ہیں, دعا کرتے ہیں کہ پروردگار عالم علی زمان حجت حق قایم آل محمد عجل اللہ فرجہ الشریف کے مبارک زمانہ ظہور میں جب امیر المومنین امام مطلق علی علیہ السلام کی رجعت مبارک ہو تو ہمیں بھی اٹھایے تاکہ ہم اس کا ینات کے مقدس جمال کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو منور کرسکیں الھی آمین (7/22/2007) ![]() قم المقدس کے بلند پایہ مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمی وحید خراسانی احادیث وروایات کی رو سے نیمہ شعبان کے فضایل ، اعمال اور انکا اجروثواب بیان کرتے ہوے تاکید فرماتے ہیں:تمام مومنین اور مومنات کے لیے اس عظیم ومقدس شب میں ضروری ہے کہ سورہ یس کی تلاوت اور اسے حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں ہدیہ کرنے کے بعد زیارت سلام علی آل یس پڑہی جایے اور اسکے بعد ٹھیک ۱۱ بجے دعایے فرج پڑھیں اور پروردگار متعال کی درگاہ میں اس عظیم مولود منجی اور مصلح عالم کے ظہور کی تعجیل کیلیے دعا کریں۔ (7/18/2010)
(7/14/2010) ![]() امام خمینی (رح) کی برسی کے موقعہ پر رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نےملکی اور غیر ملکی افراد پر مشتمل لاکھوں افراد کے مجمع سے اپنے عالمی خطاب کے دوران صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے یوم ولادت باسعادت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ ہم سب کوچاہئے کہ شہزادی کونین کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگی کوسنواریں اورساتھ ہی امام خمینی رہ کے مبارک نام کوزندہ رکھیں جس طرح سے ہمارے عوام نے اب تک امام خمینی کے افکار ونظریات کوزندہ رکھا ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا انقلاب کی پاسداری کے لئے معیار وشناخت مقررہونی چاہئے جس کی بنیاد پراس کی حفاظت کی جائے۔ آج انقلاب کی پاسداری کے لئے سب سے بہترمعیار وکسوٹی اورانقلاب کی پہچان خود امام خمینی (رح) کی شخصیت اوران کے نظریات و رفتار ہيں ۔بنابریں ان معیاروں اورشناخت کومسخ نہيں ہونے دینا چاہئے کیونکہ اگران معیاروں کی غلط تفسیر وتشریح کی گئی تواس صورت میں راستے سے بھٹکنے کا اندیشہ پیدا ہوجائے گا ۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ امام خمینی نے جوکـچھ بیان فرمایا تھا وہ بہت ہی شفاف تھا انھوں نے کوئی بھی بات ڈھکی چھپی نہيں رکھی تھی ۔ امام خمینی نے مغرب کی تباہ کن پالیسیوں کوبے نقاب کیا امام خمینی نے اپنے بیانات اورکردار سے سامراج اورصہیونیزم کورسوا کرکے رکھ دیا ۔ اسی لئے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ہی سے یہ دیکھا گیا ہے کہ امریکہ کا کوئی بھی صدردنیا کے کسی بھی ملک میں جاتا ہے تواس کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں، موجود ہ دورمیں قوموں کوامام خمینی نے بیدار کیا ہے . حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ امام خمینی کی نظرمیں سب سے زیادہ اہمیت اسلام کی تھی ان کی نظرمیں حکومت یا منصب کی کوئي اہمیت نہيں ہے ۔ انھوں ایسا اسلام متعارف کرایا جس کے اندرظالموں اورآمروں کے خلاف ڈٹ جانے کی پوری قوت پائی جاتی ہو۔رہبرانقلاب اسلامی نے امام خمینی کی ذاتی خصوصیات کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ امام خمینی اللہ پرتوکل کی اس منزل پرفائزتھے کہ وہ جب تن تنہا تھے تو بھی کبھی مایوس نہيں ہوئے اور جب پوری قوت اقتدار میں تھےتو اس وقت بھی ان کے اندرذرا بھی تکبروغرور پیدا نہ ہوا ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ جب عراق کی بعثی فوج نے خرمشہر پرقبضہ کیا تو وہ ذراسا بھی مایوس نہيں ہوئے اورجب خرمشہر آزاد ہوا تو بھی کوئي فخریہ بیان نہيں دیا بلکہ یہی فرمایا کہ خرمشہر کوخدا نےآزاد کرایا ہے امام خمینی نے تمام مراحل میں اللہ پربھروسہ کیا اوراس کے ساتھ ساتھ تمام امورمیں وہ تقوای کوپیشہ بنائے ہوئے تھے ۔حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ امام خمینی اپنی تحریک کوایک عالمی اورآفاقی تحریک سمجھتے تھے جوصرف مسلمانوں سے مربوط نہيں تھی بلکہ ان کا نظریہ تھا کہ اقوام عالم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داریاں کیاہيں ۔ انہی میں سے ایک فلسطین کے بارے میں امام کا نظریہ ہے ۔ جس کے تحت انھوں نے فرمایا کہ اسرائیل ایک سرطانی غدہ ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ فلسطین ایک تاریخی ملک ہے مگردنیا کے دوسرے گوشے سے کچھ لوگوں نے آکرفلسطینیوں کوان کے گھر اوروطن سے بے گھر کردیا آج کئي ملین فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگی گذارہے ہيں ۔ رہبرانقلاب اسلامی نےفرمایا کہ ایک تاریخی ملک کوجغرافیہ سے حذف کرکے اس کی جگہ ایک غیرقانونی حکومت تشکیل دے دی گئي جس کا نام اسرائیل رکھ دیا گيا ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ پہلے برطانیہ اوراس کے بعد امریکہ اورکچھ دیگرملکوں نے یہ کہا کہ فلسطین اوراس کے اصلی وارثوں کوان کے گھروں سے نکال دیا جائے اوراس کی جگہ ایک دوسری حکومت تشکیل دے کردوسری قوم کوبسایا جائے مگرامام نے اس کے مقابلے میں کہا کہ نہيں جس قوم کی سرزمین ہے اورجس کا اپنا ملک ہے وہی اپنے وطن میں رہے اورجوجعلی اورغیرقانونی حکومت تشکیل دی گئی ہے اس کونابود کیا جائے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے سوال کیا کہ ان دونوں نظریات میں کون سا نظریہ صحیح ہے تواس کا جواب یہی ہے کہ امام کا نظریہ منطقی نظریہ ہے ۔ آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے امام خمینی کے نظریات اوراسلامی نظام کے استحکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن نے جتنی زیادہ دشمنی وعداوت کا مظاہرہ کیا امام کے نظریات اوراسلامی نظام کی بنیاد یں اتنی ہی زیادہ مستحکم ہوئی ہيں اوراس کی زندہ مثال ایران پرمسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ ہے اس جنگ کے بعد ایران پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ومستحکم ہوگیا ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا اسی طرح پچھلے صدارتی انتخابات کے بعد اسلامی نظام کے دشمنوں نے اس نظام کوکمزورکرنے کی پوری کوشش کی مگرایران کے عوام نے تیس دسمبر اوراس سال گیارہ فروری کے جلوسوں میں اپنی تاریخی شرکت کے ذریعہ دنیا پراپنے مستحکم اتحاد کوبھرپور طریقے سے ثابت کردیا اوراسلامی نظام پہلے سے بھی زیادہ مستحکم ہوگیا ۔رہبرانقلاب اسلامی نے نمازکے دوسرے خطبے میں عالم اسلام بلکہ پورے دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ ان تبدیلیوں پرایران کی توجہ خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ ان میں سے ایک، مسئلہ فلسطین اورغزہ کا مسئلہ اورخاص طورپربین الاقوامی امدادی قافلے پر غدار وقسی القلب صہیونیوں کا حملہ ہے رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ مسائل اس وقت عالم اسلام کے اہم ترین مسائل ہيں ۔رہبرانقلاب اسلامی نے فلسطین کویہودی علاقے میں تبدیل کرنے کی صہیونی حکومت کی سازشوں کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ صہیونی حکام بھی اورپوری دنیا اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ غرب اردن اورفلسطین کے ديگرعلاقے جہاں وہ یہودیوں کی آبادی کے تناسب کوبڑھانا چاہتی ہے مقبوضہ علاقے ہیں پھر بھی وہ ان علاقوں کویہودی علاقوں میں تبدیل کرنے پرتلی ہوئی ہے بنابریں عالم اسلام کوچاہئے کہ وہ صہیونی حکومت کی اس درند گی اوروحشی گری کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ عالم اسلام کوچاہئے کہ غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کےلئےجہاں آئے دن صہیونی فوجی حملے کرکے فلسطینی بچوں کوخاک وخون میں غلطاں کرتے ہيں عملی اقدام کرے آپ نے فرمایا کہ صہیونی حکومت یہ سب کچھ اپنے ان حامیوں کی پشتپناہی میں کررہی ہے جوخود کوانسانی حقوق کا دعویدار کہتے ہيں۔ رہبرانقلاب اسلامی نے مغربی ملکوں اورانسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی پرتنقید کرتے ہوئے بعض عرب حکومتوں کی بھی خاموشی کی مذمت کی اوراسے ایک طرح کی خیانت قراردیا ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ جس طرح سے صہیونیوں نے بین الاقوامی امدادی قافلے پرحملہ کیا ہے وہ اس کی وحشی گری کوثابت کرتا ہے یہ قافلہ بین الاقوامی سمندری حدودمیں تھا جہاں کسی کوبھی حملہ کرنے کی اجازت نہيں ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران گذشتہ تیس برسوں سے صہیونی حکومت کی درندگي ووحشیگری کی نشاندہی کررہا ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے صہیونی حکومت کے تمام تروحشیانہ اقدمات کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے باوجود صہیونی حکومت کے اندازے غلط ثابت ہوتے جارہے ہيں صہیونیوں نے لبنان پرحملہ کیا ان کا اندازہ غلط نکلا، غزہ پرحملہ کیا ان کا اندازہ غلط نکلا اوراب بین الاقوامی امدادی قافلے پر حملہ کیا اس میں بھی ان کا اندازہ غلط نکلا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صہیونی حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں اوراس کی حیات کا خاتمہ جلد ہونےوالا ہے ۔رہبرانقلاب اسلامی نے نیویارک میں این پی ٹی کانفرنس کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ بڑی طاقتوں نے اس کانفرنس سے اسلامی جمہوریہ ایران پربندش لگانے کےلئے منصوبہ بنا رکھا تھا مگران کی ساری کوششیں ناکام ہوگئيں اوراس کانتیجہ اس کے برخلاف برآمد ہوا جو بڑی طاقتوں نے منصوبہ بنارکھا تھاآپ نے فرمایا کہ اس کانفرنس میں صہیونی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں اوراس کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کھل کرآوازاٹھائي گئي اورتمام ایٹمی ملکوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیارتباہ کرنے کے لئے قدم اٹھائيں ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے آج نہ صرف اقوام عالم بلکہ دنیا کی حکومتوں کوبھی امریکہ کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہونے اوراس کے خلاف بولنے کی جرآت پیدا کی ہے اور یہ سب اسلامی ایران کے لئے الہی بشارتوں کی نشانیاں ہيں ۔ (6/7/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لبنان کی "النشرة" ویب سائٹ نے روسی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ بدنام زمانہ صہیونی جاسوسی ادارے "موساد" نے حزب اللہ کے راہنما سید حسن نصر اللہ کا سراغ لگانے کے لئے متعدد بار کوششیں کی ہیں اور حتی دو مرتبہ یہ دہشت گرد ایجنسی ان کے بالکل قریب پہنچ گئی تھی مگر حزب اللہ کی ہوشمندی نے اس کی سازش مکمل نہ ہونے دی۔ ویب سائٹ کے مطابق صہیونی حکام نے دعوی کیا ہے کہ صہیونی ریاست نے لبنانی حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے ایک سے زیادہ مواقع ضائع کردیئے ہیں۔ النشرة نے مزید برآں کویتی روزنامے "الجریدہ" کے حوالے سے لکھا ہے کہ صہیونی ریاست نے حال ہی میں بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اپنے کٹھ پتلیوں کو ہدایت دی تھی کہ سید کو نشانہ بنائیں مگر یہ شیطانی سازش ناکام ہوگئی۔ النشرة نے مزید لکھا ہے کہ دوسری مرتبہ، جب سید حسن نصر اللہ بشار اسد اور محمود احمدی نژاد سے ملنے شام کے دورے پر گئے تھے تو صہیونی ایجنٹوں کو ان کے پروگرام کا سراغ مل گیا لیکن سید حسن نصر اللہ نے اپنی خاص روشوں سے استفادہ کرتے ہوئے صہیونیوں کے انحراف کے اسباب فراہم کردیئے اور یہ سازش بھی ناکام ہوگئی۔ بہرصورت سید حسن نصراللہ اسرائیل کے لئے ایک ناقابل حصول آرزو میں تبدیل ہوگئے ہیں جبکہ اس دہشت گرد ریاست نے اب تک حماس اور حزب اللہ کے متعدد راہنماؤں کو شہید کردیا ہے۔ (6/7/2010) رہبر انقلاب اسلامي نے 13 رجب کو مولي الموحدين حضرت علي عليہ السلام کي ولادت باسعادت کے سلسلے ميں حاضرين و مسلمانان عالم کو اس عيد عظيم الشان پر مبارکباد پيش کرتے ہوئے اس دن کو ايک عظيم دن قرار ديا اور حضرت علي عليہ السلام کي شخصيت کي عظمت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا: اس عيد کا سب سے اہم اور بڑا تحفہ يہ ہے کہ ہم اميرالمؤمنين (ع) کي راہ و روش، طرز سلوک اور کلام سے سبق سيکھيں۔ رہبر انقلاب نے حضرت امير عليہ السلام کي زندگي کو سراسر جہاد، اللہ کے راستے ميں صبر و استقامت، معرفت، بصيرت اور اللہ کي رضا کے حصول پر گامزن قرار ديتے ہوئے فرمايا: اس عظيم شخصيت نے بچپن سے ہي پيغمبر اسلام کي آغوش ميں پرورش پائي اور اپني حيات شريفہ کے مختلف ادوار ميں حق و حقيقت کے قيام اور اسلام و رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي حفاظت پر اپني جان قربان کرنے سے گريز نہ کيا اور رسول اللہ (ص) نے آپ کو ميزان حق کے عنوان سے متعارف کرايا۔ رہبر انقلاب اسلامي نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمايا: اميرالمؤمنين عليہ السلام کي شخصيت ايک استثنائي اور منفرد شخصيت ہے اور آپ (ع) علمي، معنوي، اخلاقي، انساني اور الہي عظمتوں کي چوٹي ہيں۔ آپ نے فرمايا: عالم اسلام اور آج کے معاشروں کے لئے انساني تاريخ کي اس بے مثال اور منفرد شخصيت کا اہم ترين درس بصيرت بخشي، ماحول کو روشن کرنا، اور ان لوگوں کے ايمان و افکار کو گہرائي دينا ہے جنہيں بصيرت کي ضرورت ہے۔ رہبر معظم نے امام علي عليہ السلام کي بالاترين خصلت بصيرت کے ضرورتمندوں کو بصيرت کي عطائيگي قرار ديا اور فرمايا: رائے عامہ کو روشن کرنا اور لوگوں کو آگہي بخشنا عالم اسلام اور اسلامي معاشرے کي اہم ترين ضرورت ہے کيونکہ دشمنان اسلام نے اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے دين اور اخلاق کے اوزار اٹھا رکھے ہيں چنانچہ ايسي صورت ميں ہم سب کو بيدار و ہوشيار رہنا پڑے گا۔ رہبر انقلاب نے فرمايا: جو معيار اور جو روشن راستہ اميرالمؤمنين عليہ السلام نے دکھايا وہ يہ ہے کہ معاشرے کا انتظام اسلام کے احکام کي روشني ميں چلايا جائے، جارح قوتوں کو فيصلہ کن کو جواب ديا جائے، دشمنوں کے ساتھ واضح و روشن حد بندي کا اہتمام کيا جائے اور دشمن کے فريب کے سامنے ہوشياري کي سياست اپنائي جائے۔ رہبر انقلاب اسلامي نےنصيحت کي: نہج البلاغہ کا پہلے سے زيادہ مطالعہ کريں اور اس کي نگاہوں سے اوجھل حکمتوں اور حضرت اميرالمؤمنين عليہ السلام کے کلام ميں تدبر کريں؛ نہج البلاغہ کا تعلق صرف اہل تشيع سے نہيں ہے بلکہ اہل سنت کے بزرگ علماء نے بھي اين بيانات و کلمات کے باري ميں ايسي تعبيرات پيش کي ہيں جنہيں پڑھ کر انسان حيرت زدہ ہوجاتا ہے اور حتي بہت سے غير مسلم دانشوروں اور مفکرين نے بھي نہج البلاغہ کا مطالعہ کيا ہے اور اس کي عظمت سے مبہوت ہوکر رہ گئے ہيں۔ (6/27/2010) ہماری طرف سے تمام مومنین کرام کی خدمت میں امیرالمومنین امام المتقین،مولود کعبہ، آفتاب آسمان امامت وولایت حضرت علی ابن ابیطالب علیہ الصلاۃ و السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے بلا شبہ حضرت امیرالمومنین علیہ الصلاۃ والسلام، تاریخ بشریت و اسلام کے اس عطیم امام سے محبت کرنا عالم اسلام کے عظیم مرجع آیت اللہ العظمی فاضل لنکرانی کے انتقال پرملال پر ہم امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف اور تمام مومنین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں آپ عہد حاضر کی عظیم علمی فقہی شخصیات میں سے تھے اور قم المقدس کے عظیم اشان شیعہ حوزہ کے روح وروان تھے یقینا اپکی وفات عظمی ایک ایسا بڑا خلاء ہے کہ جو کبھی بھی پر نہیں ہوگا پروردگار انکی روح پر فتوح کو محمد وآل محمد علیہم السلام کی قربت سے سرفراز کرے اور انہیں بےپناہ رحمتوں سے شاد کرے (6/20/2007)![]() ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے نظریہ مہدویت کی چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کے بانی اور مہدویت کے موضوع پرتحقیق و تألیف کے کام میں سرگرم عمل دانشوروں کے ایک گروہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مہدویت ایک عالمی موضوع ہے جس کے لئے فکر بھی عالمگیر ہونی چاہئے؛ امام عصر (عج) کا وجود مبارک ہم شیعیان اہل بیت (ع) اور اہل سنت یا یہود و نصاری جیسے آسمانی ادیان کے پیروکاروں ہی کو دعوت انتظار نہیں دیتا بلکہ پوری دنیا کو روشن مستقبل کی دعوت دیتا ہے۔ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ادیان نیوز نے لکھا ہے کہ برطانوی کیتھولک باشندہ ڈینی کائلی نے جمعرات کی شام کو دین اسلام اور مذہب اہل بیت (ع) قبول کرلیا ہے۔ ڈینی کائلی کچھ عرصہ قبل لندن میں ایک ایرانی طالبعلم سے مل کر دین اسلام کو سمجھنے میں دلچسپی کا اظہار کرچکے تھے۔ ڈینی کائلی مطالعہ و تحقیق کرنے کے بعد امام خمینی رحمةاللہ علیہ کے حرم میں حاضر ہوکر دفتر امام (رح) کے ایک رکن کے توسط سے دین اسلام کے اصولوں سے روشناس ہوئے اور جمعرات کی شام کو حجت الاسلام و المسلمین سید حسن خمینی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اور مذہب جعفری اثنی عشری کے پیروکار بن گئے اور اپنی زندگی کی پہلی نماز بھی سید حسن خمینی کی امامت میں ادا کی۔ (6/15/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی شہزادے ترکی بن عبدالعزیزآل سعود نے سعودی عرب کے حکمرانوں کو ایک خط کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ فوجی بغاوت یا عوامی انقلاب سے قبل ہی اہل و عیال کو لے کے ملک چھوڑ دیں اور مغربی ممالک میں چلے جائیں۔ قاہرہ میں مقیم ترکی بن عبدالعزیز نے سعودی حکمران خاندان سے کہا ہے کہ ان کا انجام بھی عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام اور ایران کےسابق شاہ رضا پہلوی جیسا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا ہےکہ قبل اس کے، کہ عوام گلی کوچوں میں ان کے سر قلم کرنا شروع کریں سعودی حکمران تاج و تخت چھوڑ کربیرون ملک چلے جائیں۔ انہوں نے اپنے خاندان کے نام خط لکھ کر کہا ہے: ہمارے خاندان نے اقتدار کی ذخیرہ اندوزی کرکے تمام امور مملکت کو ہائی جیک کرلیا ہے اور اپنے مخالفین کو آزردہ اور بیزار کردیا ہے اور ملک کے اندر اور پورے خطے میں ہمارے خاندان کا اثر و رسوخ ختم ہوکر رہ گیا ہے اور آل سعود اپنے آپ کو عوام پر مسلط رکھنے کی طاقت کھو چکا ہے۔ چنانچہ اس وقت عراقی آمر صدام حسین اور شاہ ایران محمد رضا پہلوی کا مقدر ہمارے خاندان کا انتظار بھی کررہا ہے۔ سعودی شہزادہ کا یہ خط منگل کے روز "واجز" خبر ایجنسی کے ذریعے شائع ہوا ہے۔ اس خط میں شہزادے نے حکمرانوں کو ملک پر حاکم (وہابی) دینی تفکر کے بارے میں بھی خبردار کیا اور لکھا: یہ تفکر ہمارے خاندان کے حکمرانوں کی بنیادیں تشکیل دیتا ہے لیکن اب یہ تفکر اس خاندان اور حکمرانوں کے قابو سے باہر ہوگیا ہے اور مخالفین کا موقف ہے کہ یہ تفکر لوگوں کی ذاتی زندگی تک میں مداخلت کررہا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: حکمران خاندان اور عوام کے درمیان فاصلی بہت زیادہ گہرے ہوچکے ہیں اور دوسری طرف سے علماء اور افواج کے افسروں اور کمانڑروں کے درمیان وسیع خلیج حائل ہے اور میں سعودی عرب کے تمام امور پر مسلط خاندان کے تمام افراد کو خبردار کرتا ہوں کہ امریکہ اور اس کے یوپی حلیفوں کی جھوٹی طفل تسلیوں کی وجہ سے خوش فہمی کا شکار نہ ہوں کیونکہ وہ آپ کو ملنے والا نقصان خود برداشت نہیں کریں گے اور پھر عوام کی طاقت کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: ملک میں میں آل سعود کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس خط میں کو تحویز دی ہے کہ سعودی خاندان کے آمرانہ طرز سلوک کے خلاف ممکنہ فوجی بغاوت یا عوامی تحریک سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سعودی خاندان اقتدار ترک کرکے چلا جائے۔ (6/10/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ترک ٹیلی ویژن چینل "چینل ـ 1" کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کے سامنے اسرائیلی طاقت "شیر کے سامنے مچھر کی طاقت" جیسی ہے۔ صدر احمدی نژاد اتوار کی شام کو ترک ٹی وی کے چینل 1 سے نشر ہونے والے انٹرویو میں ترک صحافی کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ انھوں نے اسرائیلی دھمکیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ہمیں اسرائیل کے آقاؤں کا سامنا ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے اسرائیل کی حیثیت شیر کے مقابلے میں مچھر جیسی ہے اور ایران کے ساتھ اسرائیل کی زور آزمائی کی مثال اس خرگوش کی سی ہے جو شیر کی دم سے کھیلنے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے ترکی کے دورے پر روانگی سے قبل ترک ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں امداد رسانی بیڑے پر صہیونی ریاست کے وحشیانہ حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا: غزہ کا گھیراؤ توڑنے کے لئے جانے والے کاروان آزادی اور امدادی بیڑے پر حملے کے جرم میں اسرائیل کو سزا ملنی چاہئے۔ صدر نے صہیونی حملے میں شہید ہونے والوں کے لئے رحمت و رضوان الہی اور زخمیوں کے لئے جلد از جلد شفا کی دعا کرتے ہوئے کہا: اب پہلے سے بڑا کاروان غزہ کی طرف روانہ کرنا ہوگا اور میں اس سلسلے میں دوست ممالک کے سربراہوں کے ساتھ صلاح مشورہ کروں گا۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا: غزہ کی ناکہ بندی فوری طور پر ختم ہونی چاہئے۔ (6/10/2010) ![]() بين الاقوامی گروپ: گزشتہ روز عراق كے مقدس شہر كربلا میں قديمی اور تاريخی خطی نسخوں كی نمائش میں امام سجاد علیہ السلام سےمنسوب قرآن مجيد كا خطی نسخہ نمائش كے لیے ركھا گيا ہے۔ بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" نے خبررساں ايجنسی " اصوات العراق" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ اس نمائش كے ناظم الامور نے كہا ہے كہ یہ نمائش حضرت عباس علیہ السلام كے حرم میں منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزيد كہا كہ یہ نمائش ايك ہفتہ جاری رہے گی ۔ اس نمائش میں ركھے گئے آثار يكم سے چوتھی صدی ہجری قمری سے متعلق ہیں۔_ (5/7/2009)![]() جنوبی تھائی لینڈ کے «جزیرہ پوکٹ = Phuket Island» میں شیعہ فارغ التحصیل طلبہ کے سیمینار کے بعد غضب آلود وہابیوں نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف وسیع سازشوں کا آغاز کردیا ہے. اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی – ابنا کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2009 کے آخری ایام میں شیعہ فارغ التحصیل طلبہ نے تھائی لینڈ کے جنوبی جزیرے «Phuket Island» میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا تھا جس میں شیعہ علماء «آیت اللہ مروی» اور «حجت الاسلام راستگو» سمیت متعدد سنی علماء بھی شریک ہوئے. اس سیمینار میں شیعہ اور سنی عوام اور علماء کے قریبی تعلق کی وجہ سے انتہاپسند وہابی غضبناک ہوئے اور علاقے کے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا فیصلہ کیا. تھائی مسلمانوں کے بقول وہابیوں نے وسیع سازشوں کا آغاز کیا ہے اور دیگر مسلم فرقوں کے پیروکاروں کو اہل تشیع کے خلاف اشتعال دلانے لگے ہیں. انہوں نے تشیع کے خلاف شائع شدہ کتابیں اور رسالے ایسے دور دراز جزیروں میں بھی پہنچادیئے ہیں جن تک پہنچنے کے لئے بحری جہازوں کا سہارا لینا پڑتا ہے. تھائی اہل تشیع کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کے سنی مسلمان ان کے ساتھ تعاوں کرتے ہیں اور شیعیان اہل بیت (ع) کے ساتھ رابطوں اور تعلقات سے خوش ہیں جبکہ وہ وہابیوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں. علاوہ ازیں تھائی لینڈ میں مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان بھی پرامن رابطہ پایا جاتا ہے اور بدھ مت کے پیروکار بھی مسلمانوں کے ساتھ تعاون کے خواہاں ہیں. قابل ذکر ہے کہ وہابیت وسیع پروپیگنڈا مہم اور وسیع مالی وسائل سے استفادہ کرنے کے باوجود نہ صرف مسلمانوں کے نزدیک قابل نفرت ہیں بلکہ غیر مسلم فرقے بھی ان سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے جھوٹے پروپیگڈدوں سے سخت ناراض ہیں. (5/5/2009)اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق کمبوڈین اہل سنت کے عالم دین «سيد احمد الموسوي»، نے اپنی قوم کے سرداروں کی موجودگی میں اپنے فیصلے کا اعلان کیا. سیداحمدالموسوی نے عرصہ 9 سال سعودی عرب کی جامعة المدینہ میں تعلیم حاصل کی تھی اور کمبوڈیا پہنچ کر انہوں نے اپنی قوم کو اپنی تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کیا اور قبائل کے سرداروں کے اجلاس میں اپنے فیصلے کا اعلان کردیا. (5/5/2009) ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جامعۃ الازہر مصر کے علماء، محققین، اہل فکر و ماہرین کی ایک نشست « وہابیت اسلام اور جہان کے لئے خطرہ» کے عنوان سے قاہرہ میں منعقد ہوئی جس میں وہابی فکر کی ترویج اور اس کی سرگرمیوں کو مسلمانوں اور دنیا کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دیا گیا اور اس کو صہیونی ریاست کے ہم پلہ گردانا گیا۔الازہر کے علماء و محققین نے کہا: وہابیت کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات سے اسلام کی مختلف صورت سامنے آتی ہے اور وہابیت گویا دوسروں کی تکفیر اور نفی کے مقصد سے بنائی گئی ہے اور اس کے افکار مسلم نوجوانوں کو تکفیر و ٹرسٹ کی طرف دعوت دیتا ہے اور اس کی وجہ سے تمام اسلامی ممالک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور آج کی دنیا میں سعودی عرب اور امریکا وہابی فکر کی نشر و اشاعت میں ملوث ہیں اور پوری دنیا اسی وجہ سے وسیع مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اگر امریکہ اور سعودی عرب کی وسیع حمایت نہ ہوتی تو وہابی فکر کو آسانی سے مٹایا کیا جا سکتا تھا کیونکہ وہابیت زور زبردستی اسلام کے نام پر منحرف افکار کو فروغ دے رہی ہے۔ نشست کے شرکاء نے وہابیت کو حقوق نسوان اور علم و ہنر کا دشمن قرار دیا جبکہ ان کی یہ روش مسلّم اسلامی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا: وہابیت خواتین، علم و ہنر، تشیع اور مسیحیت جیسے آسمانی ادیان کے خلاف نہایت منفی رویہ رکھتی ہے اور لوگوں کو جہالت کی طرف بلاتی ہے اسی بنا پر لوگ وہابیوں کو غیر مسلم اور ان کے دین کو دین اسلام سے مختلف سمجھتے ہیں کیونکہ وہابی دین کے نام پر بے گناہ انسانوں کا قتل عام کر رہے ہیں جس کی مثالیں عراق افغانستان و پاکستان میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ (5/4/2010)
![]() فكرونظر گروپ: ۴ جون ۲۰۰۹ء كو روس كے دارالحكومت ماسكو میں ايرانی كلچرل سنٹر كی كوششوں سے " امام خمينی (رح) كی شخصيت اور افكار" كے موضوع پر ايك سيمينار منعقد ہو گا۔ بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق اس سيمينار میں روس میں ايرانی سفير " سجادی"، ايرانی كلچرل سنٹر كے انچارج "ابراہيمی تركمان" اور اسلامی مركز مطالعات كے سربراہ شركت كریں گے۔ روسی اور ايرانی دانشور اس سيمينار میں امام خمينی (رح) كی شخصيت اور افكار كے موضوع پر اپنے آرٹيكلز پيش كریں گے۔ اس كے علاوہ امام خمينی (رح) كی كتب پر مشتمل ايك نمائش بھی منعقد كی جائے گی۔ ياد رہے كہ اس سيمينار میں امام خمينی (رح) كی شخصيت اور افكار كے موضوع پر پيش ہونے والے مقالات كو امام خمينی (رح) كی ۲۰ویں برسی كی مناسبت سے شائع كيا جائے گا۔ (5/27/2009)![]() اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی نے تہران کے سہ فریقی اجلاس کو تین ملکوں کی ضرورت قرار دیا اور فرمایا: میں پوری قوت کے ساتھ سہ فریقی مفاہمت کی حمایت کرتا ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ تین ملکوں کے صدور کی صداقت پر مبنی کوششوں کے سائے میں تین ملکوں کے درمیان حاصل ہونے والی مفاہمت نتیجہ بخش ہوگی. انقلاب اسلامی کے رہبر معطم نے تین ملکوں کے درمیان دینی اور تہذیبی اشتراکات، مشترکہ تاریخ نیز تین پڑوسی ممالک «ایران، پاکستان اور افغانستان» کے مشترکہ دشمنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انتہاپسندی نے نہ صرف خطے کے ممالک اور اقوام کے لئے مشکلات کھڑی کردی ہیں بلکہ دوسروں کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں اور یہ مسئلہ آج ان لوگوں کی گردن میں پڑ گیا ہے جنہوں نے ابتدا ہی سے دولت اور پالیسیوں کے ذریعے اس انتہاپسندی کی پرورش کی تھی. حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فوجی مداخلت کو علاقے کے لئے ایک اہم مسئلہ قرار دیا اور فرمایا: امریکہ ان مشکلات اور واقعات کے اصلی سبب کے عنوان سے علاقے کی قوموں کے بیچ نہایت منفور اور قابل نفرت ہوچکا ہے. انقلاب اسلامی کے رہبر معظم نے دو پڑوسی ممالک «پاکستان اور افغانستان» کی ترقی اور امن و استحکام کو ایران کے لئے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے اس طرح کے اجلاسوں کے جاری رہنے کی ضرورت پر تاکید کی اور فرمایا: عمل اور تعاون صرف سیاسی اور امن و امان کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ تین ملکوں کے درمیان اقتصادی اور ترقیاتی میدانوں میں تعاون کے لئے بھی وسیع امکانات موجود ہیں. اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے اس ملاقات میں سہ فریقی کانفرنس کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے تین ملکوں کے صدور کے اجلاس کو نہایت دوستانہ اور خالصانہ قرار دیا اور کہا: اس اجلاس میں تینوں ملکوں کا موقف نہایت شفاف انداز میں پیش کیا گیا اور سربراہی اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے تمام راستوں پر غور و خوض کیا گیا. محمود احمدی نژاد نے انتہاپسندی، فوجی مداخلتوں ، منشیات اور دہشت گردی کو خطے کے بنیادی مسائل قرار دیا اور کہا: تہران میں منعقدہ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں 25 نکاتی مشترکہ بیان تدوین کیا گیا اور تینوں ملکوں نے اس بیان کی توثیق کردی. صدرپاکستان نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ اپنی گذشتہ ملاقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گذشتہ ملاقات میں عالی جناب کی رہنمائیوں کی بدولت تہران - اسلام آباد کی دوطرفہ تعلقات میں نئے ابواب کھل گئے اور ہمیں امید ہے کہ تین ملکوں کے تعاون کی برکت سے موجودہ چیلنجوں پر غلبہ حاصل کرلیں گے. اس ملاقات میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی کہا: آج کے اجلاس نے مفاہمتوں اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے نہایت مناسب موقع فراہم کیا. (5/25/2009)![]() بين الاقوامی گروپ: يونانی پوليس اہلكار كی طرف سے قرآن مجيد كے ايك نسخے كو پھاڑنے پر يونان كے دارالحكومت "ايتھنز" میں ۲۱ مئی ۲۰۰۹ء كو مسلمانوں نے مظاہرہ كيا ہے۔ بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" نے " العربیہ رائٹرز" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ يونان میں مسلمان رہنما" نعيم الغندور" نے كہا ہے كہ چند روز پہلے يونان میں مسلمانوں كے ايك ريسٹورنٹ میں ايك پوليس اہل كار نے سرعام قرآن مجيد كے ايك نسخے كو پھاڑ كر اپنے پاؤں كے نيچے روندا ہے۔ انہوں نے مزيد كہا كہ اس اقدام كی وجہ سے يونان كے مسلمانوں میں غم وغصے كی لہر دوڑ گئی ہے۔ قرآن مجيد كی اس بے حرمتی پر مسلمان "ايتھنز" كی سڑكوں پر نكل آئے ہیں۔ يونانی پوليس كی طرف سے بھی اعلان كيا گيا ہے كہ وہ اس واقعے كی تحقيقات كر رہی ہے اور اس واقعے میں ملوث پوليس اہل كار كے خلاف قانوی كاروائی كرتے ہوئے اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ (5/24/2009)![]() حوزہ علمیہ قم نیوزکے مطابق ولیعصر (عج) اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق آیت الله العظمی شیخ محمد تقی بہجت رضوان اللہ تعالی علیہ اب سے تھوڑی دیر قبل مذکورہ اسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے ہیں. آیت اللہ العظمی بہجت آج صبح 3بجکر 10 منٹ پر دل کا دورہ پڑنے کی بنا پر اسپتال منتقل کئے گئے تھے جہاں تقریبا 15 گھنٹوں تک ان کی جان بچانے کی کوششین کامیاب نہ ہوسکیں. مختصر حالات زندگی: حضرت آیة اللہ العظمی حاج شیخ محمدتقی بہجت سن ۱۳۳۴ ہجری قمری میں فومن نامی شہرمیں پیداہوئے ۔ آپ کے والدکربلائی محمودبہجت اپنے علاقہ کی ایک مورد اعتماد شخصیت تھے۔ آیة اللہ بہجت نے اپنی ابتدائی تعلیم فومن کے مکتب خانہ میں حاصل کی اور ادبیات قمری پڑھنے کے بعد وہ قم آئے اوریہاں پرتھوڑاعرصہ رک نے کے بعد کربلائے معلی تشریف لے گئے ۔ وہاں پرانہوں نے آیة اللہ العظمی ابوالقاسم خوئی سے کسب فیض کیا۔ سن ۱۳۵۲ ہجری قمری میں اپنی تعلیم کوپوراکرنے کے ہدف سے انہوں نے نجف کاسفراختیارکیااوروہاں پ رآخوندخراسانی کے ایک شاگردسے علم حاصل کرتے ہوئے آیة اللہ آقاضیاء عراقی اورآیة اللہ نائینی کے درس میں شریک ہو نے لگے ۔ اس کے بعدانہوں نے آیة اللہ حاج شیخ محمدغروی اصفہانی سے بھی استفادہ کیا۔ انہوں نے آیة اللہ العظمی حاج سیدابوالحسن اصفہانی اورحاج شیخ محمدکاظم شیرازی سے بھی علم حاصل کیا ۔ ا نہوں نے علم فقہ واصول کے علاوہ ابن سیناکی کتاب اشارات اورملاصدراکی کتاب اسفارکومرحوم سیدحسین بادکوئی سے پڑھا۔ سن ۱۳۶۴ ہجری قمری میں ایران واپس آکرقم میں آیة اللہ بروجردی اورآیة اللہ کوہ کمری سے فقہ واصول میں استفادہ کیا۔ وہ تقریبا ۵۰ سال سے اپنے گھر پر ہی فقہ واصول کادرس خارج دے رہے تھے۔وہ اس وقت قم کے عظیم علماء میں گنے جاتے تھےاوراپنے زہدو عرفان کے لئے شہرہ آفاق تھے سینکڑوں اور ہزاروں علماء نے آپ کے حضور علمی اور روحانی فیض حاصل کیا آپ اخلاق و عرفان و سیرو سلوک کے سفر میں عظیم مینارہ نور تھے دنیا بھر میں لاکھوں کڑوروں آپکے مقلدین اور معتقدین کے دل وروح آپکے پاکیزہ نفس و روان سے روشن ہیں۔آپکی وفات پرملال سے قم کی علمی و معنوی فضاء میں ایسا خلاء پیدا ہوا ہے جو شاید کبھی بھی نہ پر ہو آپ اپنی مثال آپ تھے کہ جنکا ذکر و ورد امام زمان (عج)کے ذکر سے جڑا ہوا تھا اور انکی خلوت و جلوت امام کے حضور و یاد سے روشن تھی انکی وفات پر ہم امام زمن(عج)کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہیں۔ رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کا پیغام بسم اللہ الرحمن الرحيم اناللہ و انااليہ راجعون ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ خبر ملی کہ عالم ربانی، فقیہ عالیقدراورعارف روشن ضمیر حضرت آيتاللہ آقاي حاج شيخ محمد تقي بہجت (قدس اللہ نفسہ الزكيۃ) دنیائے فانی سے وداع کرکے جوار رحمت حق میں مقیم ہوئے. میرے لئے اور مرحوم کے تمام عقیدتمندوں کے لئے یہ نہایت بھاری صدمہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے. ثلم في الاسلام ثلمۃ لا يسدہا شيئ. (= اسلام کی دیوار میں ایسا شکاف پڑ گیا ہے جسے کسی صورت نہیں کیا جاسکتا). مرحوم، جو کہ معاصر مراجع تقلید میں ایک ابھرے ہوئے مرجع شمار ہوتے تھے، اخلاق و عرفان اور بے انتہا معنوی فیوضات کا سرچشمہ بھی تھے. اس پرہیزگار پارسا کا نورانی اور خالص قلب خداوند قدوس کا کا چمکتا آئینہ اور ان کا معطر کلام سالکین و صالحین کے فکروعمل کے لئے راہنمائی کا سرمایہ تھا. مین اپنی مخلصانہ تعزیت حضرت بقیة اللہ (ارواحنا فداہ) کے حضور عرض کرتا ہوں اور حضرات علمائے اعلام، مراجع عظام اور مرحوم کے شاگردوں، عقیدتمندوں اور ان کے فیض وجود سے مستفیض ہونے والوں، خاص طور پر ان کے خاندان مکرم کو تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں اور اپنے لئے اور دیگر سوگواروں کے لئے خداوند متعال سے تسکین اور مرحوم کے لئے رحمت و مغفرت کی التجا کرتا ہوں.
والسلام عليہ و رحمۃ اللہ سيد علي خامنہاي 17مئی 2009 23 جمادي الاولي 1430 (5/18/2009) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ کانفرنس فرقہ واریت اور مذہبی اختلافات کی تحقیق اور روک تھام کے لئے منعقد کی گئی تھی نیز وحدت بین المسلمین جہان کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔علماء جامعہ ازھر کہ جن میں نمایاں طور پر شیخ محمد عاشور رئیس دارالتقریب بین مذاهب اسلامی تھے نے اس بات پر تاکید کی کہ دنیا میں مسلمانوں کے درمیان اختلافات کی اہم وجوہات وہابی افکار کا پھیلاو ، امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ فقط امریکہ اور اسرائیل ہیں کہ جو مسلمانوں میں اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔علماء جامعة الازھر نے اس بات پر تاکید کی کہ اسلام ایک دین ہے اور فرقہ واریت ایسی بدعت ہے جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ (5/16/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں پرامن اور مہذب انداز سے اپنے جمہوری حقوق کے مطالبے کے لئے مظاہرے اور ریلیاں منعقد کرنے والے شہریوں کے خلاف غیر انسانی اور وحشیانہ روشیں استعمال کی گئی ہیں اور پر امن شہریوں کے خلاف مندرجہ ذیل غیر انسانی اقدامات ہوئے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ 1۔ مظاہرین اور معترضین کا قتل عام 14 فروری 2011 سے لے کر کم از کم 30 بحرینی شہری قابض آل سعود اور غاصب آل خلیفہ کے کرائے کے جلادوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔ 2۔ جیلوں میں تشدد اور قتل 26 اپریل تک 5 بحرینی شہری نہایت مشکوک حالت میں جیلوں میں قتل ہوئے ہیں جبکہ ان کے جسموں پر آزار و اذیت اور تشدد کے نشانات ہویدا تھے اور ان کے جسموں کا کوئی حصہ بھی تشدد سے محفوظ نہیں بچا تھا۔ آل خلیفہ کے حکام نے حتی ان کے پوسٹ مارٹم کی اجازت بھی نہیں دی۔ 3۔ خواتین سیاسی و سماجی کارکنوں کا قتل، خواتین پر تشدد اور زیادتی ویسے تو 100 سی زاید خواتین آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں بند ہیں اور کئی ابھی تک قتل ہوچکی ہیں تا ہم 20 سالہ شاعرہ آیات القُرمُزی کا کیس خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک خاص طور پر قابل ذکر ہے جنہیں 30 مارچ کو گھر سے اغوا کیا گیا ہے اور ان کے بارے میں کوئی اطلاع دستیاب نہیں ہے اور ان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق آل خلیفی ولیعہد سلمان بن حمد بن عیسی نے ذاتی طور پر ان پر تشدد کیا ہے اور انہیں مارا پیٹا ہے اور آل خلیفی گماشتوں نے ان پر زیادتی کی ہے۔ 100 سے زاید اسیر خواتین میں 10 لیڈی ڈاکٹرز اور 6 ٹیچرز بھی شامل ہیں۔ 4۔ تمام طبی مراکز کی ناکہ بندی بحرین کے تقریباً تمام اسپتال اور کیلینکس نیز ڈسپنسریوں کے گرد آل سعود اور آل خلیفہ کے گماشتوں نے ناکے لگائے ہوئے ہیں، زخمیوں کو اسپتالوں سے اغوا کیا جاتا ہے اور ڈاکٹروں کی اکثریت جیلوں میں ہے جن میں سے کئی ڈاکٹروں کو اپنے حلف پر عمل کرکے زخمیوں کے علاج کی پاداش میں فوجی عدالت میں مقدمات کا سامنا ہے۔ منامہ کا سلمانیہ اسپتال آل خلیفہ اور آل سعود کی فورسز کے قبضے میں ہے اور اگر کوئی زخمی اس اسپتال میں علاج معالجے کے لئے داخل کیا جائے تو اس کو فوری طور پر گرفتار کیا جاتا ہے۔ اس اسپتال کے عملے کے دسیوں اراکین کو برخاست کرکے قید کیا گیا ہے۔ 5۔ راتوں کو گھروں سے اغوا کی وارداتیں کئی سو افراد کو راتوں کے وقت ان کے گھروں سے اٹھاکر اغوا کیا گیا ہے جن میں انسانی حقوق کے فعال کارکن عبدالہادی الخواجہ اور محمد التاجر بھی شامل ہیں۔ عبدالہادی الخواجہ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہیں شدید ترین ٹارچر کا سامنا ہے؛ آل خلیفہ اور آل سعود کے جلاد انہیں زخمی کردیتے ہیں اور زخموں کو ٹانکے لگواتے ہیں اور پھر ٹانکوں کے مقام پر دوبارہ زخم لگائے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں صحیح اطلاعات کسی کے پاس نہیں ہیں لیکن جن لوگوں نے انہیں ملٹری اسپتال میں دیکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ عبدالہادی الخواجہ کا چہرہ تشدد کی وجہ سے بدل گیا ہے اور پہچاننے کے قابل نہیں رہے ہیں اور وہ نہ تو کچھ بول سکتے ہیں اور نہ ہی اٹھ کر بیٹھ سکتے ہیں۔ 6۔ اساتذہ اور طلبہ کی برخاستگی اب تک بحرین کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے 200 سے زاید طلبہ اور 40 سے زائد اساتذہ اور تعلیمی مراکز کے عملے کے دوسری اراکین برخاست کئے گئے ہیں اور بعد میں انہیں آل خلیفہ اور آل سعود کے اذیتکدوں میں پہنچایا جاچکا ہے۔ 7۔ ہڑتالوں میں شریک مزدوروں اور کارکنوں کی برخاستگی 12 اپریل 2011تک 652 مزدور اور کارکنوں کو برخاست کیا گیا تھا لیکن جدید ترین اعداد و شمار کے مطابق برخاست شدہ مزدوروں اور سرکاری ملازمین کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے اور صورت حال یہ ہے کہ وزارت تیل کے اکثر کارکنوں کی برخاستگی کی بنا پر بحرین کی تیل کی پیداوار میں شدید کمی آئی ہے۔ 8۔ عالمی قوانین میں تسلیم شدہ مزدور یونینوں کے خلاف کاروائیاں آل خلیفہ اور آل سعود نے تیل صنعت کی مزدور یونین، اساتذہ یونین اور نرس یونین کو ختم کرنے کے لئے ان کے سربراہوں کو گرفتار کرلیا ہے اور ان تین یونینوں کے ہزاروں اراکین کو کام سے برخاست اور سینکڑوں کو پابند سلاسل کردیا ہے۔ 9۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی برخاستگی اور گرفتاری انقلاب بحرین کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد آل سعود اور آل خلیفہ کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں اور انہیں بحرینی ڈاکٹروں اور نرسوں نے علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچائی ہیں چنانچہ آل خلیفہ اور آل سعود ان تمام ڈاکٹروں اور نرسوں کو گرفتار کرچکے ہیں جنہوں نے اپنے فریضہ منصبی کے تحت دکھی انسانیت کا علاج معالجہ کیا ہے۔ 10۔ مظاہرین پر حد سے زیادہ تشدد اور انہیں کچلنے کے لئے ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال ویسے تو یہ بات اپنی جگہ ایک سوال ہی ہے کہ تشدد کی حد کیا ہوتی ہے؟ کیا تشدد ایک خاص حد تک جائز ہے؟ لیکن ہم بھی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے پیش نظر یہاں یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ بحرین میں آل خلیفی غاصبین اور آل سعودی قابضین حد سے زیاده تشدد کررہے ہیں، وہ عوام کے خلاف ریپیٹرز بندوقوں کا کھلا استعمال کررہے ہیں، ان کے خلاف زہریلی گیسیں استعمال کرتے ہیں اور ان کے گھروں میں صوتی بم پھینکتے ہیں جبکہ عالمی قوانین کے تحت مظاہرین کے خلاف ان ہتھیاروں کا استعمال منع ہے، پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد منع ہے اور گھروں کو نشانہ بنا کر بچوں اور خواتین کو ہراساں کرنا انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ 11۔ مذہبی مقامات پر حملے اب تک بحرین میں آل خلیفہ اور آل سعود نے 70 سے زائد مساجد اور حسینیات کو شہید کردیا ہے اور قرآن کے دسیوں نسخوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ اور یہ سب طے شدہ منصوبے کے تحت ہورہا ہے جبکہ یہ اقدام بھی عالمی قوانین کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ 12۔ سیاسی قائدین کے گھروں کو منہدم کرنا قابض آل سعود اور غاصب آل خلیفہ نے اب تک متعدد سیاسی قائدین کی رہائشگاہوں کو منہدم کردیا یا نذر آتس کیا ہے۔ 13۔ قبرستانوں پر حملہ قابض آل سعود اور غاصب آل خلیفہ نے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی نیت سے قبرستانوں کو بھی اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ہے اور کئی مرحومین کی لاشیں اکھاڑ پھینکی ہیں جس سے فرقہ وارانہ تعصب کا شائبہ بخوبی واضح ہے اور اس کی مثال پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کی کارکردگی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ 14۔ شیعہ اور سنی انقلاب عوام کو فرقہ واریت میں الجھانا آل خلیفہ اور آل خلیفہ کے غاصبین اور قابضین سے وابستہ نقاب پوش غنڈوں نے متعدد بار شیعہ دینی مراکز پر حملے کرکے یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ گویا یہ حملے بحرین کی مقامی سنی آبادی کی طرف سے ہورہے ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اہل تشیع کو اہل تسنن کے خلاف اشتعال دلایا جائے اور بحرین میں فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع کروائی جائیں اور دنیا والوں کو کہہ دیا جائے کہ بحرین میں واقعی کوئی انقلاب شروع نہیں آیا بلکہ یہ سب صرف ایک فرقہ وارانہ فتنہ ہے جبکہ بحرین کے شیعہ اور سنی عوام انقلاب میں برابر کے شریک ہیں اور وہ اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ (5/12/2011) ختمی مرتبت پیغمبراعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ اور صادق دوجہاں فقہ جعفریہ کے بانی امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعا دت تمام دنیاے تشیع اور مومنین کرام کو مبارک ہو دعا ہے کہ پروردگار ہمیں ان الہی حجج کی سیرت کے پاکیزہ اور مقدس نقوش کو اپنا اسوہ عمل قرار دینے کی توفیق فر ماے (4/7/2007)
الهم بلغ مولانا الامام الهادی المهدی ماہ ربیع اول کی نہم اور حضرت امام مہدی (عج) کی امامت ولایت کا پہلا مبارک دن دنیا کے تمام شیعہ اور مومنین کرام کو مبارک ہو ۔ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار اسی سال آپ کے مبارک ظہور کے اسباب فراہم کرے اور ہمیں ان کا مقدس دیدار عطا ہو اور آپکے انصار کے زمرہ میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہو (4/4/2007)
ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الوفاق الاسلامی الوطنی جمعیت کے سیکریٹری جنرل شیخ علی سلمان نے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت روز بروز اپنے جبر میں شدت لارہی ہے، عوام کو نوکریوں سے نکال رہی ہے اور بیرونی فورسز کی مدد سے عوامی احتجاج کو کچلنے پر اصرار کررہی ہے جبکہ اس ملک کی اکثریت ہی آل خلیفہ حکمرانی کے خلاف ہے۔شیخ علی سلمان نے سوال اٹھایا: یہ صورت حال کب تک جاری رہ سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: اپوزیشن جماعتیں عوام کو اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھنے کی دعوت دیتی ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ بحرینی نوجوان کب تک ہماری اس دعوت کی پابندی کرسکیں گے اور پر امن جدوجہد کو کب تک جاری رکھ سکیں گے؟۔ انھوں نے منامہ میں ہی ایک انٹرویو کے دوران کہا: نوجوانوں کا غصہ ضرور شدید سے شدیدتر ہوگا کیونکہ وہ اپنی آنکھوں سے اپنے بھائیوں حتی بہنوں کی گرفتاریاں دیکھ رہے ہیں اور اپنے والدین کو سرکاری اداروں اور کمپنیوں سے برخاست ہوتا دیکھ رہے ہیں ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ان نوجوانوں کو پر امن جدوجہد کا پابند رکھا جائے؟ یقینی امر ہے کہ حکومت کے ان اقدامات سے جدوجہد میں شدت آئے گی۔ انھوں نے کہا: کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک تحریک کو اس صورت حال میں بھی اپنے اصولوں کے مطابق پر امن انداز سے آگے بڑھا سکے اور نوجوانوں کے غضب کے عظیم دھماکے کا سد باب کرسکے۔ یاد رہے کہ جمعیت الوفاق بحرین کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے جس نے گذشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات میں آل خلیفی دھاندلیوں کے باوجود 40 رکنی پارلیمنٹ میں اٹھارہ سیٹیں حاصل کی تھیں اور جب وسط فروری میں آل خلیفہ نے تشدد آمیز کاروائیاں کرکے آٹھ نوجوانوں کو شہید کیا تو اپوزیشن کے اٹھارہ شیعہ اور چار سنی ارکان پارلیمان نے استعفے دیئے اور یوں بحرینی پارلیمان مکمل طور پر تحلیل ہوگئی اور یوں بحرینی آل خلیفہ کی واحد جمہوری علامت بھی رخصت ہوگئی۔ (4/23/2011) ![]() اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق سوڈانی مصنف اور سابق قاضی «شیخ النیّل عبدالقادر محمد ابو قرون» - جو عرصہ دراز سے مذہب تشیع قبول کرچکے ہیں – اردن میں صحابہ رسول (ص) کی توہین کے حوالے سے مورد الزام ٹہرے ہیں. اردن کے نشریات و مطبوعات کے ادارے کے ڈائریکٹر «نبیل المؤمنی» نے توہین صحابہ کے الزام میں شیخ «النیل عبدالقادر ابوقرون» کے خلاف پٹیشن دائر کی ہے. المؤمنی نے شیخ ابوقرون کی کتاب «رسائل الشيخ النيل، مراجعات في الفكر الإسلامي» کو اپنے الزام کا ثبوت قرار دیا ہے جس میں المؤمنی کے بزعم شیخین اور ام المؤمنین عائشہ کی توہین ہوئی ہے. انہوں نے کہا ہے کہ شیخ النیل پر مقدمہ، اردن کے نشریات و مطبوعات کے قانون کے مطابق ہے جس میں ادیان کی توہین پر مبنی کسی بھی قسم کے مضمون کی اشاعت ممنوع قرار دی گئی ہے. المؤمنی نے اس کتاب کو شائع کرنے والے اشاعتی ادارے "دار الورد للنشر والتوزيع" کے خلاف بھی پٹیشن دائر کی ہے اور ان کے ادارے نے اردن میں اس کتاب کی اشاعت اور فروخت پر بھی پابندی لگادی ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ المؤمنی نے اس کتاب کے کونسے حصے کو لائق گرفت قرار دیا ہے؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ شیخ النیل نے اپنی کتاب میں بعض تاریخی حقائق پر سے پردہ اٹھایا ہے اور اہل سنت کی متعدد کتابوں کے عین مطابق صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر علم حدیث کے حوالے سے تنقید کرتے ہوئے مسلم اور بخاری کی عصمت کے حوالے سے بعض مورخین و محدثین کے اقوال کی تردید کی ہے. یادرہے کہ وضع و جعل حدیث کے سلسلے میں اہل سنت کی متعدد کتابوں میں تاکید ہوئی ہے کہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں بھی موضوعہ احادیث موجود ہیں. اہل سنت کے نوجوانون کو شیعہ کتابوں سے دور کرنے کی پرانی روش سے استفادہ کرتے ہوئے مطبوعات و نشریات کے اردنی ادارے نے ادارہ اوقاف کے نام اپنی رپورٹ میں لکھا ہے: «یہ کتاب متعدد مغالطون کا مجموعہ ہے جس میں شریعت مطہرہ کی تضحیک ہوئی ہیں(!) چنانچہ سفارش کی جاتی ہے کہ اس کتاب کی اشاعت و فروخت کا اجازت نامہ منسوخ کیا جائے». دریں اثناء اردن کے ادارہ اوقاف نے قبل از این اس کتاب کی اشاعت کی اجازت دے دی تھی. قابل ذکر ہے کہ شیخ النیل ابوقرون سوڈان کے نئی شیعیان اہل بیت (ع) میں مشہورترین شخصیت گردانے جاتے ہیں جنہوں نے سوڈان میں «خلوة اہل البیت» نامی ادارہ قائم کیا ہے اور اس ادارے میں اہل بیت علیہم السلام کی ولادت و شہادت کے سلسلے میں محافل و مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہے اور یہ ادارہ دریائے نیل کے مشرقی کنارے پر واقع ہے جس سے تعلیمات اہل بیت (ع) کی تدریس و تربیت کا استفادہ بھی کیا جاتا ہے. یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سنہ 2002 میں ایک متعصب ویب سائٹ نے لکھا تھا کہ شیخ النیل نے توبہ کرکے مذہب تشیع کو ترک کردیا ہے مگر اب ثابت ہورہا ہے کہ یہ پروپیگنڈا بے بنیاد تھا. شیخ النیّل سابق سوڈانی صدر «جعفر نمیری» کے دور میں سوڈان کے شرعی قوانین کی تدوین کے عمل میں شریک رہے ہیں اور اس وقت تألیف و تبلیغ کے کام میں مصروف عمل ہیں. (4/19/2009)یکم مارچ اور ۱۱ صفر بروز جمعرات کو قم المقدس میں مدرسہ عالی دار الشفاء کے سیمینار ہال میں مہدویت انسیٹیٹیوٹ اور دیگر مراکز کی طرف سے عاشورا اور انتظار کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا اس سیمینار سے حوزہ اور یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی دانشور شخصیات ،آیات کرام اور محترم اساتذہ نے خطاب فرمایا (3/8/2007) ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق کل بحرين کے شيعہ اور سني عوام نے ميدان اللؤلؤة سے مسجد الفتح تک آٹھ کلوميٹر کي انساني زنجير تشکيل دے کر شيعہ اور سني عوام کے درميان اختلاف انگيزي کي سازش کو ناکام بنايا۔کل جب انساني زنجير تشکيل دينے والے سينکڑوں شيعہ اور سني مسلمانوں نے مسجد الفتح ميں نماز ادا کرنے کے لئے مسجد کي طرف رجوع کيا تو اسے ہر طرف سے بند پايا اور معلوم ہوا کہ نام نہاد وزير "انصاف!" نے مسجد انتظاميہ سے کہا ہے کہ مسجد ميں کسي کو نماز ادا کرنے کي اجازت نہ دے۔ آٹھ کلوميٹر انساني زنجير تشکيل دينے والوں نے مسجد کے پاس بھي انساني زنجير تشکيل دينے کي ح؛قت عملي سے فائدہ اٹھانے کا فيصلہ کيا اور مسجد کو محاصرے ميں لے کر انتظاميہ کو مسجد کھولنے پر آمادہ کيا جس کے بعد شيعہ اور سني مسلمانوں نے مشترکہ طور پر نماز جماعت ادا کي۔ واضح رہے کہ آل خليفہ خاندان نے آج تک اس ملک پر يہ کہہ کر حکومت کي ہے کہ "آل خليفہ حکام سني ہيں اور سنيوں کے نمائندے ہيں" يوں انھوں نے اہل سنت کي آبادي کو بھي اپنے مفاد ميں استعمال کيا ہے اور اسي بہانے سنيوں کا اہل تشيع سے بھي زيادہ استحصال کيا ہے کيونکہ آل خليفہ کے نزديک شيعہ اور سني ميں کوئي فرق نہيں ہے اور دونوں مکاتب کے پيروکاروں کو آل خليفہ کے سامنے سرتسليم خم کرنا چاہئے۔ يہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ مسلسل دھرنوں اور مظاہروں کے بعد حکومت نے تقريباً 300 سياسي قيديوں کو رہا کيا جن ميں غالب اکثريت اہل سنت برادران کي تھي اور اس کي وجہ يہ ہے کہ آل خليفہ سني مسلمانوں کو بولنے کا حق بھي نہيں ديتے اور ان کا خيال ہے کہ شيعہ اکثريت پر آل خليفہ کي حکمراني يقيني بنانے کے لئے اہل تسنن کا آل خليفہ خاندان کي حکومت کي حمايت کے سوا کوئي فريضہ نہيں ہے جس کي مثال سني راہنما محمد بوفلاسہ کي گمشدگي ہے جنہوں نے دو ہفتے قبل ميدان اللؤلؤة ميں دھرنے سے خطاب کيا تھا اور اسي دن رات کے وقت اغوا کئے گئےتھے اور شيعہ اور سني عوام نے ان کي بازيابي کا مطالبہ کيا۔ (3/7/2011) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مخالف ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سابق عراقی وزیر اعظم ایاد علاوی ـ جو شیعہ خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود اردن اور سعودی عرب کا قریبی حلیف اور عراق میں اکثریتی شیعہ آبادی کی حکومت کے قیام کے مخالف ہیں ـ نے حال ہی میں سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات اور بات چیت کی اور سعودی بادشاہ نے ان سے کہا: "اگر آئندہ پارلیمانی انتخابات میں آپ لوگ کامیاب نہیں ہوئے تو حکومت میں اقتدار حاصل کرنے والے والے شیعہ راہنماؤں کو فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹا دیں"۔ سعودی سیکورٹی مشینری کے سربراہ "امیر مقرن بن عبدالعزیز" اس ملاقات میں ایاد علاوی کے ساتھ اس مشترکہ نکتے پر متفق ہوگئے ہیں کہ سابق بعثی فوج کے بہت سے افسر اپنے مناصب پر بحال کئے جائیں اور اگر حکومت کے مخالفین امریکیوں کی حمایت سے انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کرسکیں تو یہ افسر عراق کی شیعہ حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کریں گے اور اہل تشیع کو اقتدار سے محروم کرکے عراق کو ایک بار پھر بعثی اقتدار اور اقلیتی حاکمیت کے تاریک دور میں لوٹا دیں گے۔ یادرہے کہ ایاد علاوی العراقیہ الائنس کے راہنماؤں میں سے ہیں جو گذشتہ ہفتے ایک غیر متوقعہ دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے اور وہاں انھوں نے سعودی عرب کے حکام سے خفیہ گفتگو کی تھی۔ (3/7/2010) بلاگ گروپ : كافی شريف كے مٶلف شيخ محمد بن يعقوب كلينی كی علمی خدمات كو خراج تحسين پيش كرنے كے لیے عالمی سيمينار میں لكھے گۓ مقالات كا خلاصہ انٹر نیٹ پر دے ديا گيا ہے ۔ { بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كی رپورٹ كے مطابق شيخ كلينی عالمی سيمينار كی سائیٹ كے انچارج ٫٫ مہدی خوش قلب ٬٬ نے كہا ہے كہ یہ سائیٹ چار زبانوں فارسی ، انگريزی ، عربی اور اردو پر مشتمل ہے اور اس میں ايسی خبریں ، مضامين اور مقالات موجود ہیں جو صاحب كتاب اصول كافی سے تعلق ركھتے ہیں ۔ اصول كافی شيعہ مكتب كی چار معتبر كتب احاديث میں سے ايك ہے انہوں نے كہا كہ اس بين الاقوامی سيمينار كے لیے مذكورہ چار زبانوں میں سے كسی ايك میں بھی مضامين ارسال كیے جا سكتے ہیں (3/6/2008){ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كے شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق اس نشست میں حجت الاسلام ٫٫ علی رضا پناھيان ٬٬ نے تبليغ كے متعلق گفتگو كرتے ہوۓ كہا كہ اسلام ، قرآنی اور دينی معارف كی طرف رجحان میں پوری دنيا میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے مزيد كہا كہ مختلف مذاھب اسلام كو مٹانے كے در پے ہیں اور اس كی جگہ پر ايك اور اسلام دنيا كے سامنے پيش كيا ۔ انہوں نے وضاحت كی كہ طالبان كا اسلام اور تركی كا اسلام امريكہ كے لیے قابل قبول ہے كيونكہ یہ خالص اسلام نہیں ہیں ۔ جناب پناھيان نے كہا كہ وہابيت كی سرگرمياں بہت تيز ہو گئی ہے اور یہ معاشرے كے لیے بہت خطر ناك ہیں (3/6/2008){ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كے شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ مكارم شيرازی نے اپنے فقہ كے درس خارج میں كہا كہ قرآن و سنت مختلف اسلامی مذاھب كے درميان روابط كا وسيلہ ہے اور مسلمانوں كو چاہیے كہ وہ قرآن اور سنت كی پيروی كرتے ہوۓ اپنی صفوں كے اندر اتحاد و وحدت كو مستحكم كریں اور دشمنوں كی سازشوں كو خاك میں ملا دیں ۔ آيت اللہ مكارم شيرازی نے قرآن مجيد كے ضعيف ترجموں كی اشاعت پر افسوس كا اظہار كرتے ہوۓ ان كی جمع آوری كی درخواست كی ۔ انہوں نے پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن مجيد كی توھين كے حوالے سے گفتگو كرتے ہوۓ كہا كہ اس توھين سے دشمن كا مقصد مسلمانوں كی اعتقادی بنيادوں كو كمزور كرنا ہے انہوں نے مزيد كہا كہ كتاب آيات شيطانی كی اشاعت پر امام خمينی ﴿ رح ﴾ نے سخت مٶقف اختيار كيا تھا اور ان كی عميق نگاہوں نے یہ محسوس كر ليا تھا كہ یہ كسی ايك شخص كا كام نہیں اسی لیے انہوں نے اس بات پر بہت مناسب رد عمل ظاہر كيا تھا ۔ انہوں نے اس بات كا حوالہ ديتے ہوۓ كہا كہ يورپ كے ايك شخص نے كہا كہ تمام يورپی ممالك كو ڈنمارك جيسا كام كرنا چاہیے ، كہا كہ یہ بے حرمتی ايك شخص اور ايك اخبار كا كام نہیں ہے بلكہ ايك منظم سازش ہے ۔ آيت اللہ مكارم شيرازی نے كہا كہ وہ اسلام كے تيزی سے پھيلنے سے خوف زدہ ہو گۓ ہیں اور اس قسم كی جاھلانہ حركتوں پر اتر آۓ ہیں ان كو یہ معلوم ہونا چاہیے كہ وہ اسلام كا كچھ بھی نہیں بگاڑ سكتے اور وہ اس قسم كے اقدامات كر كے اپنے سماج میں آزادی بيان كو ثابت كرنا چاہتے ہیں ۔ آيت اللہ مكارم شيرازی نے اس بات پر زور ديا كہ پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كی توھين كا مسئلہ ايك سازش كے طور پر سامنے آيا ہے اور مسلمانوں كو چاہیے كہ وہ سب مل كر اس سازش كے خلاف اپنی نفرت كا اظہار كریں اور اسلامی ممالك كو بھی چاہیے كہ وہ ڈنمارك كے اس اقدام كے خلاف اپنی ذمہ داری ادا كرتے ہوۓ شديد رد عمل دكھائیں ۔ انہوں نے میڈيا كو خطاب كرتے ہوۓ كہا كہ وہ اس مسئلے كو اہميت دے اور اس مسئلے كو صحيح انداز میں پيش كرے ۔ (3/6/2008)آٓیت اللہ جعفر سبحانی نے اپنے خظاب میں فرمایا:ایک منظم سازش کے ساتھ اہل مغرب نے آنحضرت (ص)کی نعوذ باللہ توہین کا سلسلہ مرتد سلمان رشدی کی کتاب سے شروع کیا اور پھر اپنی اس ناپاک حرکت کو کارٹونوں اور اسلام کے خلاف فلموں کی صورت میں آگے بڑہایا۔ انہوں نے فرمایا :ان شاللہ اس شیطانی حرکت کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام مسلمان پھر اسلام کی صفوں کو اپنے اتحاد سے منظم کریں گے اور ایک آواز کے ساتھ اس کے خلاف قیام کرتے ہویے آنحضرت (ص) کی عظمت اور اپنے ایمان کو تحفظ دیں گے۔ آخر میں انہوں نے فرمایا :تمام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ ایک معیں دن بالخصوص آپ (ص) کی وفات کے دن مساجد میں اجتماع کریں اور اس قسم کی سازشوں کے خلاف اپنے عزم راسخ ا اظہار کریں،اپنے اتحاد اور نظم کے ساتھ پوری دنیا پر ثابت کریں کہ ہم اسلام ،قران اور آنحضرت (ص) کے دفاع کے لیےہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ (3/6/2008) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے حجاز اور مصر کے بعض مفتیوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے: اسلامی ممالک کی تحریکیں روئے زمین پر ظلم و فساد کے خلاف اٹھی ہیں اور ان حضرات کو یہ عوامی تحریکیں حرام قرار نہیں دینی چاہئیں۔ انھوں نے کہا ہے: ظالم حکمرانوں کے خلاف عوامی قیام کی مذمت کرنے والے مفتی جلد از جلد اپنے فتووں اور اپنے موقف اور اس پرانے فتوے پر نظر ثانی کریں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوجائیں اور ان تحریکوں کا باگ ڈور سنبھالیں تا کہ اسلام دشمن قوتیں ان انقلابات کو اپنے فائدے میں ہائی جیک نہ کرسکیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کے پیغام کا متن: بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلامی ممالک میں حکامِ جور کے خلاف وسیع تحریکوں میں جو چیز خاص طور پر نظر آتی ہے وہ ان کے بعض بڑے علماء کا موقف ہے۔ ![]() شبستان اخبار ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق:مجتمع فرھنگی بلال کے سربراہ اور مشہور خطیب حجت الاسلام ادیب یزدی ،امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی آغاز امامت کی مناسبت سے تبریز میں منعقد پروگرام میں خطاب کے دوران فرماتے ہیں:غیبت کے زمانہ میں شیعہ الہی امتحان میں ہیں اور ہم سب مل کر حضرت کے ظہور کے اسباب فرایم کریں۔ انہوں نے امام مھدی (ع) کو الہی غیرت کا مظہر بتایا اور کہا :حضرت (عج) شیعوں سے کویی گناہ نہیں دیکھنا چاہتے ۔اسی لیے ان کے ظہور کے لیے عاجزی سے دعا کرنی چاہیے۔ جناب ادیب یزدی نے معصوم (ع) کی حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہویے کہا :سب سے ناتواں شخص وہ ہے کہ جو دعا کرنے سے بھی عاجز ہو۔لہذا دعا باعث بنتی ہے کہ شیعہ حضرت حجت (عج) کے ظہور کی تعجیل کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ:سب جان لیں کہ امام زمان (ع) کی حکومت وہی امام علی (ع) کی حکومت عدل ہوگی اب یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم عدالت علی علیہ السلام کو تحمل کرنے کا ظرف رکھتے ہیں۔ ادیب یزدی نیز واضح کرتے ہیں کہ :آج امام (ع) کی غیبت کو گیارہ سوسال گذر گیے ہیںاب یہ دیکھنا ہے کہ اس طولانی مدت میں شیعوں نے اپنی ذمہ داریاں کیسے نبھایی ہیں۔ انہوں نے حضرت کی سلامتی کے لیے صدقہ دینا ،فقراء کی مدد ،رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور ہمسایوں کے حقوق کی رعایت کو شیعوں کے وظایف میں سے بتایا اور کہا کہ کویی گھر بھی امام قایم (ع) کی یاد سے خالی نہیں ہونا چاہیے ۔ (3/30/2008)شیراز یونیورسٹی کے پروفیسراور مفسر نہج البلاغہ"محمد مہدی جعفری"امام حسین علیہ السلام کے ایام سوگوری کی منابست سے منعقد کیے گیے سیمینار"اربعین تک چالیس منزل عاشوراتحقیق"کی آخری نشست میں اپنے خطاب میں فرماتے ہیں:۔ ۔ ۔ امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کے گنبد پر سرخ پرچم بتارہا ہے کہ ابھی حق وباطل کی جنگ ختم نہیں ہویی،یہ پرچم حق کی حمایت میں لہرارہا ہےتاکہ ہمارا اصلی صاحب آیے اور قبیلہ باطل سے امام حسین علیہ السلام کے خون مبارک کا انتقام لے،اس وقت یہ پرچم سبز ہوگا۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔ (3/3/2008)حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے بحرین سمیت علاقے کے ممالک میں عوام کے پرامن احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: بحرین میں حتی ایک گاڑی کو نذر آتش نہیں کیا گیا اور ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا لیکن عرب ممالک کی فوجوں نے اس ملک پر جارحیت کی اور عوام کو کچل ڈالا، بحرینی حکومت نے اسپتالوں پر حملہ کیا اور حتی معترضین کے گھروں میں داخل ہوئے اور ان پر حملہ کیا۔ یہ وہی اسرائیلیوں کی روش ہے اور اسرائیلی بھی لوگوں کے گھر ویران کردیتے ہیں اور اب بحرینی فورسز بھی یہی کچھ کررہی ہیں انھوں نے حتی پرل اسکوائر تک کو بھی منہدم کرکے خاک میں ملادیا۔ خالد بن احمد نی سعودی عرب کے سیٹلائٹ چینل العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا کہ "سید حسن نصر اللہ کی تقریر جھوٹ سے بھرپور تھی اور انھوں نے کہا ہے کہ فوج میدان میں آئی اور عوام کا قتل عام کیا" نصر اللہ یہ باتیں کہاں سے لائے ہیں؟ جبکہ ہم ایسی ریاست ہیں کہ اپنے عوام کے لئے احترام کے قائل ہیں؛ نصر اللہ کا خطاب بحرین کے حق میں ایک جرم ہے!!۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ بحرین میں ہزاروں افراد کیوں زخمی ہوئے 24 شہید ہوئے سینکڑوں افراد گرفتار ہوئے، ڈاکٹرز اور نرسوں کو اغوا کیا گیا، اسپتالوں کو فوج کے حوالے کیا گیا اور مقدس مقامات کی توہین کی گئی یہ سب کیونکر ہوا؟ اور یہ کہ سعودی فورسز کس کی دعوت پر آئی ہیں کیا وہ بحرینی عوام کی زیادہ خدمت کے لئے بلائی گئی ہیں اور کیا آل خلیفہ خاندان عوام کو زیادہ احترام دینے کے لئے بیرونی قوتوں کو بلا لائے ہیں؟ (3/27/2011) ممتاز شاعر ابو ترابی کہتے ہیں:ہم ماہ رمضان میں ایک ماہ روزہ رکھنے کے بعد جب عید فطر تک پہنچتے ہیں تو ایک اندرونی لذت اور نشاط کا احساس کرتے ہیں لیکن نوروز میں ہم اس باطنی شادابی سے غفلت کرتے ہوے صرف ظاہری بھار کی خوشیوں پر اکتفاء کرتے ہیں۔ ۔یہ شاعر یاد دلاتے ہیں :کیا بہتر تھا کہ جیسے مذھبی اعیاد میں ہمارے اندر سرور کا انقلاب پیدا ہوتا ہے اس اہم دن بھی ہم معنوی شادمانی کو سمیٹتے آخر میں کہتے ہیں:نوع انسانی کی سب سے بڑی عید حضرت حجت(عج) کا ظہور ہے،ہم اس عظیم دن کے منتظر ہیں کہ جو اپنی جگہ بے نظیر وبے مثل ہے۔وہ دن کہ جس کی ہمیں بشارت دی گی ہے ،ایک دن حضرت آجا ییں گے پھر مظلوم تھکی ہویی بشریت کو عدالت کی نوید ملے گی پھر سرد و تاریک دور ختم ہو جاییگا اور ہم مدینہ فاضلہ میں قدم رکھیں گے (3/23/2008)قائد انقلاب اسلامی کے دفتر کی جانب سے امام زمان (عج) کی معرفت کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے اس پروگرام کے اہم مراحل لیکچرز ،سوال و جواب کی نشستیں ،کتب کا مطالعہ اور علمی مقابلے وغیرہ ہیں،نیز مختلف موضوعات مثلا انتظار ، امام مہدی (ع) کی حکومت ،تاریخ کا اختتام ،امام سے ملاقات ،زمانہ ظہور اور انحرفات وغیرہ پر اسلامی ماہرین کے خطابات ہونگے (3/20/2008)خبر رساں ایجنسی ''مھدویت'' کی رپورٹ کے مطابق: پیغمبر اکرم (ص) اور امام صادق(ع) کی ولادت با سعادت اور امام زمان (عج) کی امامت کی سالگرہ کی مناسبت سے ''مہدیہ تہران '' میں ایک عظیم الشان جشن کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ تین روزہ جشن نو ربیع الاول سے شروع ہوا ۔اس میں ملک کے ممتاز قاری حضرات قران مجید کی قراءت اور اہلبیت کی مداحی کے لیے مشہور ذاکران اہلبیت نے شرکت کی ۔اور حجت الاسلام سید مہدی طباطبای اور حجت الاسلام سید محسن امین نے خطاب فرمایا۔ یہ جشن ہر سال مرکز تبلیغ وانفاق امام زمان(عج) کی طرف سے لوگوں میں امید اور انتظار کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے بپا کیا جاتا ہے ۔ (3/20/2008)مصري روزنامے "مصري اليوم" نے عيني شاہدين کے حوالے سے رپورٹ دي ہے کہ سعودي عرب اور بحرين کے درميان فہد پل سے متعدد سعودي ٹينک بحرين ميں داخل ہوئے ہيں۔ اس روزنامے نے لکھا ہے کہ سعودي عرب بحريني عوام کا قيام کچلنے کي غرض سے تيس ٹينک بحرين ميں داخل کئے ہيں۔ دريں اثناء عباس فاضل نے کہا: اس وقت ہمارا بڑا مسئلہ آل خليفہ خاندان کا مسئلہ نہيں ہے بلکہ سعودي مداخلت اور سعودي عرب کي ريشہ دوانياں ہمارے لئے مسائل کھڑے کررہي ہے۔ فاضل عباس نے کہا: سعودي عرب نے مصر کے انقلاب ميں بھي منفي کردار ادا کيا اور مصري عوام کي خواہش اور مرضي کے برعکس حسني مبارک کا اقتدار بچانے کي کوشش کرتا رہا اور اس وقت اس کي کوشش ہے کہ بحرين ميں ہر قسم کي اصلاحات کا راستہ روک لے۔ انھوں نے کہا: بحريني عوام کے لئے جو چيزيں بہت خطرناک ہيں ان ميں ايک سعودي عرب کي بے جا مداخلت ہے اور دوسري چيز بحرين کے اندر سعودي عرب سے وابستہ انتہاپسند افراد ہيں۔ انھوں نے کہا: بحريني عوام سابقہ ادوار سے مختلف ہيں اور کسي صورت ميں بھي اپنے مطالبات سے پسپائي اختيار نہيں کريں گے اور تھکاوٹ محسوس نہيں کريں گے بلکہ ملک پر مسلط نظام آخر کار تھک جائے گا اور مجبور ہوکر عوام کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹيک دے گا۔ (3/2/2011) ![]() مجمع تقریب مذاہب اسلامی کے جنرل سکریٹری آیت اللہ محمدعلی تسخیری نے کہاہےکہ امت اسلامیہ اگراپنااتحاد برقرارنہيں رکھہ سکتی تو بڑے عالمی چینلجوں کا بھی مقابلہ نہيں کرسکے گی۔ آيت اللہ تسخیری نے ایک انٹرویو میں عالم اسلام کےدرمیان اتحاد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ عالمی سامراج کو چونکہ اسلامی ملکوں کی طاقت وتوانائی کی علم ہے اس لئے وہ امت اسلامیہ کے اتحاد میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے انھوں نے کہا کہ اگرامت مسلمہ اپنی طاقت سےبخوبی استفادہ کرے تودشمن کی سازشوں کامقابلہ کرسکتی ہے۔
(3/2/2010)
حضرت آیتاللہ سبحانی نے اہل تشیع پی مختلف فرقوں کی یلغار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس وقت دنیا کے تمام نقاط میں اہل تشیع پیرحملے ہورہے ہیں اور حتی بعض فرقوں کی تعلیمی ڈگریوں کے رسالے بھی مکتب شیعہ کے خلاف لکھے جارہے ہیں۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ جعفر سبحانی نے حوزہ ہائے علمیہ کے ادارہ اطلاعات و نشریات کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اس مرکز کے پروگراموں کی تعریف کی اور کہا کہ آپ علماء، واعظین اور ذاکرین کو خبریں پہنچانے کے ساتھ ساتھ علمی موضوعات کو بھی اپنے رسائل میں جگہ دیں تا کہ وہ ان موضوعات سے علمی فائدہ اٹھا سکیں۔ حوزہ علمیہ قم کی اس بلندپایہ استاد نے اہل تشیع کے خلاف مختلف فرقوں کی یلغار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا کے ہر گوشے میں شیعیان اہل بیت (ع) کو مختلف قسم کے حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ بعض دینی مدارس اور جامعات میں طلباء کو فارغ التحصیل ہونے کے لئے اہل تشیع کے خلاف رسالے لکھنے کے لئے دیئے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بھی اس ہمہ جہت یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے منطقی موقف کی حفاظت کرنی ہوگی اور اس سلسلے میں بہترین مواد وہی ہے جو حوزات علمیہ کی جانب سی شائع ہوتا ہے۔ آیت اللہ سبخانی نے حاضرین سے کہا: آپ سب کا مشترکہ مطمع نظر اسلام، تشیع اور اسلامی انقلاب کا دفاع ہونا چاہئے؛ آپ تمامتر مثبت نکتوں کا سہارا لیں اور حوزہ ہائے علمیہ میں انجام پانے والے مثبت امور کے بارے میں لوگوں کو اطلاعات فراہم کریں تا کہ عوام کو بھی معلوم ہو کہ حوزات علمیہ میں دین کے دفاع کے سلسلے میں کس قسم کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ (3/2/2010) واضح رہے کہ پہلے سے دینی اور فقہی حکم کے مطابق ملک پر بیرونی جارحیت کی صورت میں ہر مرد و زن پر دفاع واجب ہے جبکہ جہاد سرحدوں پر ہوتا ہے جو عورتوں، بوڑھوں اور مریضوں پر واجب نہیں ہے جبکہ دفاع سب پر واجب ہے اور بحرینی عوام اب یہی کچھ کررہے ہیں۔ (3/16/2011) ![]() بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا نے خبررساں ادارے راصد كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ سعودی عرب كی طرف سے سيكورٹی كے سخت اقدامات كے باوجود ہزاروں شيعہ مظاہرين سڑكوں پر نكل آئے اور سعودی حكومت كے خلاف شديد نعرے بازی كی ہے۔ سعودی سيكورٹی فورسز نے ۱۹ افراد كو گرفتار كر ليا ہے۔ سعودی عرب كے صوبہ الاحساء كے شہر "الھفوف" كے مسجد كے سامنے سے شروع ہوا مظاہرين نے سعودی حكومت كے خلاف شديد نعرہ بازی كی اور اپنے قيديوں كی رہائی كا مطالبہ كيا۔ پرامن مظاہرين پر پوليس نے تشدد كيا اور ۱۹ افراد كو گرفتار كر ليا جس میں نامور شيعہ عالم دين "شيخ علی الوائل" بھی شامل ہیں۔ واضح رہے كہ سعودی عرب كےدوسرے شيعہ نشين علاقوں میں بھی مظاہروں كی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ 761871 (3/14/2011)مہدویت انسٹیٹیوٹ کی طرف سے عنقریب پاکستانی اور ہندی طلباء (سطح ۳و۴ ) کیےلیے ایک خصوصی یکسالہ دورہ شروع کیا جا رہا ہے اس دورہ کے بارے میں مزید اطلاع بعد میں دی جایے گی۔ (3/14/2007)حوزہ اور یونیورسٹی کے محقق استاد ڈاکٹر سید رضی موسوی گیلانی مدرسہ عالی دارالشفاء قم میں منعقد ہونے والے سیمینار عاشورا و انتظار سے خطاب میں عاشورا اور غیبت میں منطقی ربط کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں: بعثت پیغمبر (ص)،غدیر ،عشورا،غیبت اور ایک عالمی حکومت کا قیام تاریخ اسلام کی پانچ اہم کڑیاں ہیں۔عاشورا در اصل غدیر کو تحریف کرنے کا منطقی نتیجہ ہے اور عاشورا کے بعد آیمہ معصومین علیہم السلام کا تقیہ اس بہت سے ظلم کا نتیجہ ہے کہ جو ان کے حق میں روا رکھا گیا کہ جس کا نتیجہ غیبت کی صورت میں نکلا ڈاکٹر موسوی اس مطلب کہ عاشورا کی روایت اور عقیدہ مہدویت تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں کہ: امام مہدی (عج) کا ظہور در اصل عاشورا میں امام حسین (ع) کا عین پیام ہے کہ جو انبیاء اور اماموں کے پیام کو کمال کی بلندیوں کی طرف لیجایے گا انہوں نے اس مطلب کہ پوری تاریخ میں عاشورا کی اساس پر ایک ثقافت نے جنم لیا لیکن اس ثقافت و کلچر اور مہدویت میں ایک نوع جدایی موجود رہی کی طرف اشاہ کرتے ہویے فرمایا: افسوس ہے کہ گذشتہ چند عشروں میں مہدویت کی اساس پر مبنی ثقافت و تہذیب کو وجود میں لانے کے لیے ضروری سعی و کاوش نہیں کی گی۔ ۔ ۔ ۔ (3/12/2007) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ مقتدائی نے مصری روزنامے "الاہرام" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: امریکہ اور صہیونی صرف شیعہ یا صرف سنی کے دشمن نہیں بلکہ وہ اسلام کے وجود اور اصل و اساس کے دشمن ہیں اور اس بڑے دشمن کے مقابلے میں ایک ہی صف کی تشکیل از حد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا: جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صدر اول میں مسلمانوں کے درمیان مواخات اور برادری کا عقد جاری کیا اسی طرح ہم پر بھی لازم ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ اور اخوت قائم کریں اور عالم اسلام کے مسائل کی ترجیح بندی کریں اور ان سب امور کا نفاذ کریں جن میں اسلام اور تمام شیعہ سنی مسلمانوں کا فائدہ ہو۔ جامعۃالمصفی العالمیۃ ٹرسٹ کے رکن اور حوزہ علمیہ قم کے سربراہ نے کہا: میں االازھر کے لئے خاص احترام کا قائل ہوں؛ اس عظیم ادارے کے علماء اور اساتذہ معتدل پسند سمجھے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی بزرگ علماء نے تشیع کے دفاع اور اہل تشیع پر لگائے گئے الزامات کی تردید کے سلسلے میں کتابیں تحریر کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی علمی مراکز کے درمیان تعاون اور علمی مبادلات عالم اسلام کے حق میں ہے اور حوزہ علمیہ قم اعلان کرتا ہے کہ جامعۃاالازھر کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور اس تعلق اور تعاون کو مزید وسعت اور استحکام دینے کے لئے تیار ہے۔ آیت اللہ مقتدائی نے ایران کے حوزات علمیہ میں فکری حریت و آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کے بڑے اساتذہ کے فقہی دروس میں سنی علماء کی آراء بھی پیش کی جاتی ہیں اور ان پر آزادانہ بحث ہوتی ہے۔ انھوں نے ایران کے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے سلسلے میں امریکی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض عناصر نے سنی اکابرین کی توہین کے حوالے سے بعض علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کئے ہیں تا کہ سنی برادران کو اہل تشیع سے بدظن کیا جائے اور حوزہ علمیہ قم نے اس سلسلے میں شیعہ اور سنی عوام سے ہوشیاری اور بیداری کی درخواست کی ہے اور عوام کو بتایا ہے کہ یہ دشمنان اسلام کی سازش ہے۔ (3/11/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیعیان یمن کی مجلس اعلی کے سابق سربراہ ڈاکٹر عصام العماد نے مدرسہ علمیہ "امام خمینی رحمۃاللہ علیہ میں" شیعیان یمن کی خلاف حالیہ جنگ کے آثار و نتائج کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: بعض پیروان اہل بیت (ع) کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مکتب اہل بیت (ع) کی بہتر شناخت نہیں رکھتے اور تشیع کی صحیح معرفت سے محروم ہیں گو کہ ممکن ہے کہ وہ نظری لحاظ سے اپنے مکتب کی تعلیمات سے بخوبی آگاہ ہوں مگر عملی لحاظ سے ایسے نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: شیعیان اہل بیت (ع) کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دشمن کو بخوبی پہچانتے ہیں اور جو لوگ موجودہ زمانے میں اس مکتب کی طرف رجوع نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن شناسی کی قوت حاصل نہیں کرسکے ہیں اور ایسے بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جو ان کے سامنے دشمن شناسی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور یہ مشکل ابتدائے ظہور اسلام سے اب تک موجود ہے۔ انھوں نے دشمن شناسی کو مکتب تشیع کی بقاء اور فروغ کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا: ہمیں ہر زمانے میں بصیرت کے ہتھیار سے لیس ہونا چاہئے اور دوست اور دشمن کی درمیانی حدود کی تشخیص کے حوالے ہوشیار رہنا چاہئے۔ ڈاکٹر عصادم العماد نے یمن کی الحوثی تحریک کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: الحوثی تحریک اور اس کے راہنماؤں کے افکار امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے افکار، نظریات اور اہداف و مقاصد سے متأثر ہیں اور رہبر معظم انقلاب اسلام حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور سید حسن نصراللہ کے ساتھ ان کا جذباتی تعلق نہایت واضح اور نمایاں ہے۔ انھوں نے کہا: یمن کی حکومت الحوثی تحریک سے خوفزدہ ہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ حوثیوں نے سیاسی شعبے میں صحیح طور پر کام کیا ہے اور چونکہ وہ زیدیوں کے درمیان جعفری افکار و تعلیمات کے فروع کی کوشش میں مصروف ہیں لہذا زیدی بھی اس وقت ان کی قیادت میں کام کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ (3/11/2010) ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت اللہ العظمي شيخ جعفر سبحاني گذشتہ جمعرات کے روز حضرت رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام کي ولادت با سعادت کي مناسبت سے حضرت سيدہ فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کے حرم مطہر ميں سوال و جواب سيشن ميں زائرين اور طلبہ کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ منتظرين کي سب سے بڑي خصوصيت يہ ہے کہ وہ مشکلات اور مسائل و مصائب سے رہائي کا انتظار کرتے ہيں؛ انتظار کا مطلب تسبيح ہاتھ ميں لے کر انتظار کے نعرے لگانا نہيں بلکہ ہم اگر منتظر ہيں تو ہميں عملي صورت ميں خودسازي اور اصلاح نفس کا اہتمام کرنا چاہئے اور امام زمانہ (عج) کے لئے انصار و اعوان کي تربيت کرني چاہئے۔ انھوں نے امام زمانہ (عج) کے مقام رہائش کے بارے ميں ايک سوال کا جواب ديتے ہوئے کہا: ہمارے لئے ثابت و مسلم ہوچکا ہے کہ امام زمانہ (عج) روئے زمين پر لوگوں کے درميان طبعي زندگي گذار رہے ہيں اور حتي ہم امام (عج) کو ديکھتے ہيں تا ہم آپ (ع) کو پہچانتے نہيں ہيں۔ جزيرہ خضراء کے بارے ميں بھي کہنا چاہوں گا کہ اس جزيرے کا وجود ہمارے لئے ثابت نہيں ہوسکا ہے۔ آيت اللہ العظمي جعفر سبحاني نے مسلمانوں کي وحدت کے بارے ميں کہا: مسلمانوں کي وحدت کا بہترين راستہ يہ ہے کہ مشترکات کا سہارا ليں اور بہتر يہي ہے کہ اسلامي مذاہب کے پيروکار اختلافات کو علماء کے سپرد کريں؛ ہر مذہب کے پيروکار اختلافي مسائل ميں اپنے مذہب کا اتباع کريں اور منازعات اور جھگڑوں سے پرہيز کريں۔ علمي مناظرہ الگ مسئلہ ہے اور لڑائي جھگڑا الگ مسئلہ ہے۔ اللہ تعالي نے ہميں حکم ديا ہے کہ اس کي رسي کو مضبوطي سے تھاميں تا کہ تفرقے کے کنويں سے نجات پاسکيں اور ہمارے درميان موجود ديني مشترکات اللہ کي مضبوط رسي ہيں جس کا سہارا لے کر ہم متحد ہوسکتے ہيں۔ قم کے اس مرجع تقليد اور اسلامي مذاہب کے ماہر استاد نے وہابيت کے بارے ميں کہا: وہابي فرقہ آج سے 4 صدياں قبل سعودي عرب کے علاقے نجد ميں محمد ابن عبدالوہاب کے توسط سے ظہور پذير ہوئے مگر علاقے پر فرمانروائي عثمانيوں کي تھي اور عثماني نہايت قوي اور طاقتور تھے چنانچہ وہابيت کو فروغ کے مواقع فراہم نہ آسکے؛ مگر جب عثمانيوں کي سلطنت کا خاتمہ ہوا اور خطے ميں چھوٹے چھوٹے ممالک اور رياستيں تشکيل پائيں تو وہابيوں نے عثماني سلطنت کے بعد حاصل ہونے والے استقلال اور تيل سے حاصل ہونے والي دولت کے ذريعے وسيع تشہيراتي مہم اور ديگر سرگرميوں کا آغاز کيا۔ انھوں نے کہا کہ وہابيت نے اسلام پر بہت سے منفي اثرات مرتب کئے جن ميں سے اہم منفي اثرات کچھ يوں ہيں: * انبياء اور اولياء عليہم السلام کا رتبہ گرايا؛ * لوگوں کو اہل بيت عليہم السلام کي محبت سے دور اور محروم کرديا؛ * اسلامي آثار کو منہدم کرديا جيسے: مقابر اولياء و اصحاب و زوجات رسول (ص)، نبي اکرم (ص) اور اہل بيت (ع) اور اصحاب کے گھروں کو نيست و نابود کرديا؛ * انھوں نے يہ سارے مذموم اقدامات "شرک کے خلاف جنگ" کے بہانے سرانجام ديئے۔ اسلامي آثار کي تخريب و انہدام کے باعث آئندہ زمانوں اسلام کا کوئي قديمي اثر باقي نہ رہے اور اسلام کي حقيقت ميں شکوک و شبہات اٹھانے کا امکان سر اٹھائے۔ حضرت آيت اللہ العظمي سبحاني نے کہا: حکومت ہر زمانے ميں ـ جس شکل ميں بھي ہو ـ کتاب، سنت اور عقل پر مبني ہوني چاہئے۔ اسلام ايسي حکومت چاہتا ہے جو اسلامي قوانين کو نافذ کرے اور لوگوں کو سعادت تک پہنچائے۔ حکومت کي شکل اسلام کے نزديک بہت اہم نہيں ہے بلکہ اسلام کے لئے اہم چيز يہ ہے کہ اسلامي احکام ايک ديں شناس فقيہ کے زيرنگراني نافذ ہوں۔ (3/11/2010) حوذہ علمیہ قم کے ممتا ز دانشور عالم آیت اللہ استادی سیمینار سے اپنے خطاب میں فرماتے ہیں: امام حسین علیہم السلام کے بعد تمام معصوم اماموں کا ہمیشہ سے یہ ہدف تھا کہ عاشورا اور شہادت کی اس روایت کو ہمیشہ زندہ رکھا جایے اور توجہ رکھی جایے کہ یہ عظیم واقعہ کبھی بھی فراموش نہ ہو انہوں نے عاشورا اور انتظار کے درمیان نہ ٹوٹنے والے ربط کی طرف اشارہ کرتے ہویے فرمایا:آج عاشورا اور محرم کی برکت سے انتظار کی روایت اور کلچر پوری دنیا میں پھیل گیا ہےاور دنیا کے لوگ نجات دھندہ بشریت کے منتظر ہیں، انہوں نے اپنے خطاب میں امام زمانہ کے ظہور اور اس الہی وعدہ کے تحقق کے اسباب فراہم کرنے پر زور دیا اور فرمایا:یہ الہی وعدہ اس وقت پورا ہوگا کہ جب عاشورا کی روایت انتظار کے کلچر سے مخلوط ہو گی (3/11/2007)
آیتاللہ العظمی صافی گلپایگانی نے "امام موعود (ع) کے ساتھ
بیعت" کے عنوان سے منعقدہ سمینار ایک پیغام میں ظلم و استکبار سے انسان کے
دوران آزادی، عصر نجات و خلاص کے منتظرین کو ہدایت کی ہے کہ وہ نو ربیع الاول کو
نہایت عقیدت و احترام سے منائیں۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ
العظمی صافی گلپائگانی نے نو ربیع الاول اور آغاز امامت امام عصر (عج) کے مبارک
موقع پر "بیعت با امام موعود (عج)" کے عنوان سے منعقده
سمینار کے نام اپنے پیغام میں ظلم و استکبار سے انسان کے دوران آزادی، عصر نجات و
خلاص کے منتظرین کو ہدایت کی ہے کہ نو ربیع الاول کو نہایت عقیدت و احترام سے
منائیں۔ انهوں نے کہا ہے: عظیم اور مقدس ایام اللہ میں ایک ربیع الموعود کی
نویں تاریخ ہے؛ یہ مقدس اور مبارک دن حضرت ولی اللہ الاعظم، امام مبین، حصن حصین
بقیۃ اللہ فی الارضین، موعودالانبیاء و المرسلین کی ولایت کے آغاز کا دن ہے۔ ظلم و استکبار اور استضعاف سے رہائی اور نجات و خلاص کے منتظرین پر
لازم ہے کہ اس روز کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائیں اور اس کی تعظیم کو اپنے لئے
فخر و اعزاز سمجھیں؛ حقیقت یہ ہے کہ اس روز سے ہجری تاریخ کے اندر اب "عصر مہدوی"
کا آغاز ہوتا ہے۔ آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے کہا ہے کہ: کریمۂ اہل
بیت حضرت فاطمہ معصومہ (علیہا السلام) کے آستانۂ عزت و عصمت و عظمت میں امام موعود
(عج) کی بیعت کے عنوان سے منعقده سمینار نہایت شائستہ اور مناسب اقدام ہے جو اہل
تشیع کو تولّی اور تبرّی کے اصولوں، ولایت کے ساتھ تجدید عهد اور عالم امکان کے
قطب یگانہ اور خدائے عز و جل اور ـ آدم (ع) سے خاتم (ص) تک ـ انبیاء علیہم
السلام کے موعود کی بیعت کی طرف بلاتا ہے۔ یہ سمینار شعائر الہیہ کی تعظیم کی واضح
مثال ہے جو کلمۃاللہ کی سربلندی اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی نورانی تعلیمات
و معارف کے فروغ اور امام عصر (عج) کے ظہور موفور السرور کو ان تعلیمات و معارف کی
حیات بخش اور حرکت انگیز پیغامات پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ ![]() ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "أحمد بن سعد بن حمدان الحمدان الغامدی" نے علماء الازہر کے نام اپنے پیغام میں ـ جو کل "سبق" نامی الیکٹرانک جریدے میں شائع ہوا ـ دعوی کیا ہے کہ اثنی عشری شیعہ قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ 12 دیگر منابع سے بھی اپنے عقائد اخذ کرتے ہیں اور یہ امر دین خدا کی خلاف ورزی ہے۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی – ابنا – کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے وزیر ترقیات «ابراہيم شمسالدين» نے مصر کے دورے سے واپسی پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیعہ مذہب جماعتی یا فرقہ وارانہ رجحان کا نام نہیں بلکہ اس کی بنیاد اسلام کامل ہے. انہون نے بعض ممالک میں اہل تشیع کے خلاف لگنے والے الزامات پر حیرت و تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ممالک میں تشیع کی ترویج کے سلسلے میں حزب اللہ پر لگنے والے الزامات بےجا، بےبنیاد اور مردود ہیں. شمسالدین نے کہا ہے کہ یہ الزامات در حقیقت ان تمام مسلمانوں کے خلاف تہمت و افتراء کے زمرے میں آتے ہیں جو دینی احکام و تعلیمات کو 5 مذہبی مکاتب سے اخذ کررہے ہیں. انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے اور اتحاد و یکجہتی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب اختلافات سے پرہیز کیا جائے اور اس قسم کے فتنہ انگیز الزامات کا سلسلہ بند کیا جائے. یادرہے کہ مصری سرکار نے حال ہے میں صہیونی ریاست کی خدمت کی تکمیل کے سلسلے میں حزب اللہ پر مصر کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے جیسے بےبنیاد الزامات لگانا شروع کردیئے ہیں جبکہ عالم عرب کی سیاسی اور مذہبی شخصیات سمیت حزب اللہ کے راہنماؤں نے بھی ان الزامات کی سختی سے تر دید کی ہے. (2009/04/20)
انہوں نے شیعہ آبادی کے خلاف وہابی گروہوں کے انتہاپسندانہ اقدامات، توہین و جارحیت، مساجد میں اور ویب سائٹوں پراہل تشیع کے خلاف سب و لعن جیسے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے سعودی حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ تکفیری گروہوں کی سرکوبی کے لئے اقدام کریں اورانہیں یہ اقدامات جاری رکھنے سے روک دیں. انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذہبی فتنہ بھڑکانے اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی توہین و بے حرمتی کرنے والے افراد کو سزا دینے کے لئے قانون سازی کرے. یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ جمعرات کو مدینہ منورہ میں سینکڑوں وہابی انتہاپسندوں نے اہل تشیع کے محلے القباء پر حملہ کرکے مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، اور تین افراد کو زخمی کردیا. وہ عام شہریوں کو اہل تشیع کے خلاف جہاد پر اکسانے کے لئے اشتعال انگیز نعرے لگارہے تھے. (2009/04/15)
مصركے مفتی علی جمعہ نے اسرائيلی جارحيت كے حوالے سے كہا ہے كہ اسرائيل نے مقبوضہ فلسطين میں نيا ہولو كاسٹ برپا كر ديا ہے۔ جس سے تاريخ بشريت میں ايك نئے تاريك موڑ كا اضافہ ہو گيا ہے اور اسرائيل كے جرائم نازيوں كے جرائم سے كہیں زيادہ سنگين ہیں۔ سعودی اخبار "عكاظ" نے لكھا ہے كہ مفتی مصرعلی جمعہ نے سعودی عرب میں موجود فلسطينی زخميوں كی تيمارداری كی اور كہا: اسرائيل نے انسانيت كے خلاف وحشی ترين جارحيت كا ارتكاب كرتےہوئےفلسطينی عوام كا قتل عام كيا ہے۔ انھوں نے كہا كہ اسرائيل ايسے جرائم كا ارتكاب كر رہا ہےجس كا تاريخ كےظالم ترين افراد نے بھی ارتكاب نہیں كيا ۔ دوسری طرف سے الازہر يونيورسٹی كے ۱۲ ہزار اراكين نے اپنی ايك دن كی تنخواہ غزہ كے مظلوموں كو دينے كا اعلان كيا ہے ۔ الازہر يونيورسٹی كے فارغ التحصيل طلباء نے ايك عالمی كانفرنس كا انعقاد كر كے اسلامی ، عربی اور عالمی اداروں سے اپيل كی ہے كہ غزہ میں اسرائيلی جارحيت كو فوراً بند كروائیں۔ كانفرنس كے اختتام پر شركاء نے قاہرہ میں ايك بہت بڑا مظاہرہ بھی كيا جس میں اسرائيل كے خلاف سخت نعرہ بازی كی گئی اور فوری جنگ بندی كا مطالبہ دہرايا گيا۔ (2009/01/15)![]() رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ خامنہ ای نے، " جھاد اسلامی فلسطین " کے جنرل سیکریٹری جناب ڈاکٹر رمضان عبد اللہ اور ان کے ہمراہ آئے ہوئے وفد سے ملاقات میں اس بات کی یاد دہانی کی کہ : فلسطین ، مستکبران عالم پر مستضعفین کے غلبے اور کامیابی کے خدائی ارادے و مشیّت کو جامہ عمل پہنانے کے میدان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گزشتہ تیس برس سے لے کر آج تک ، فلسطین اور غاصب صیہونی حکومت کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے فرمایا : فلسطین ،عصر حاضر میں زندگی ، عزم و ارادے ، ایمان ،جہاد اور عزت کا مظہر ہے۔ اور فلسطینی عوام نے ہر قدم پر اس بات کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ صیہونیوں سے معنوی اور روحانی اعتبار سے کہیں زیادہ قوی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی فوج اپنی فوجی برتری کے باوجود فلسطینی عوام کے ایمان و ارادے کی طاقت پر غلبہ نہیں حاصل کر سکی اور شکست اس کا مقدّر بنی ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے "غزّہ " پر تسلط اور قبضے کے حصول میں صیہونی حکومت کی ناکامی کو " معجز نما " بتاتے ہوئے فرمایا : غاصب صیہونی حکومت ، اپنے تمام مادی اور سیاسی وسائل کو بروئے کار لانے اور تقریبا دوسال تک " غزّہ " کا محاصرہ کرنے کے باوجود ، فلسطینی عوام کی تحریک مزاحمت کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ اس سلسلے میں رہبر معظم نے مزید فرمایا : مشیت الٰہی یہ ہے کہ وہ اس خطے سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے دنیا کی استکباری طاقتوں کو ذلت و رسوائی کی دھول چٹائے ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ، جہاد و سیاست کے میدان میں " جہاد اسلامی فلسطین " کے نمایاں کردار کو سراہتے ہوئے فرمایا : میں فلسطین کے مستقبل کے تئیں بہت خوش بین ہوں اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ غاصب صیہونی حکومت بہت تیزی کے ساتھ اپنے زوال کی طرف گامزن ہے ۔ اور انشاء اللہ اس کی نابودی یقینی ہے۔ اس ملاقات میں " جہاد اسلامی فلسطین " کے جنرل سکریٹری جناب ڈاکٹر رمضان عبد اللہ نے ایران کے پر شکوہ اسلامی انقلاب کی اکتّیسویں سالگرہ کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا : جیسا کہ شہید فتحی شقاقی کہا کرتے تھے کہ ایران کا اسلامی انقلاب ایک بے نظیر انقلاب ہے اور کسی بھی دوسرے انقلاب سے اس کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔ موصوف نے فلسطین اور خطے کے تازہ ترین مسائل کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا : کہ اسلامی مزاحمت کی تمام تنظیمیں اپنے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے سیاسی اور جھادی موقف پر قائم ہیں اور مکمل کامیابی تک اس مزاحمتی تحریک کو جاری رکھیں گی ۔ جھاد اسلامی فلسطین کے جنرل سیکریٹری نے خطے میں صیہونی حکومت کی جنگجویانہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : مقاوت اسلامی اور جہاد اسلامی فلسطین ، پوری ہوشیاری اور بیداری سے حالات پر نظر رکھے ہو ئے ہیں اور دشمن کی کسی بھی حماقت آمیز حرکت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئیے تیار ہیں ۔ ڈاکٹر رمضان عبداللہ نے ایرانی قوم کی بصیرت اور بیداری کی تعریف کرتے ہوئے کہا : عصر حاضر میں ، اسلامی جمہوریہ ایران ہر اعتبار سے قوی اور بہتر پوزیشن میں ہے اور ہر کوئی ایران کے حق بجانب موقف پر فخر کرتا ہے اور حق یقینا کامیاب ہو گا (2/9/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شہر قطیف کے شیعیان اہل بیت (ع) نے گذشتہ برسوں کی طرح امسال بھی ـ سعودی سیکورٹی فورسز اور انتہا پسند وہابیوں کے دباؤ اور دھونس دھمکی کے باوجود ـ اربعین حسینی کی مناسبت سے عزاداری اور سوگواری کا بھرپور اہتمام کیا اور عوام نے ان مراسمات میں بھرپور حصہ لیا۔ یہ مراسمات ایسے حال مین منعقد ہوئے جب پورے شہر کو سیاہ بینروں سے سجایا کیا گیا تھا و قطیف کی تمام دکانیں اربعین کی مناسبت سے بند تھیں۔ دوسری طرف سے موصولہ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکمرانوں کے شدید اقدامات اور بحرین سے سات سو سعودی زائرین کو کربلا جانی سے محروم کرنے کے باوجود قطیف شہر کے عزداران حسینی عراق پہنچے تھے اور کربلائے معلی میں زائرین و عزاداران سید الشہداء علیہ السلام کی خدمت میں مصروف نظر آئ (2/9/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر کمال الہلباوی نے العالم الہلباوی کی بات چیت کے اہم نکات درج ذیل ہیں: سعودی بادشاہ کی طرف سے انقلاب مصر کی مخالفت اور حسنی مبارک کی حمایت اور امریکہ سے رجوع کرکے مصر کے انقلاب کا راسته روکنے کے لئے شاہ عبداللہ کی درخواستوں اور سعودی مفتیوں کی طرف سے انقلاب مصر کو حرام قرار دیئس جانے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتس ہوئے اخوان المسملین کے بزرگ راہنما نے کہا: ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے اعلی وہابی مفتی شیخ عائض قرنی نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے ضمن میں انھوں نے مخالف فریق کے عدم برداشت اور شیعہ علماء کی توہین و تکفیر کے حوالے سے سعودی عرب کے وہابی مولویوں کے انتہاپسندانہ اقدامات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسلامی مذاہب کے درمیان پر امن بقائے باہمی کے سلسلے میں ایک منشور کی تدوین ہونی چاہئے جس میں مسلم مذاہب کے علماء کی توہین پر مکمل پابندی لگ سکے۔ انھوں نے "عبدالعزیز قومی ڈائیلاگ مرکز" کو تجویز دی ہے کہ اسلامی مذاہب کے اعلی پائے کے علماء، مفکرین اور اہم شخصیات کی موجودگی میں اس منشور کی تیاری کی منظوری دے دی۔ شیخ قرنی نے مخالف فریق کو برداشت نہ کرنے، توہین و لعن اور تکفیر کی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے مختلف مذاہب کے علماء اور مفکرین کے درمیان پرامن گفتگو کی ضرورت پر زور دیا۔ اس وہابی مفتی نے اپنے خطاب میں آیت اللہ سیستانی کے خلاف دارالحکومت ریاض کے امام جمعہ "محمد العریفی" کے توہین آمیز موقف کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: یہ نہایت باعث افسوس ہے کہ کوئی مسلم عالم دین صرف عقائد کے اختلاف کی بنا پر دوسرے عالم دین کی توہین کرے اور اپنے علم و دانش پر فخر کرتا پھرے۔ (2/7/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اربعین حسینی کی مناسبت سے ایک کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ زائرین اس وقت کربلا میں موجود ہیں اور شہر اور گرد و نواح میں وسیع حفاظتی انتظامات بھی ہوئے ہیں؛ تقریبا 30ہزار پولیس اور فوج کے اہلکار انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود دہشت گردوں نے آج سے دو روز قبل بھی ایک بم دھماکے میں 20 سے زائد افراد شہید کردیئےتھے جبکہ ڈیڑھ سو کے قریب زخمی بھی ہوئے تھے۔ گذشتہ پیر کے روز بھی ایک دہشت گرد عورت نے بغداد میں کربلا کی طرف جانے والے ایک قافلے کے بیچ خودکش دھماکہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 40 سے زائد زائرین شہید اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔اس وقت ایک کروڑ سے زائد عراقیوں کے علاوہ تقریبا 5 لاکھ زائرین بیرون ملک سے آئے ہوئے ہیں جو کربلا میں موجود ہرں جن میں دنیا کے مختلف ممالک کے باشندے نظر آرہے ہیں۔ دریں اثناء کمشنر کربلائے معلی نے کہا ہے کہ دھماکے شہر کے شمال میں واقع زرعی اراضی سے پھینکے گئے مارٹر گولوں کا نتیجہ تھے۔ کربلا کے اسپتال کے ذرائع نے کہا ہے کہ زخمیوں کی تعداد بھی 144 افراد تک پہنچی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں کربلا کے کمشنر عمل الدین الہر کے حوالی سے شہیدوں کی تعداد 27 اور زخمیوں کی تعداد دسیوں افراد بتائی گئی تھی۔ الہر نے کہا تھا کہ یہ حملے القاعدہ نے کئے ہیں اور القاعدہ کو اس سلسلے میں بعث پارٹی کے دہشت گردوں کی حمایت حاصل ہے۔ عراقی پولیس کے ایک اہلکار نے فرانس کی خبررساں ایجنسی کے نمائندے کو بتایا کہ دہشت گردوں نے زیارت اربعین پڑھنے کے بعد شہر سے واپس نکلنے والے زائرین کو نشانہ بنایا ہے۔ (2/7/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے مفتی اعظم شیخ «احمد بدرالدین حسون» نے کہا: میرا عقیدہ بھی ہے اور تمام اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کو تآکید بھی کرتا ہوں کہ یوم عاشور کا احترام محفوظ ہونا چاہئے اور اس یوم کا نیا ادراک سامنے آنا چاہئے۔ انھوں نے کہا: جو خون روز عاشورا زمین پر گرا ہے در حقیقت وہ خون اسلام کی راہ میں قربان ہوا ہے اور یہ دن اللہ تعالی کی فتح کا دن ہے اور اللہ تعالی اپنے دین کی مدد کرنے والوں کو کبھی بھی ذلیل نہیں کرتا۔ شام کے مفتی اعظم نے کہا: روز عاشور کا دو پہلوؤں سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے: امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے پہلے اور آپ (ع) کی شہادت کے بعد۔ (2/7/2010) مومنین کرام اگر آپ امام زمانہ(عج) کے موضوع پر مقالہ یا مضمون لکھنا چاہتے ہوں تو سایٹ کی طرف سے استقبال کیا جایے گا اور سایٹ کے مقالہ جات والے حصہ میں شایع کیا جایے گا. اس حوالے سے آپ اپنی فایل اس ای میل پر ارسال کرسکتے ہیں:saifi512@yahoo.com (2/7/2008)
ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صدرجناب احمدی نژاد نے کہاکہ کامیابی قریب ہے اورہم جتنا آگے کی سمت بڑھتے جائيں گے تسلط پسندانہ نظام کا زوال اتنی ہی تیزی سے انجام پائے گا انھوں نے کہاکہ آزاد وخودمختار اقوام اپنی کامیابی کی سمت آگے بڑھ رہی ہیں ۔ اس ملاقات میں حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بھی کہاکہ ہم پوری دقت کے ساتھ علاقے کی صورت حال پرنظررکھے ہوئے ہيں ۔ انھوں نے کہاکہ ہم صہیونی حکومت کے ہرطرح کے حملے کا سامنا اوردفاع کرنے کوتیارہيں انھوں نے کہاکہ صہیونی حکومت کی طرف سے جارحیت کی صورت میں اس کا منہ توڑجواب دیا جائے گا اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرڈاکٹراحمدی نژاد نے حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل سے بھی ملاقات میں کہاکہ حتمی کامیابی استقامت کی ہوگی جبکہ شکست دشمن کامقدر ہے۔ صدرمملکت ڈاکٹراحمدی نژاد نےدمشق میں تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل سمیت فلسطینی تنظیموں کے مختلف رہنماؤں سےملاقات میں کہاکہ تسلط پسندانہ نظام سقوط کے دہانے پر پہنچ چکاہے اوراس کی حالت، نزاع کے عالم میں ہاتھ پیرمارنےوالوں جیسی ہے۔صدرمملکت ڈاکٹر احمدی نژاد کہاکہ نےاس کےباوجود صیہونیوں کی جانب سے اپنے وجود کوبچانے کےلئے مہم جوئی جاری ہے ۔ صدرڈاکٹر احمدی نژاد نے کہاکہ ملت ایران علاقے کی استقامت کےساتھ ہے اوراگرصیہونی اپنی غلطی دہرائیں گے تو انھیں پوری طرح تہس نہس کردیاجائے گا۔ (2/28/2010)
انھوں نے کہا: ممکن ہے کہ ہم علمی، صنعتی اور سائنسی ترقی کے ذریعے دنیا والوں کے سامنے اسلام کا چہرہ نہایت مقتدر اور طاقتور ثابت کرکے دکھا سکیں مگر ملت ایران کی کوششوں کا بنیادی ماحصل اور ثمرہ سیرت اہل بیت (ع) پر مبنی نظام ہے جو 1400 سال بعد اس ملک میں اس ملک میں باضابطہ طور پر قائم ہوچکا ہے اور نظام کے تمام ادارے اسے نظام کی بنیاد پر تشکیل پائے ہیں (2/28/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابقطالبان دہشت گردوں کی یہ دہشت گردانہ کاروائی علاقے میں جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑکانے کی غرض سے کی گئی ہے کیونکہ سرحد پار افغانستان پر قابض نیٹو افواج اس علاقے میں جنگ جاری رکھنے کی خواہاں ہیں اور اس علاقے میں امن و امان کے قیام سے ہرگز متفق نہیں ہیں۔افغانستان میں سمندرپار کی قابض فوجیں کرم ایجنسی سے ملحقہ 470 کلومیٹر کی سرحدی پٹی کے امن و امان کو کرم ایجنسی میں ناامنی اور جنگ و خونریزی پر منحصر سمجھتی ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگر تین سال سے کشت و خون کے گواہ اس جنت نظیر خطے میں امن اور صلح و آشتی بحال ہوجائے تو لوگوں کی آمد و رفت بھی بحال ہوجائے گی اور نیٹو و امریکہ مخالف گروہ بھی سرحدوں پر سرگرم ہوجائیں گے چنانچہ وہ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے اس علاقے میں جنگ جاری رکھنا چاہتی ہیں اور جمعرات کے روز ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی کا نیٹو اور امریکہ کے ان اہداف و مقاصد سے بھی تعلق ہوسکتا ہے کیونکہ اس جنگ کا فائدہ صرف اور صرف امریکہ اور نیٹو کو مل رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پاراچنار کی نئی ناکہ بندی کا جنوری 2009 سے شروع ہوئی تھی جو ایک سال تک جاری رہی اور اس سال محرم میں علاقے کے عوام کے زبردست دباؤ کے نتیجے میں قومی شاہراہ کھول دی گئی گوکہ آمد و رفت ایف سی کی نگرانی میں ہوتی تھی اور شیعہ مسافرین کو ـ جو بچوں، عورتوں، بیمار افراد پر مشتمل ہوتے تھے ـ قافلوں کی صورت میں پشاور لے جایا جاتا اور لوٹایا جاتا تھا مگر یہ سلسلہ بھی گذشتہ منگل کے روز کوہاٹ کے نواح میں نصرت خیل نامی گاؤں میں موجود دہشت گردوں نے بند کردیا۔ انھوں نے راستہ بند کردیا اور ایف سی، پولیس اور اعلی حکام راستہ نہ کھلوانے میں تاحال ناکام ہیں۔گویا یہ طالبان دہشت گردوں کی طرف سے حکومت کے ان دعؤوں کی عملی تردید تھی کہ طالبان بیت اللہ اور حکیم اللہ کی ہلاکت کے بعد کمزور پڑ گئے ہیں کیونکہ طالبان دہشت گردوں نے اس مقام پر حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نام نہاد قومی شاہراہ کا امن چیلنج کیا اور شیعہ مسافرین کو 9 گھنٹے بے پناہ رہنے کے بعد ـ پاراچنار روانہ کئے جانے کی بجائے پشاور واپس کردیا گیا اور یوں تین سال قبل ربیع الاول 1428 ( بمطابق اپریل 2007) سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کا ایک بار پھر آغاز کردیا گیا۔ (2/27/2010) علمائے لبنان تنظيم كی تنظيم كے سربراہ شيخ احمد الزين نے كہا ہے كہ امت مسلمہ كے درميان اتحاد ووحدت كو جامہ عمل پہنانے كے لیے طويل المدت منصوبہ بندی اور آيت اللہ العظمی سيد علی خامنہ جيسے رہبر كی ضرورت ہے۔ بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق چوبيسيویں انٹرنيشنل وحدت كانفرنس میں شريك ممتاز لبنانی عالم دين شيخ احمد الزين نے ايكنا كے نمائندے كے ساتھ خصوسی گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ امت مسلمہ كو متحد كرنے كے لیے سياسی، اقتصادی، سماجی اور ديگر شعبوں كے ماہرين كے كميشن تشكيل ديئے جائیں اور پھر ان كی تجاويز كی روشنی میں امت مسلمہ كے اتحاد كی جانب قدم بڑھائے جائیں۔ انہوں نے كہا كہ اتحاد كی جانب قدم نہايت عالمانہ انداز میں اور سوچ سمجھ كر اٹھائے جائیں اور رہبر انقلاب آيت اللہ العظمی سيد علی خامنہ ای جيسی شخصيت كی قيادت میں یہ سفر طے كيا جائے۔ (2/26/2011) ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق بحرين کے اہم اور سينئر راہنما "آيت اللہ شيخ عيسي قاسم" نے منامہ کي نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بحرين کے حکام کے ہاتھوں عوام کے قتل عام پر شديد رد عمل کا اظہار کيا ہے۔ شيخ عيسي قاسم کي تقرير کے اہم ترين نکات: * ميں ميدان اللؤلؤة کي قتلگاہ ميں بحريني شہريوں کي شہادت کے سلسلے ميں تمام مظلوم عرب اقوام اور پوري امت اسلامي کو تعزيت پيش کرتا ہوں۔ يہ افراد انساني کرامت کي حفاظت کے سلسلے ميں ظلم و جبر کے مقابل مزاحمت و استقامت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔ * ان لوگوں، ان بوڑھوں، ان بچوں اور ان خواتين اور شيرخوار بچوں کي شہادت کا سبب کيا تھا؟ يہ بے گناہ افرد کيوں قتل کئے گئے جو نہايت پرامن انداز سے زمين پر بيٹھے يا ليٹے ہوئے تھے اور انہيں رات کي آخري پہر ميں گھيرے ميں ليا گيا اور مسلحانہ يلغار کا نشانہ بنائے گئے تا کہ ہولناک قتل عام وقوع پذير ہو اور پاک خون کي ندياں جاري ہوجائيں۔ * ان الميوں کي تمام تر ذمہ داري حکومت پر ہے۔ يہ حملے کن لوگوں کي جانب سے ہوئے؟ ايسي حکومت کي جانب سے ہوئي جو شہريوں کي حفاظت اور ان کي ديکہ بھال کي ذمہ دار ہے اور لوگوں کي جان و مال اور امن و امان کي محافظ ہے۔ يہ حملہ کيوں ہوا؟ اس لئے ہوا کہ لوگ فرياد کررہے تھے کہ يہ ظلم کيوں ہے؟ کيونکہ وہ استغاثہ کررہے تھے اور حق و کرامت کا مطالبہ کررہے تھے۔ * حکمرانوں نے ارادي طور پر يہ المناک اقدام کيا، يہ قتلگاہ سہوي اور غير ارادي طور پر معرض وجود ميں نہيں آئي يہ عمداً اور ارادتاً معرض وجود ميں لائي گئي اور تمام شواہد اور قرائن بھي گواہي دے رہے ہيں کہ يہ کاروائي لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے نہيں تھي بلکہ انہيں قتل کرنے کے لئے تھي، دھرنے کو تھس نہس کرنے اور عوام کو قلع قمع کرنے کے لئے تھي اور اس کا مقصد عوام کو خوفزدہ کرنا اور حکومت کي قسي القلبي کا ثبوت فراہم کرنا تھا۔ * تشدد اصلاح اور حالات کو سدھارنے کا وسيلہ نہيں ہے کيونکہ اتنے طويل عرصے سے اس حکومت نے تشدد کا راستہ اپنايا ہوا ہے اور اگر تشدد آميز اقدامات لوگوں کو خاموش کرنے ميں مؤثر ہوتے تو اس کے يہ طويل المدت تشدد آميز اقدامات کسي نتيجے پر پہنچ چکے ہوتے۔ ليکن حقيقت يہ ہے کہ ان اقدامات کا کوئي فائدہ نہيں ہے اور ان اقدامات کے ذريعے اقوام کو خاموش نہيں کيا جاسکتا۔ * ان مظالم و جرائم اور ان تشدد آميز اقدامات سے زيادہ بري اور بھونڈي وہ وسيع تشہيراتي مہم ہے جس کے ذريعے کوشش کي جارہي ہے کہ ملک ميں فرقہ وارانہ اور مذہبي دشمنيوں کي بنياد رکھي جائے اور بحريني عوام کو دو گروہوں ميں تقسيم کيا جائے ليکن بحريني عوام اس سے کہيں زيادہ ہوشيار، زيرک اور با کياست ہيں کہ ان خبيث پروپيگنڈوں سے متأثر ہوجائيں۔ ہم تمام دنيا والوں، اقوام متحدہ، انساني حقوق کي تنظيموں اور انساني ضميروں کو بتانا چاہتے ہيں کہ: ہميں ہماري حکومت نے دوراہے پر لاکھڑا کيا ہے: ايک راستہ يہ ہے کہ ظلم و جور کے سامنے سر تسليم خم کريں اور اپنے گلے ميں غلامي کا طوق ڈال ديں اور دوسرا راستہ يہ ہے کہ ہميں فرقہ واريت کي بنياد پر قربان کيا جائے اور ہميں قتلگاہوں ميں لے جايا جائے اور يکے بعد ديگرے قربانگاہوں ميں منتقل کيا جائے جبکہ اس تمام صورت حال کي ذمہ داري دنيا والوں پر عائد ہوتي ہے۔ آيت اللہ شيخ عيسي قاسم نے آخر ميں بحريني نمازگزاروں سے مخاطب ہوکر کہا: * ايہا المؤمنون! ايک دوسرے کو فرقہ واريت کي بنياد پر قتل مت کيا کرو؛ وحدت کا تحفظ کرو، حبل اللہ المتين کا دامن تھامو کيونکہ اتحاد صرف حبل اللہ سے تمسک کرکے ہي حاصل کيا جاسکتا ہے۔ شيخ عيسي قاسم کے خطبوں کے دوران کئي بار "هيهات مناالذلة" (دور باد ہم سے ذلت)، "الله اکبر"، "النصر للاسلام" (کاميابي اسلام ہي لئے ہے)، "اخوان الشيعة والسنة هذاالوطن ما نبيعه" (شيعہ و سني بھائي ہيں اور ہم اپنا وطن نہيں بيچ رہے)، "لن نرکعَ الا لله" خدا کے سوا کسي کے سامنے نہيں جھکيں گے)، اور "بالروح بالدم نفديك يا بحرين" (اپني روح اور اپنے خون سے تيري راہ ميں قربان ہونگے اے بحرين) جيسے نعرے لگائے گئے۔ (2/20/2011) ![]() آیت اللہ احمد جنتی نے تہران میں نمازجمعہ کےدوسرے خطبے میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ یعنی عشرہ فجرکی آمد کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی انھوں نے کہاکہ یہ کامیابی وہ ہے جس نے ہماری عوام کو استبداد وظلم سے نجات دلائی ۔انھوں نے کہاکہ امام خمینی رحمۃ اللہ نے اس انقلاب کوبرپا کرکے العلماء ورثۃ الانبیاء کا خود کومصداق قراردیا وہ کارنامہ انجام دیا جواس وقت دنیا کے لئے ناقابل یقین تھا ۔ آیت اللہ احمد جنتی نے کہا کہ موجودہ دورمیں امام خمینی رحمۃ اللہ نے اسلام کوحیات نوعطاکی اور ایک ایسے وقت جب اسلام کوایک کہنہ اورپرانی شئی کے عنوان سے متعارف کرایا جارہا تھا اورمسجدیں اورمذہبی مقامات خالی ہورہے تھے اورحتی لوگ خود کومسلمان کہتے ہوئے بھی شرماتے تھےایسے میں امام خمینی رحمۃ اللہ نے اسلامی انقلاب برپا کرکے اسلام کی حقیقی تصویردنیا کے سامنے پیش کی ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ نے اس نظریہ کوباطل قراردیا کہ یا تومشرقی بلاک سےوابستہ رہ کرزندگی گذاری جاسکتی ہے یا پھرمغربی بلاک سے وابستہ رہ کرزندہ رہا جاسکتا ہے بلکہ انھوں نےنہ شرقی ونہ غربی کانعرہ بلند کرکے دنیا پریہ ثابت کردیا ہے کہ اسلام وہ دین ہے جواپنے پیروں کھڑے ہوکراوراپنی جاودانی تعلیمات پرتکیہ کرکے امورمملکت بہت ہی اچھے طریقےسے چلاسکتا ہے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ امام خمینی رحمۃ اللہ نے لوگوں میں خوداعتمادی پیدا کی اوریہ باورکرایا کہ وہ بھی ترقی وپیشرفت کرسکتے ہيں اور اس چیزکودنیا پرثابت بھی کیا۔ انھوں نے ایرانی عوام کویہ باورکرایا کہ اپنی مملکت اورملک کے مالک خودآپ ہيں ۔اورآج دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایران کے عوام نے اپنے اندرخوداعتمادی پیدا کرکے تمام میدانوں میں کتنی زیادہ ترقی کی ہے ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ نے ایک نئی اسلامی حکومت کاماڈل پوری دنیا خاص طورپرعالم اسلام کے سامنے پیش کیا مگرافسوس کہ اسلامی ملکوں نے ابھی تک اس بات کوقبول نہیں کیا اگرچہ اپنے اندرخوداعتماد پیداکرنے کا پیغام ایک بہت ہی اہم اورتقدیرسازپیغام تھا ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ نے حکومت کوملوکیت سے نکال کرعوام کی ملکیت میں دے دیا اورجس طرح انھوں نے حکومت کا طرزپیش کیا وہ آج دنیا کے لئے مثال بن سکتا ہے ۔کیونکہ انھوں نے عوام کے سامنے خود کوعوام کا خادم قراردیا تھا اوردلوں پرحکومت کی تھی ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ جوبھی امام خمینی رحمۃ اللہ کی زندگی اوران کے ارتحال کے بعد ان کی سادہ زندگی دیکھنےآیا وہ انگشت بدنداں رہ گیا ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ نے عوام کے اندراس قدرشعوروبیداری پیدا کردی تھی کہ آج تیس سال کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی عوام دشمن کے ہرطرح کے منصوبوں کوناکام بنارہے ہيں بنابریں امام خمینی رحمۃ اللہ آج بھی ہمارے لئے زندہ ہیں کیونکہ ان کے افکارونظریات زندہ ہيں ۔ (2/2/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی پولیس آفیسرز ایسوسی ایشن کے سربراہ کرنل رچرڈ فئیرلی نے اپنے قبول اسلام کی کیفیت کے بارے میں کہا: تجسس اور دین اسلام کی محبت کی وجہ سے میں نے قرآن مجید کھولا تو میری نظر سورہ نبأ کی آیت "والجبال اوتاداً" پر پڑی اور میں نے ایک ماہر امور ارضی (جیالوجست) کی حیثیت سے اپنی تمام معلومات کا اس آیت سے موازنہ کیا جس کے بعد میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ یہ کیونکر ممکن ہی کہ کوئی فرد آج سے 14 صدیاں قبل اس حقیقت کا ادراک کرسکے ؟ سوائے اس کے کہ وہ کسی ماورائی طاقت سے لیس ہو۔ کرنل رچرڈ فئیرلی نے اس حقیقت سے آگہی حاصل کرنے کے بعد سنہ 2000 میں پولیس آفیسرز ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی تا کہ برطانیہ کی 34 ریاستوں میں مصروف عمل 2000 مسلم پولیس افسروں کو منظم کیا جاسکے۔ فئیرلی نے کہا: یہ انجمن افسروں کی آواز ذمہ دار اہلکاروں کی سماعت تک پہنچانے میں بہترین کردار کررہی ہے تا کہ اعلی اہلکارضروری مواقع پر بہتر فیصلے کرسکیں۔ انھوں نے کہا: ہماری انجمن نے مسلم خواتین افسروں کے لئے مناسب لباس زیب تن کرنے اور مسلم افسروں کو نماز عید کی ادائیگی کے لئے ایک مناسب مقام کی تعیین کے لئے کوشش کی تھی اور یہ کوششیں بارآور ثابت ہوئی ہیں اور دونوں درخواستوں پر مطلوبہ احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ کرنل رچرڈ فئیرلی آج سے 10 سال قبل مسلمان ہوگئے تھے اور اس وقت سے اب تک برطانوی مسلم پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں (2/2/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق 1977 کو شیعہ اکثریتی شہر "الاحساء" دنیائے فانی میں قدم رکھنے والی سعودی مؤلفہ "بلقیس الملحم" حال ہی میں اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوگئیں۔اخبارات اور ویب سائٹوں نے مقتولہ کے قتل کے واقعے کو کوریج دیتے ہوئے مختلف سرخیاں لگائیں۔ کسی نے لکھا کہ وہ شیعہ مذہب کی نسبت نرم گوشہ رکھنے کے جرم میں قتل ہوئیں، کسی نے لکھا کہ وہ سید حسن نصراللہ سے متأثر تھیں اور کسی نے لکھا کہ انھوں نے سعودی عرب کے مظلوم شیعیان اہل بیت (ع) کی حمایت کی تھی اور کسی نے لکھا کہ وہ قلباً شیعہ ہوگئی تھیں چنانچہ اپنے وہابی انتہاپسند بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں اور ایک چچازاد بھائی نے بھی ان کے بھائیوں کے ساتھ تعاون کرکے ان کے قتل کو طبعی موت ظاہر کرنے میں مدد دی تھی۔ سعودی پولیس نے بھی ابتداء میں ان کی موت کو طبعی ظاہر کرنے کی کوشش کی مگر مقتولہ کی بچیوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ماموں ان کی والدہ کے قتل میں ملوث ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مقتولہ وہابی مخالف مذاہب کی نسبت نرم گوشہ رکھتی تھیں اور یہی بات ان کے قتل کا باعث بنی ہے۔ مرحومہ آج سے چند ماہ قبل قتل ہوگئی تھیں اور ان کے قتل کی حقیقت حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ انھوں نے 5 بچے اور بچیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ مرحومہ کا ایک چچا زاد بھائی الہفوف شہر کے ملک فہد اسپتال کا سربراہ ہے جس نے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتولہ طبعی موت مری ہیں۔ مذکورہ شخص بھی اس وقت زیر حراست ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے۔ یہ سب باتیں مقتولہ کے قریبیوں کے ذریعے سامنے آئی ہیں جبکہ سرکاری اہلکاروں نے ان کے بارے میں اظہار خیال کرنے سے گریز کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مقتولہ کے دونوں بھائی سعودی آئل کمپنی آرامکو میں ملازم ہیں۔ مقتولہ ملک فیصل یونیورسٹی سے اسلامی تحقیقات کے مضمون میں فارغ التحصیل ہوئی تھیں اور ایک پرائمری سکول میں استانی تھیں اور ساتھ ساتھ شعر و ادب کی دنیا سے منسلک تھیں اور مضمون بھی لکھا کرتی تھیں۔ وہ شیعہ اکثریتی علاقے میں رہائش کی وجہ سے اہل تشیع کی محرومیوں سے بخوبی آگاہ تھیں اسی وجہ سے اپنے مضامین میں ان کے حق میں بھی آواز اٹھایا کرتی تھیں اور انھوں نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ان کی بیٹی سید حسن نصر اللہ کی شیدائی ہے۔ ان کے یہ مضامین وہابی انتہاپسندی کی شدید تنقید کا نشانہ بنتے تھے مگر انھوں نے اپنا قلم اپنے ضمیر کی خدمت میں ہی رکھا۔ انھوں نے اہل تشیع پر سعودی حکمرانوں کے مظالم پر تنقید کی تو ان پر مذہب تبدیل کرنے اور شیعہ مذہب اختیار کرنے کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے ان کے شوہر نے ان سی جدائی اختیار کرلی۔ مقتولہ کا چھوٹا بھائی عبدالرحیم الملحم دہشت گرد تنظیم "القاعدہ" کا رکن ہے اور اس نے عراق میں جاکر عراقی شہریوں کو خاک و خون میں نہلایا ہے جس کی وجہ سے وہ عراقی جیل میں ہے اور عراقی ٹیلی ویژن پر اس کے اعترافات بھی نشر کئے گئے ہیں۔ متعدد کتابوں کی مؤلفہ مقتولہ بلقیس نے عراق کے عوام کے بارے میں بھی کتاب لکھی تھی جس میں انھوں نے عراقی عوام کی مظلومیت کا ذکر کیا تھا جس پر انہیں بیروت یونیورسٹی سے عرب دنیا کا ادبی انعام بھی ملا تھا اور یہ وہابی دنیا میں ان کا دوسرا بڑا جرم تھا۔ ان کی ایک کتاب کا نام "كلمۃ حق: ابنتي معجبة بنصر اللہ" ہے۔ اس کتاب میں اسلامی تربیت اور قرآنی منہج بالکل واضح ہے؛ یہ کتاب قارئین پر عقل کے راستے کھول دیتی ہے اور تکفیر کو رد کردیتی ہے۔ شہیدہ قلم کے قتل کی روداد مقتولہ کا ایک لڑکا جس کی عمر سترہ برس ہے، نے پولیس کو بتایا: میرے ماموں اس روز ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور میری والدہ کو جنونی کیفییت میں مارنا پیٹنا شروع کیا اور میری والدہ مکوں اور لاتوں کا نشانہ بنتی رہیں اور اسی حال میں جام شہادت نوش کرگئیں اور میری والدہ کا جرم صرف یہ تھا کہ ان کی فکر اور سوچ بالکل آزاد تھی اور میرے نانا کے گھرانے کی مانند نہیں سوچتی تھیں چنانچہ انہیں سوچ کے اختلاف اور آزادی فکر کے جرم میں قتل کیا گیا۔ بچے نے مزید کہا کہ میری والدہ کا جسد خاکی فوری طور پر الہفوف میں واقع ملک فہد اسپتال منتقل کیا گیا جہاں میری والدہ کے چچازاد بھائی سے پہلے سے ہی معاملہ طی کیا گیا تھا اور اس نے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ فوری طور پر جاری کیا اور تأکید کی کہ مقتولہ طبعی موت کے نتیجے میں دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں جس کے بعد اس مرحومہ شہیدہ کی فوری طور پر تدفین کی گئی اور ان کے قتل پر پردہ پڑ گیا۔ لڑکے نے پولیس کو بتایا: میری والدہ صحیح و سالم تھیں اور وہ طبعی موت نہیں مریں بلکہ میرے ماموں ان کے قاتل ہیں اور اس کے بعد ان کا کیس دوبارہ فعال ہوا اور پولیس نے تفتیش کے نتائج احساء کے گورنر کے دفتر میں ارسال کئے ہیں۔ یادرہے کہ الاحساء کا گورنر وہابی تعصبات کا پیکر تصور کیا جاتا ہے اور مقتولہ کے کیس میں بھی اس کی دلچسپی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی گو کہ اس کیس نے اب بین الاقوامی شکل اختیار کی ہے اور عرب دنیا کے تمام ادباء بھی اس کیس میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ (2/16/2010) ا وہ مہدوی حکومت کے منتظرین کو تین دستوں میں تقسیم کرتے ہویے واضح کرتے ہیں کہ یہ تینوں گروہ عزداران امام حسین علیہ السلام میں موجود ہیں۔ (2/15/2009)ماہ ربیع الاول میں جہاں امام عسکری کی دلسوز شہادت کا غم ہے وہاں امام عصر عجل اللہ کی تاجپوشی ولایت کی بے پناہ خوشی بھی ہے ۔ بہت سے امام زمان عجل اللہ کے شیعوں اور عاشقوں کے دلوں میں انکے انتطار کی تڑپ کے ساتھ ساتھ یہ سوال ہے کہ ہم ان کے وجود پرنور سے کیسے فیض لیں ؟قابل توجہ بات یہ ھے کہ جب امام مھدی علیہ السلام سے آپ کی غیبت کے زمانہ میں فیضیاب ھونے کے طریقہ کار کے بارے میں سوال کیا جاتا ھے تو آپ فرماتے ھیں: ”وَ اٴمَّا وَجہُ الإنْتِفَاعِ بِی فِی غَیْبَتِی فَکا الإنْتِفَاعِ بِالشَّمْسِ إذَا غَیَّبَتْہَا عَنِ الاٴبْصَارِ السَّحَابَ“۔(احتجاج، ج۲، ش ۳۴۴، ص ۵۴۲۔) ”میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے مستفید ھونا اسی طرح ھے جس طرح سورج سے فائدہ اٹھایا جاتا ھے جبکہ وہ بادلوں میں چھپ جاتا ھے“۔ امام مھدی علیہ السلام نے اپنی مثال سورج جیسی اور اپنی غیبت کی مثال بادلوں کے پیچھے چھپے سورج کی دی ھے جس میں بھت سے نکات پائے جاتے ھیں لہٰذاھم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ھیں: سورج ، نظام شمسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ھے اور دوسرے سیارے اس کے گرد حرکت کرتے ھیں ، اسی طرح امام عصر علیہ السلام کا وجود گرامی بھی کائنات کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ھے۔ ”بِبَقَائِہِ بَقِیَتِ الدُّنْیَا وَ بِیُمْنِہِ رُزِقَ الوَریٰ وَ بِوُجُوْدِہِ ثَبَتَتِ الاٴرْضُ وَ السَّمَاءُ“۔(مفاتیح الجنان، دعای عدیلہ) ”اس (امام) کی وجہ سے دنیا باقی ھے، اور اس کے وجود کی برکت سے کائنات کے ھر موجود کو روزی ملتی ھے اور اس کے وجود کی خاطر زمین اور آسمان مستحکم طور پر باقی ھیں“۔ سورج ایک لمحہ کے لئے بھی نور افشانی میں کنجوسی نھیں کرتا، اور ھر چیز اپنے رابطہ کے لحاظ سے سورج کے نور سے فیضیاب ھوتی ھے۔ چنانچہ حضرت ولی عصر علیہ السلام کا وجود بھی تمام مادّی اور معنوی نعمتوں کو حاصل کرنے میں واسطہ ھے، ھر شخص اس مرکز کمالات سے اپنے رابطہ کے مطابق مستفیض ھوتا ھے۔ اگر یہ سورج بادلوں کے پیچھے بھی نہ رھے تو پھر اس قدر ٹھنڈک اور اندھیرا ھوجائے گا کہ کوئی بھی جاندار زمین پر نھیں رہ سکے گا۔ اسی طرح اگر یہ کائنات امام علیہ السلام کے وجود سے محروم ھوجائے (اگرچہ پردہ غیبت میں بھی نہ ھو) تو پھر مشکلات، پریشانیاں اور مختلف بلائیں انسانی زندگی کو آگے بڑھنے میں مانع ھو جائیں گی اور تمام موجودات کا خاتمہ ھوجائے گا۔ امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) شیخ مفید علیہ الرحمہ کو ایک خط لکھتے ھیں جس میں اپنے شیعوں سے خطاب فرماتے ھیں: ”اِنَّا غَیْرُ مُہْمِلِیْنَ لِمُرَاعَاتِکُمْ وَ لاٰ نَاسِیْنَ لِذِکْرِکُمْ وَ لَولٰا ذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُمُ اللاَّوَاءُ وَ اصْطَلَمَکُمُ الاٴعْدَاءُ“۔(احتجاج، ج۲، ش ۳۵۹، ص ۵۹۸) ”ھم تم کو ھرگز اپنے حال پر نھیں چھوڑتے، اور ھرگز تمھیں نھیں بھولتے، اگر (ھمیشہ ھماری توجہ) نہ ھوتی تو تم پر بھت سی سختیاں اور بلائیں نازل ھوتیں اور دشمن تم کو نیست و نابود کردیتے“۔ لہٰذا امام علیہ السلام کے وجود کا سورج پوری کائنات پر چمکتا ھے اور تمام موجودات تک فیض پہنچاتا ھے، اور ان تمام مخلوقات کے درمیان بشریت خصوصاً اسلامی معاشرہ ، شیعہ اور ان کے پیروکاروں تک مزید خیرو برکت پہنچاتا ھے. (2/13/2011) ابنا ـ نے شيعہ نيوز نيٹ ورکس کے حوالے سے رپورٹ دي ہے کہ تيونس کے ممتاز عالم دين علامہ سيد محمد تيجاني السماوي نے نظام ولايت فقيہ کو اسلام کا حقيقي سياسي نظام قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ ولايت فقيہ ولايت امام علي عليہ السلام کا تسلسل ہے۔ علامہ تيجاني اسلامي جمہوريہ ايران کے مقدس شہر قم ميں عيد مباہلہ کي مناسبت سے حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا ميں منعقدہ محفل ميں شيعيان اہلبيت (ع) کے عظيم اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ علامہ تيجاني سماوي نے کہا کہ کاش تمام مسلمان اس حقيقت کو جان ليتے کہ ولايت فقيہ ولايت اميرالمومنين امام علي عليہ السلام کا تسلسل ہے۔ انھوں نے کہا کہ دولت کريمہ کو عملي جامہ پہنانے کا عظيم کام صرف اور صرف ولي فقيہ کے زير سايہ متحد ہونے سے ہي ممکن ہے۔ نيز انھوں نے ولايت فقيہ کو مسلمانوں کيلئے عزت و افتخار کا سبب قرار ديتے ہوئے کہا کہ ولايت فقيہ اسلام دشمن عناصر کي سازشوں ميں سب سے بڑي رکاوٹ ہے۔ علامہ تيجاني السماوي نے زور ديتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ظہور امام مہدي عَجَّلَ اللہُ تعالي فَرَجَہُ الشريف ميں تعجيل کے خواہاں ہيں تو ہميں ولايت فقيہ کے پرچم تلے متحد ہونا چاہئے۔ انھوں نے نظام ولايت فقيہ کو تمام مسلمانوں کے اتحاد اور يگانگت کيلئے انتہائي ضروري قرار ديا۔ (12/5/2010) اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا نے ایران کی ادارہ حج و زیارت کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ "عراق پر چھ سالہ قبضے کے بعد جو نئی تشویش واشتگٹن کے حکام کو لاحق ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ کہیں ان کے بھیجے ہوئے فوجی دینی، ثقافتی اور سیاسی اعتقادات کے سلسلے میں مکتب تشیع سے متأثر نہ ہوجائیں". امریکی حکام کی یہ تشویش بے بنیاد بھی نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو امریکی سپاہی گذشتہ 6 برسوں سے عراق کے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں، عراقی عوام خاص طور پر اس ملک کی اکثریتی شیعہ آبادی کے دینی، ثقافتی اور سیاسی اعتقادات پر ان کی نگاہ کافی گہری ہے اور صورت حال یہ ہے کہ اب امریکی فوجی اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر حاضری دینے لگے ہیں. سپاہیوں سمیت کئی امریکی سینئر افسران بھی شیعیان عراق کے اعتقادات کے بارے میں تحقیق کرکے اس عظیم سوال کا سامنا کررہے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک امام کا روضہ دنیا کے مختلف گوشوں سے کروڑوں مسلمانوں کو کیونکر اتنے جوش و جذبے کے ساتھ اکٹھا کرسکتا ہے؟ عراق میں تعینات امریکی فوجی امریکہ میں اپنے خاندانوں کے لئے خط لکھتے ہوئے اہل تشیع کے مذہبی شعائر ـ خاص طور پر تاسوعا، عاشورا، اربعین حسینی، حضرت امام امیرالمؤمنین اور امام موسی کاظم علیہما السلام کی شہادت کے ایام ـ کا عقیدت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: یہ محض مذہبی اعتقادات نہیں بلکہ وہ اپنے اماموں کی شہادت کے ایام میں عزاداری کے دوران گریہ و زاری پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان کی راہ و روش پر گامزن ہونے کا عہد بھی کرتے ہیں اور ان کی راہ و روش میں سب سے اہم عنصر ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد ہے اور وہ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی اس کی تعلیم و تربیت دیتے ہیں. امریکی فوجیوں کی اہل تشیع کے اعتقادات کی طرف یہ خاص توجہ امریکی فوجی اور سیاسی حکام کی شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے. امریکی فوجیوں کے اس رجحان میں اضافے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہزاروں سنی مسلمان ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی ولادت اور شہادت کے ایام میں نذر و نیاز لے کر روضات مقدسہ پر حاضر ہوتے ہیں اور منتیں مان کر حاجتیں لیتے ہیں. اس رپورٹ کے مطابق آج تک 400 امریکی فوجیوں کے بارے میں منکشف ہوا ہے کہ انہوں نے اہل تشیع کے بارے میں وسیع تحقیق کررکھی ہے اور یہ مذہب ان کے خیال میں ایک عظیم ظرفیت کا حامل ہے جو انسانی کے ذہنی تفکرات اور دنیاوی خواہشات کے دائرے سے برتر و بالاتر ہے. عراق میں جاری صورت حال کے تسلسل میں ہی بہت سے امریکی فوجیوں نے اسلام قبول کیا ہے اور وہ عراقی عوام کے ساتھ امریکیوں کے طرز سلوک برملا تنقید کرتے ہیں. امریکی فوجیوں کے متأثرکن خطوط کو ایک کتاب کی شکل میں اکٹھا کردیا گیا ہے اور اگر یہ کتاب امریکہ میں اشاعت کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو یقینی طور پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالم میں اس کے دور رس اثرات کسی سے بھی مخفی نہ رہ سکیں گے. (12/3/2009) ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق مدينہ منورہ ميں گذشتہ ہفتے کي شب سعودي سيکورٹي والوں نے متعدد شيعہ باشندوں کي گرفتاري کا سلسلہ شروع کيا جن کي تعداد اب 50 تک پہنچ گئي ہے۔ يہ گذشتہ بدھ کے روز کا واقعہ ہے جب مدينہ منورہ کے نواح ميں العصبہ نامي قصبے کے سينکڑوں انتہاپسند وہابيوں نے قريبي قصبے "قبا" ميں اہل تشيع کو عاشورا کے جلسے جلوسوں ميں خلل ڈالنے کي غرض سے اس علاقے پر ہلہ بول ديا اور پہنچتے ہي ڈنڈوں اور سنگ و خشت سے عزاداران سيدالشہداء نواسۂ رسول (ص) امام حسين (ع) پر حملہ آور ہوئے۔ جب وہابيوں نے حملہ کيا تو پوليس کي بھاري نفري موجود تھي اور کسي بھي حملے کا راستہ روکنے کے لئے ہر قسم کے وسائل بھي موجود تھے تاہم سرکاري فورسز نے گويا پيشگي ہدايات کے مطابق غير جانبدار تماشائيوں کا کردار ادا کيا اور وہابي درندوں کو فري ہينڈ ديا۔ لڑائي ہوچکي اور وہابيوں نے اپنے ہتھيار استعمال کئے اور جب ڈنڈے بھي ختم ہوئے اور درندے بھي تھک گئے تو وہابي پوليس نے مداخلت کا فيصلہ کيا اور مداخلت يوں کي کہ "38 شيعہ عزادار اور دس سے پندرہ تک حملہ آور گرفتار ہوکر جيلوں ميں محبوس کئے گئے!!!؟" شيعہ افراد کو بظاہر وہابيوں کے ڈنڈوں سے بچنے اور ان کے ڈنڈے چھين کر اپنا دفاع کرنے کے جرم ميں گرفتار کرليا گيا! (12/23/2010)
مہر خبررساں ایجنسی نے راصد چینل کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے شیعوں نے سعودی حکومت کی طرف سے شیعوں کے خلاف سخت اقدامات پر ناراضگی اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیعوں کے خلاف سعودی حکومت اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کے اقدامات ایک جیسے ہیں سعودی حکومت نے الخبر شہر میں شیعہ مسجدوں کو اسی طرح محاصر میں لے رکھا ہے جیسے اسرائیلی فلسطینیوں کو مسجدورں کو محاصر میں لے لیتے ہیں سعودی حکومت شیعوں کو مسجدوں میں نماز جمعہ پڑھنے سے روک رہی ہے جبکہ اسرائيلی بھی فلسطینیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں سعودی عرب کے شیعوں کا کہنا ہے کہ شیعوں کے ساتھ سعودی عرب حکومت کی رفتار بالکل فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی حکومت کی رفتار سے ملتی جلتی ہے۔ سعودی پولیس شیعوں کو نماز جمعہ پڑھنے سے منع کررہی ہے الخبر شہر میں 20 ہزار شیعہ زندگی بسر کررہے ہیں جو سعودی وہابی حکومت کے عتاب کا شکار ہیں۔
(12/16/2009)
![]() اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم کے سینکڑوں طلبہ و طالبات نے محرم الحرام کی آمد آمد پر تبلیغی دورے پر جانے سے قبل انقلاب اسلامی کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ مد ظلہ العالی سے ملاقات کی. اس ملاقات میں حوزہ علمیہ کے بعض اعلی پائے کے علماء اور سینئر اساتذہ بھی موجود تھے. ![]() اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی بدنام زمانہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر پولیس نے تین شیعہ زائرین کو جنت البقیع کی زیارت کرتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے۔ الحرمین نیوز ویب سائٹ کے مطابق مدینہ منورہ کے مقامی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ گرفتار ہونے والے شیعہ زائرین میں العوامیہ کے رہنے والے 29 سالہ ڈاکٹر موسی جعفر الزاہر، قطیف کے رہنے والے عباس الجنوبی اور ام الحمام کے رہنے والے حسین عبداللطیف شامل ہیں جنہیں پیر کے روز گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔ مذکورہ نیوز ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ اس دوران بقیع کے دیگر زائرین کو بھی سعودی پولیس اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر پولیس کی طرف سے نہایت شدید ناروا برتاؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس وہابی پولیس نے حالیہ ہفتے کے دوران تاجیکستان کے ایک شیعہ زائر اور عراق کے شہر دیالہ کی عدالت کے ایک جج کو حراست میں لیا ہے۔ واضح رہے کہ ان شیعہ زائرین کا سب سے بڑا جرم اپنے آئمہ معصومین علیہم السلام کی قبور مبارک کی زیارت تھا ۔ (12/13/2009)![]() اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آيت اللہ العظمی صافي گلپايگاني نے صوبہ قم کے "غدیر اسٹاف" نامی تنظیم کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: غدیر کے معارف ترویج اور امیرالمؤمنین (ع) کے تعارف کے سلسلے میں ہونے والی تمام تقریبات قابل قدر ہیں خاص طور پر اگر یہ تقریبات بیرونی ممالک میں ہوں تو ان کی قدر وقیمت میں اضافہ ہوگا اور مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ وسیع سے وسیعتر ہو. انھوں نے کہا کہ دنیا کے ہر گوشے میں رہنے والے پیروان اہل بیت (ع) کا فرض ہے کہ وہ غدیر کی تعظیم و تکریم کا اہتمام کریں لیکن تشیع اور ولایت اہل بیت (ع) کے حوالے سے شہر قم کے پس منظر، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کی موجودگی اور حوزہ علمیہ کے حوالے سے قم مقدسہ بعض ممتاز خصوصیات کا حامل ہے جن کی بنا پر ضروری ہے کہ اس شہر میں منعقد ہونے والی تقریبات اور دینی مراسمات دوسروں کے لئے نمونۂ عمل ہوں. موصوف نے قم میں غدیر اسٹاف کی تشکیل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: قم میں ایام ذی الحجة الحرام اور (عیدالاضحی سے عید غدیر تک) عشرہ غدیر کی تقریبات کے اہتمام کے لئے اس طرح کے ادارے کی تشکیل کی ضرورت تھی تا کہ سال کے دیگر ایام کے دوران غدیر کے موضوع پر کام کرے اور عشرہ غدیر کی تقریبات شایان شان انداز سے منعقد ہوسکیں. مرجع تقلید شیعیان نے کہا: اگر کسی کو دنیا میں جینے کا موقع ملے اور وہ تمام اعمال صالحہ کو بخوبی انجام دے اور تمام انبیاء عظام علیہم السلام سے محبت کرے مگر امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت سے محروم ہو تو روز قیامت اسے اپنے کسی بھی عمل کا فائدہ نہ ملے گا کیونکہ اعمال کی قبولیت کی شرط لازم امیرالمؤمنین اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کی ولایت ہے؛ اور دنیا اور آخرت کی سعادت ان ہی کے واسطے ملتی ہیں اور اگر کوئی معاشرہ سعادت و خوشبختی کا خواہاں ہے تو سعادت کا راستہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا اور آخرت کے معاملات میں اقتدا اور پیروی کے لئے حضرت علی علیہ السلام سے بہتر و برتر کوئی بھی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: خدا پر ایمان، جہاد، زہد اور علم ایسی چار صفتیں ہیں جو مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق کسی شخص میں مجتمع ہوجائیں تو وہ فضیلت کے لحاظ سے تمام اصحاب پیغمبر (ص) سے افضل و برتر ہوگا اور امیرالمؤمنین علیہ السلام ان صفات کا اعلی ترین مظہر ہیں اور ہمیں کسی بھی دوسرے شخص میں ان صفات کا عروج نظر نہیں آتا اور ہم دیکھتے ہیں کہ غیر مسلم بھی اس حقیقت کے معترف ہیں. آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے کہا: دنیا کی خلقت انسانی معاشروں کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے وجود مبارک سے وابستہ گردانتی ہے؛ امیرالمؤمنین (ع) کا پورا وجود عظمت ہے اور آپ کی عظمت اور فضائل کی کوئی انتہا نہیں ہے اور آپ (ع) کے وجود مبارک کے مختلف جہتوں اور پہلؤوں نے آپ (ع) کو یہ موقع فراہم کیا ہی کہ اپ (ع) رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد عالم امکان اور مخلوقات الہیہ کا شخص اول قرار پائے ہیں. انھوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو تمام اوصاف و خصوصیات میں انسانیت کی ترقی اور کمال کے لئے مثالی نمونہ قرار دیا اور کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو دنیا والوں سے متعارف کرانا عظیم ترین خدمت اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کا مکتب عظیم ترین الہی مکتب اور خیرات و برکات کا منبع ہے۔ (12/10/2009)![]() رہبر انقلاب اسلامی نے ملت ایران اور تمام مسلمانان عالم کو عید غدیر کی مبارک باد پیش کی اور عید غدیر کو "عید اللہ اکبر" سے موسوم کئے جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: واقعہ غدیر دیگر اسلامی عیدوں سے زیادہ گہرے مفاہیم کا حامل ہے کیونکہ اس نے الہی معیاروں کی بنیاد پر ہدایت و حکومت کے سلسلے میں مسلمانوں کے فریضے کو ہمیشہ کے لئے معین اور واضح کر دیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے واقعہ غدیر خم میں دین اسلام کے مکمل اور اس عظیم تاریخی واقعے کے بعد کفار کے مایوس ہونے کی سند دینے والی آيت قرآنی کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا: ولایت کا اعلان اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا پیغمبر اسلام کے جانشین کی حیثیت سے انتخاب در حقیقت اللہ تعالی کی جانب سے انجام پانے والا انتخاب تھا جس کا اعلان کرکے پیغمبر اسلام نے اپنی رسالت کی تکمیل کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے قرآن کریم کی متعدد آیتوں کے شان نزول اور معتبر اسلامی روایات کی روشنی میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو علم و تقوی، ایثار و انفاق، جہاد و جاں نثاری اور دیگر فضائل کے سلسلے میں تاریخ اسلام کی نمونہ اور منتخب ہستی قرار دیا اور تمام مسلمانوں کو ان حقائق کے مطالعے اور ان پر غور و خوض کی دعوت دی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے اتحاد پر اسلامی جمہوریہ ایران کی دائمی تاکید کا اعادہ کرتے ہوئے فرمایا: ہمارا ہرگز یہ اصرار نہیں ہے کہ اسلامی فرقوں میں کوئی فرقہ دوسرے فرقے کے عقائد و نظریات کو قبول کر لے لیکن ہماری منطقی درخواست یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان، ان حقائق پر غور و فکر کریں جو علامہ سید شرف الدین عاملی اور علامہ امینی جیسے ممتاز علمائے کرام نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے سلسلے میں پیش کئے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے پاک و پاکیزہ جوانی کے ایام کو جوانوں کے لئے نمونہ کامل قرار دیا اور دیگر طبقات کو بھی اس عظیم ہستی کے زندگی کے دیگر مراحل میں نظر آنے والے طرز عمل کو اپنانے کی دعوت دی۔ آپ نے مذہب تشیع کو وحی الہی اور معیار و اقدار قرآنی پر استوار صحیح و خالص عقائد کا حامل مذہب قرار دیا اور مذہب تشیع کو جعلی اور سیاسی مسئلہ قرار دینے کی تشہیراتی کوششوں اور افواہوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: واقعہ غدیر جو تاریخ اسلام کے مسلمہ اور متفق علیہ حقائق میں سے ایک ہے ان الزامات پر خط بطلان کھینچنے والا اور تشیع کی روح و بنیاد کا آئینہ دار ہے۔ (12/10/2009)![]() رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حج کے عظیم اجتماع کے نام اپنے پیغام میں حجاج کرام کو اس مبارک موقع سے حصول فیض اور فرائض کی شناخت کا فائدہ اٹھانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: آج امت اسلامی کا بنیادی فریضہ الفت، اخوت، باہمی رشتوں کا استحکام، استعمار کے متعدد چہروں والے دیو کے مد مقابل استقامت کی تقویت اور قول و فعل میں مشرکین سے برائت و بیزاری کا اظہار امت مسلمہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ اپنے پیغام میں مزید فرماتے ہیں: آج ہم واضح و آشکار طور پر دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام کے بدخواہوں کے ہاتھ ماضی سے کئی گنا زیادہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف افکنی اور تفرقہ اندازی میں مصروف عمل نظر آرہے ہیں چنانچہ یقینی امر ہے کہ امت مسلمہ کو آج گذشتہ ادوار سے کہیں زیادہ یکجہتی اور وحدت و یگانگت کی ضرورت ہے۔ آج دشمنوں کے خونی چنگل عالم اسلام کے کے ہر گوشے میں مسلمانوں کے لئے المیئوں کا سبب بن رہے ہیں؛ فلسطین صہیونیوں کی خباثت کے زیر تسلط ہے؛ مسجد الاقصی سنجیدہ خطرات میں گھری ہوئی ہے؛ غزہ کے عوام المناک نسل کشی کے بعد سے اب تک دشوار ترین حالات سے گذر رہے ہیں؛ افغانستان قابضین کے بوٹوں تلے ہر روز ایک نئی مصیبت سے دوچار ہے؛ عراق میں امن و امان کے فقدان نے لوگوں کا سکون و اطمینان چھین لیا ہے؛ اور یمن میں برادرکشی نے مسلمانوں کے قلب پر ایک نیا داغ رکھ لیا ہے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کو سوچنا چاہئے کہ حالیہ برسوں میں عراق، افغانستان اور پاکستان میں شروع ہونے والے فتنوں، جنگوں، دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور اندھادھند دہشت گرد حملوں اور قتل عام کے واقعات کیونکر شروع ہوئے ہیں اور ان کی منصوبہ بندی کہاں ہورہی ہے؟ علاقے میں امریکہ کی سرکردگی میں مغربی افواج کے تحکم آمیز مالکانہ داخلے سے قبل علاقے کی قوموں کو اس طرح کے واقعات اور مصائب وغم و حزن کا سامنا کیوں نہیں تھا؟ قابضین و غاصبین ایک طرف سے فلسطین، لبنان اور دیگر علاقوں میں مزاحمتی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف سے علاقے کی قوموں کے درمیان درندگی پر مبنی فرقہ وارانہ اور قومی و قبائلی دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں اور اس کی سرپرستی اور راہنمائی کرتے ہیں۔ اسلامی ایران "امام خمینی کبیر" کی تعلیمات کا اتّباع کرنے کی بدولت اس کامیاب مزاحمت کی عملی اور کامیاب مثال ہے۔ انہیں اسلامی ایران میں شکست فاش ہوئی ہے۔ انھوں نے تیس برسوں سے مسلسل حیلہ گریوں، مکاریوں، سازشوں اور عداوتوں سے لے کر فوجی کودتا کے ذریعے اسلامی نظام کا تختہ التنے کی سازش اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ تک، معاشی اور تجارتی پابندیوں سے لے کر اثاثے منجمد کرنے تک، نفسیاتی اور تشہیراتی یلغار اور ذرائع ابلاغ کی صف آرائی سے لے کر علمی اور سائنسی ترقی اور جوہری دانش سمیت سائنسی ترقی اور علمی پیشرفت کی راہ میں روڑے اٹکانے تک اور حتی حالیہ عظیم الشان انتخابات کے بامعنی اور پر شکوہ واقعے میں اعلانیہ مداخلت اور فتنہ انگیزی تک ساری کی ساری دسیسہ کاریان دشمن کی شکست و رسوائی اور انفعال و سرگردانی پر منتج ہوئیں اور ایران کی مسلم ملت کی آنکھوں کے سامنے قرآن مجید کا ارشاد گرامی " إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا" (3) مجسم ہوکر نمودار ہوا۔ [ایران سمیت] دنیا کے دیگر نقاط میں بھی جب کبھی عزم و ایمان پر مبنی استقامت نے عوام کو مستکبرین کے سامنے ڈٹ جانے پر آمادہ کیا ہے فتح اور کامیابی نے مؤمنین کے قدم چومے ہیں اور رسوائی اہل ستم کا حتمی مقدر بن گئی ہے۔ لبنان کی 33 روزہ مزاحمت میں نمایاں فتح اور گذشتہ تین برسوں کے دوران غزہ کا سربلند و سرفراز جہاد اور اہہلیان غزہ کی فتحیابی اس حقیقت کی زندہ مثال ہے۔ اس میعاد الہی میں حاضر ہونے والے تمام سعادت یافتہ حجاج کرام کو عمومی طور پر اور اسلامی ممالک کے علماء اور خطباء ـ اور حرمین شریفین کے ائمۂ جمعہ و جماعت ـ کو خصوصی طور پر میری پرزور سفارش ہے کہ مسائل کا صحیح ادراک کرکے اپنے آج کے فوری فرائض کو صحیح انداز میں پہچان لیں اور اور پوری قوت کے ساتھ اپنے مخاطبین اور سامعین کے لئے دشمنان اسلام کی سازشیں طشت از بام کردیں اور لوگوں کو الفت اور اتحاد کی دعوت دیں؛ پوری سنجیدگی کے ساتھ ان تمام مسائل سے پرہیز کریں جو مسلمانوں کے درمیان باہمی رنجش اور غلط فہمی کا موجب بنتے ہیں اور اپنے تمام جذبات اور اپنی تمامتر فریادوں کو مستکبرین، امت اسلامی کے دشمنوں اور تمام فتنوں کے نوک پر واقع صہیونیت اور امریکہ پر کس دیں اور اپنے قول و فعل میں مشرکین سے برائت و بیزاری کا اظہار کریں۔ (12/1/2009)
گوکہ شیعہ اکثریتی ملک بحریں کے سنی حکمرانوں نے بعض شیعہ قیدیوں کو رہا کردیا مگر لگتا ہے کہ خلیج فارس کے کنارے واقع یہ ملک ابھی تک تفرقہ اور اختلاف سے دوچار ہے البتہ شیعہ عوام نے اپنے راہنماؤں کی رہائی پر جشن منایا. اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی (ابنا) کی رپورٹ کے مطابق رائٹرز خبر ایجنسی نے لکھا ہے کہ بحرینی اہل تشیع کا یہ جشن و سرور قلیل المدت تھا اور گذشتہ ایک مہینے کے دوران صورتحال یہاں تک تشویش ناک ہوگئی ہے کہ شیعہ راہنماؤں کے کہنے کے مطابق «اگر بحرینی حکمران اہل تشیع کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ کریں تو عیں ممکن ہے کہ یہ ملک بغاوت کا شکار ہوجائے. رائٹرز کی مطابق بحریں کی کل آبادی پانچ لاکھ تیس ہزار ہے اور اس کا کل رقبہ نیویارک کے رقبے سے بھی کم ہے مگر یہ ملک خطے میں امریکہ کا خاص حلیف شمار ہوتا ہے؛ امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑہ اسی ملک کے ساحل پر تعینات ہے. رائٹرز کے بقول اس ملک میں اہل تشیع کی آبادی کا تناسب "70 فیصد» ہے مگر اس ملک کی مرکزی حکومت اہل سنت کے کنٹرول میں ہے اور بقول رائٹرز کی «عرب حکومتیں تہران کی خوف اور اہل تشیع کے نفوذ کی وجہ سے بحرینی حکمرانوں کی حمایت کررہی ہیں». شیعیان بحرین دسیوں برسوں پر محیط امتیازی سلوک سے نالاں ہیں. اچھے گھر اور اچھے روزگار کے مواقع صرف سنی اقلیت کے لئے میسر ہیں جبکہ شیعیان بحریں کی اکثریت غربت و افلاس کا شکار ہیں اور انہیں اہم فوجی اور سیکورٹی عہدوں میں کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی. بحری کے انسانی حقوق مرکز کی تحقیقات کے مطابق 1999 میں وزارتخانوں اور اعلی سرکاری مناصب پر اہل تشیع کا تناسب 30-25 فیصد تھا اور یہ تناسب 2008 میں تیرہ فیصد رہ گیا ہے؛ «وفاق» بحرینی پارلیمان کا واحد شیعہ گروہ ہے جس کی 40 رکنی پارلیمان میں صرف 17 نمائندے ہیں. یہ امر بحرین میں مذہبی امتیاز کی اہم علامت ہے کہ 70 فیصد اکثریتی آبادی کے باوجود شیعہ باشندوں کے حقوق کو اہمیت نہیں دی جاتی. بحریں کے شیعہ راہنماؤن نے کئی بار بحرین کے حکمرانوں پرالزام لگایا ہے کہ وہ بحریں کی شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی غرض سے یمن، شام، پاکستان اور دیگر ممالک کے سنی باشندوں کو بحرینی قومیت دے رہے ہیں ۔ گذشتہ ایک سال کے دوران بحریں کے بیشتر شیعہ راہنماؤں کو پابند سلاسل کیا گیا اور بحرین کے بادشاہ نے اپریل میں 150 شیعہ اسیروں میں سے صرف 22 افراد کی رہائی کا فرمان جاری کیا. بہرحال ابھی تک شیعہ اور سنی باشندوں کےدرمیان تعلقات میں بہتری نہیں آئی ہے اور شیعہ عوام کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کے درمیان بے روزگاری کی سطح عروج پر ہے اور یہ مسئلہ شیعہ معاشرے میں بخوبی عیاں ہے. (11/3/2009) رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عید غدیر خم کے مبارک و مسعود اور عوامی آرمی "بسیج" کی تشکیل کی تاریخ "26 نومبر" کی مناسبت سے ایک لاکھ 10 ہزار بسیجیوں کے اجتماع میں غدیر کے عظیم واقعے کا حقیقی مضمون طول تاریخ میں انسانی معاشروں کے لئے سعادت بخش اور عادلانہ قیادت و امامت کی جلوہ افروزی قرار دیا ۔۔۔۔رہبر انقلاب اسلامی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی خلافت کے سلسلے میں شیعہ مکتب کے محکم عقیدے کو یقینی اور ناقابل انکار دلائل پر مبنی قرار دیا اور تمام بڑے محدثین کی نقل کردہ متواتر حدیثِ غدیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی "ولایت" میں جو مفہوم مراد لیا گيا ہے، خدا کی جانب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دے کر امیرالمومنین علیہ السلام کو (عہدہ خلافت پر) خدا کی جانب سے منصوب کئے جانے کی بنا پر حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں بھی وہی مفہوم اخذ کیا گيا ہے۔ آپ نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کو نوجوانی سمیت زندگی کے تمام مراحل میں تقوی، شجاعت، استقامت، بصیرت اور اسلام و پیغمبر اسلام کی حفاظت کے میدانوں میں بے مثل درخشاں ستارہ قرار دیا اور فرمایا کہ تمام انسانوں اور بالخصوص نوجوانوں کو چاہئے کہ مولائے متقیان کی باعظمت زندگی کے ایک ایک لمحے سے ہدایت و سعادت کا نور حاصل کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کی جانب سے پیغمبر اسلام کے جانشین کے تعین اور امامت کے مسئلے پر خاص توجہ دئے جانے کو واقعہ غدیر کے دو بنیادی پہلو قرار دیا اور امامت کے مفہوم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ امامت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی فرد یا جماعت انسانوں اور معاشرے کی پیشوائی اپنے ہاتھ میں لے اور دین و دنیا کے امور میں آگے بڑھنے کی سمت کا تعین کرے چنانچہ اس مفہوم کے مد نظر طول تاریخ میں امامت تمام انسانی معاشروں کے لئے اصلی اور بنیادی موضوع رہی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے قرآن کریم کی آیتوں کی روشنی میں امامت کو دو الگ الگ قسموں میں تقسیم کیا اور فرمایا کہ امامت و پیشوائی کی ایک قسم جس کے کامل اور حقیقی مصداق انبیائے الہی اور عادل اماموں پر مبنی ہے جو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق اور اسی کی رہنمائی کے سائے میں لوگوں کو انسانیت کی مطلوبہ منزل کی جانب لے جاتے ہیں جبکہ امامت کی دوسری قسم کا حقیقی مصداق فرعون ہے جو عوام کو فسق و فجور، آتش جہنم اور ہلاکت و نابودی کی جانب لے جاتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امامت کے مفہوم کی عمومیت کے بارے میں فرمایا کہ دنیا کے الحادی ترین نظاموں میں بھی جہاں سیاست کے مراکز کو دینی اور معنوی مراکز سے الگ رکھنے کے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، لوگوں کا دین اور آخرت دونوں بر سر اقتدار حاکموں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور حاکموں کے افکار و نظریات معاشرے کی دینی اور دنیاوی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ آپ نے اسی بحث کو جاری رکھتے ہوئے مغرب کے بڑے ثقافتی مراکز اور عالمی استبدادی طاقتوں کو ایسے رہنماؤں اور پیشواؤں میں قرار دیا جو فرعون کی طرح لوگوں کو فسق و فجور اور تباہی و بربادی کی جانب کھینچتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے حکومت اور معاشرے کی تشکیل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فیصلے کو اس حقیقت کی دلیل قرار دیا کہ اسلام صرف زبانی نصیحت اور دعوت تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشرے میں الہی احکامات کو نافذ کرنے پر زور دیتا ہے اور یہ نورانی ہدف عادلانہ اور منصفانہ حکومت کی تشکیل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے واقعہ غدیر میں اللہ تعالی کے فرمان سے پیغمبر اسلام کے جانشین کے تعین کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا اور فرمایا کہ اگرچہ تاریخ اسلام کسی اور راہ پر چل نکلی لیکن تاریخ میں یہ سعادت بخش نظریہ اور معیار باقی رہا یہاں تک کہ امام خمینی (رح)اور ملت ایران کے جذبہ ایمانی اور استقامت و پائیداری کے نتیجے میں دنیا کے اس خطے میں اسے رو بہ عمل لایا گيا اور بفضل پروردگار عالم اسلام میں روز بروز اس کا پھیلاؤ بڑھتا جائے گا۔ (11/27/2010) غدیر کاینات میں اللہ تعالی کے اقتدار کی تجلی ہے غدیر اسلام میں نبوت کا اختتام اور امامت ولایت کا نقطہ آغاز ہے غدیر اسلام کے تحفظ کی ضامن ہے غدیر قران کی نگہبان اور حدیث کا سر چشمہ ہے غدیر مومنین کے قلوب کا قبلہ ہے غدیر آدم سے لیکر خاتم تک تمام انبیاء ، رسل اور اوصیاء کی میراث ہے غدیر تشیع کی مظلومیت بھری تاریخ کا صفحہ آغاز ہےغدیر امام علی (ع)کی امامت پر سند اور بارہ اماموں کی امامت پر دلیل ہے غدیر امام مہدی (عج)کی آمد اور صالحین کی زمین پر حکومت کا اعلان ہے غدیر ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ (11/23/2010)![]() العالم کي رپورٹ کے مطابق سعودي حکام نے اس نوجوان کو چھے دنوں سے قيد ميں رکھا ہوا ہے۔ يہ نوجوان ايک سياحتي کمپني ميں مينجر ہے۔ اس سعودي نوجوان کو پوليس نے تھانے بلايا تھا اور جيسے ہي وہ تھانے پہنچا اسے گرفتار کرليا گيا اور اسے زد و کوب بھي کيا گيا ہے۔ اس سے قبل بھي سعودي پوليس نے الاحساء کے بہت سے نوجوانوں کو گاڑيوں ميں سيد حسن نصراللہ کي تصويريں لگانے پر گرفتار کر ليا تھا۔ياد رہے کہ متعدد سروے رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سيد حسن نصراللہ عرب دنيا کے سب سے محبوب رہنما ہيں اور ان سے ہرکوئي محبت کرتا ہےخواہ شيعہ ہو يا سني۔ (11/18/2010) ابنا ـ کي رپورٹ کي مطابق پيغام کا متن درج ذيل ہے: بسم اللہ الرحمن الرحيم والحمدللہ رب العالمين و صلي اللہ علي سيدنا محمّد المصطفي و آلہ الطيبين و صحبہ المنتجبين کعبہ، وحدت و عظمت کا راز، توحيد و معنويت کي علامت، حج کے موسم ميں مشتاق اور پراميد دلوں کا ميزبان ہے جو پوري دنيا سے رب جليل کي دعوت قبول کرکے لبيک کہتے ہوئے اسلام کے مقامِ ولادت پر حاضر ہوئے ہيں۔ اب امت اسلامي دنيا کے چار گوشوں سے اس مقام پر اکٹھے ہونے والے نمائندوں کي آنکھوں سے اپني وسعت اور گوناگوني اور اس دين حنيف کے پيروکاروں کے دلوں پر حکمفرما ايماني گہرائي کا مشاہدہ کرسکتي ہے اور اس عظيم اور بے مثل سرمائے کو صحيح انداز سے پہچان سکتي ہے۔ والسلام عليکم و رحمة اللہ (11/18/2010) اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جمعیت اساتذہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: یمن کے مسلمانوں اور اہل تشیع کو کچلنے کے سلسلے میں یمنی حکومت اور افواج کے اقدامات ـ جو کثیر تعداد میں مسلمانوں اور خاص طور پر اہل تشیع کی شہادتوں پر منتج ہوئے ہیں ـ اسلامی ممالک میں شدید غم و غصے کا باعث بنے ہوئے ہیں. اس بیان میں یمن میں بعض عرب ممالک کی مداخلت اور اسلامی کانفرنس کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اہل تشیع کو کچلنے کی نیت سے یمن میں بعض عرب ممالک کی براہ راست مداخلت کے باوجود اسلامی کانفرنس تنظیم، عالمی تنظیموں اور خاص طور پر نام نہاد حقوق انسانی کی تنظیموں کی خاموشی قابل غور اور لمحۂ فکریہ ہے. حوزہ علمیہ کے بزرگ علماء و اساتذہ نے اپنے اس بیان میں کہا ہے: اس میں شک نہیں ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام دشمن طاقتوں کی ایک سازش نسل کشی اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ کھڑا کرنا ہے اور اسی راہ پر چل کر وہ در حقیقت اسلام عزیز کی بیخ کنی چاہتے ہیں اور یہ اعمال رسول اللہ (ص) اور اہل بیت نبی (ص) کے لئے صدمے اور ان کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں. جامعۂ مدرسین نے ان خونی واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسلامی کانفرنس تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کے تنازعات کو حل کرنے اور یمن کے مظلوم شیعیان اہل بیت (ع) کے قتل عام کا سد باب کرنے کے لئے ضروری اقدامات کا اہتمام کرے. اور دنیا کے آزاد اندیش لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس وسیع انسان کشی کی شدید مذمت کرکے ان مظالم کے خلاف موقف اپنائیں. (11/16/2009)انھوں نے کہا کہ جس معاشرے میں مومنین کے درمیان اختلاف وتفرقہ ہوگا اس میں نہ توکوئی تعمیری کام ہوگا اورنہ ہی معاشرے کی پیشرفت کے لئے کوئی اقدام کیا جاسکے گا اورنتیجے میں لوگ صرف آپس میں الجھے رہتے ہيں اوریادخداسے بھی غافل ہوجاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ شیطان کا کام یہی ہے کہ وہ مومنین کوآپس میں لڑاتا ہے ۔ آیت اللہ سیداحمد خاتمی نے کہا کہ شیطان ایک متحد معاشرے کو مختلف روشوں سے اختلاف سے دوچارکرتا ہے۔ انھوں نے اس سلسلے ميں شیطان کے ہتھکنڈوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیطان اس کام کے لئے دینی امور میں انحراف پیدا کرتا ہے اور اتحاد کے محور یعنی صالح قیادت کو نشانہ بناتا ہے اور پھر لوگوں کے اندر بدگمانیاں اور کینہ پیداکرتا ہے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ اتحاد کے محور یعنی قیادت کونشانہ بنا کر شیطان آسانی کے ساتھ معاشرے میں اختلاف پیدا کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس معاشرے میں قیادت کمزور ہوجاتی ہے وہ معاشرہ اختلاف و تشتت کا شکار ہوجاتا ہے ۔ انھوں نے اس سلسلے ميں جناب امیرکا ایک قول نقل کیا کہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہيں کہ اسلامی معاشرے میں قیادت کا کردار تسبیح کے دھاگے کے مانندہے یہی دھاگہ ہے جوتمام دانوں کوایک دوسرےسے مربوط رکھتا ہے ۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ تفرقہ پھیلانے والوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ قیادت کونشانہ بناتے ہیں۔ تہران کے خطیب جمعہ نےامام ہشتم کا ایک قول نقل کیا کہ امام رضاعلیہ السلام فرماتے ہيں کہ دین کی رہبری عادل رہبرسے عبارت ہے اور دین کی مصلحت اس میں ہے کہ معاشرے کا قائدامام برحق ہو۔ اس حدیث سے استنباط کرتے ہوئے تہرا ن کے خطیب جعمہ نے کہا کہ قیامت تک سلسلہ امامت باقی رہے گا اورامام کے پردہ غیب میں رہنے کی صورت میں ان کا جانشین معاشرے کا قائدہے اوروہ امام زمانہ کا نائب عام ہے جس کوہم ولی فقیہ کہتے ہيں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہاکہ آج تیس سال سے ہم ولایت فقیہ کے اہم کردارکا ہم مشاہدہ کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج ایران کے عوام اورایرانی معاشرے کی عزت وسربلندی کا باعث یہی منصب ولایت فقیہ ہے اوراگرکوئی اس منصب کو کمزورکرنے کی کوشش کرتا ہے وہ شیطانی اقدام کامرتکب ہوتا ہے کیونکہ شیطان کا کام ہی قیادت کونشانہ بنانا ہوتا ہے ۔ (11/16/2009)
![]() ابو عبداللہ ، جعفر بن محمد بن علي بن الحسن بن علي بن ابي طالب عليہ السلام معروف بہ صادق آل محمد شيعوں کے چھٹے امام ہيں ۔ جو کہ اپنے والد امام محمد باقر عليہ السلام کي شہادت کے بعد 7 ذي الحجہ سن 114 ھ ق کو آنحضرت کي وصيت کے مطابق امامت کے منصب پر فائز ہوۓ ۔ امام جعفر صادق (ع) جمعہ طلوع فحر کے وقت اور دوسرے قول کے مطابق منگل 17 ربيع الاول سن 80 ھ ق کو مدينہ منورہ ميں پيدا ہوۓ ۔ (تاج المواليد (علامہ طبرسي)، ص 43؛ ) آنحضرت کي والدہ کا نام فاطمہ بنت قاسم بن محمد بن ابي بکر جن کي کنيت " ام فروہ " تھي ۔ يہ خاتون اميرالمؤمنين علي عليہ السلا کے يار و وفادار شھيد راہ ولايت و امامت حضرت محمد بن ابي بکر کي بيٹي تھي ۔ اپنے زمانے کے خواتين ميں باتقوي ، کرامت نفس اور بزرگواري سے معروف و مشہور تھي ۔ اور امام صادق (ع) نے ان کي شخصيت کے بارے ميں فرمايا ہے : ميري والدہ ان خواتين ميں سے ہے جنہوں نے ايمان لايا اور تقوي اختيار کيا اور نيک کام کرنے والي اور اللہ نيک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ (منتہي الامال، ج2، ص 121) امام جعفر صادق(ع) کا نسب والدہ کي طرف سے مسلمانوں کے پہلے خليفے [ابوبکر] اور والد کي طرف سے شيعوں کے پہلے امام اور چوتھے خليفہ [ حضرت علي (ع) ] تک پہنچتا ہے ۔ آنحضرت بني اميہ کي حکومت کے اواخر اور بني عباسي حکومت کے اوائل ميں زندگي کر رہے تھے اور بني اميہ کے خلاف عوامي بغاوت اور بني عباس کا لوگوں کے ساتھ مذھبي احساسات کے ساتھ استحصال کرکے اور لوگوں سے " الرضا من ال محمد (ص)" کے عنوان سے لے بيعت لے کر حکومت پر قابض ہونے کا نزديک سے مشاھدہ گر تھے اور ان حالات ميں شيعوں اور محبان اھل بيت (ع) کي امامت کے سنگين کام کو انجام ديتے رہے ۔ امام صادق (ع) عبدالملک بن مروان [ پانچواں اموي خليفہ ] کے زمانے ميں پيدا ہوۓ اور اسکے بعد باقي 8 بني اميہ خليفوں اور دو عباسي خليفوں کے ہمعصر تھے اور ان ميں سے اکثر کي طرف سے مصائب اور مظالم ہوتے رہے. آخر کار 65 سال کي عمر ميں منصور دوانقي کي طرف سے مسموم ہوئے جس سے آنحضرت کي شہادت واقع ہوئي ۔ آنحضرت کي شھادت کي تاريخ کے بارے ميں دو قول نقل ہوۓ ہيں ۔ بعض نے 15 رجب سن 148 ھ ق اور بعض نے 25 شوال سن 148 بيان کيا ہے اور مشہور شيعہ مورخوں اور سيرہ نويسوں کے نزديک دوسرا قول يعني 25 شوال ہي معتبر ہے ۔ آنحضرت کي شھادت کے بعد حضرت امام موسي کاظم (ع) نے بھائيوں اور افراد خاندان کے ہمراہ آنحضرت کے غسل و کفن کے بعد بقيع ميں دفن کيا ۔(منتہي الامال، ج2، ص 155) (10/4/2010)![]() حال ہی میں اسلام قبول کرنے والی سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی سالی لاورن بوتھ (Lauren Booth) نے، کہا ہے کہ اسلام کا احترام اور اس میں دلچسپی ان کے دورہ غزہ سے شروع ہوئی۔ انھوں نے کہا: چھ ہفتے قبل جب میں ایران آئی اور قم میں کریمۂ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) کے حرم مشرف ہوئی تو وہاں میں نے پہلی بار اللہ کے ساتھ ربط و تعلق محسوس کیا اور یہ اللہ کے ساتھ میرے رابطے کا پہلا تجربہ تھا۔
(10/31/2010)
لاورن بوتھ نے کہا کہ حضرت معصومہ (س) کے حرم میں میں ضریح کی جانب گئی اور اپنے ہاتھ سے اسے چھوا تو میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے "اللہ تیرا شکر"۔ انہوں نے کہا کہ یہ الفاظ غیرارادی طور پر میرے منہ سے نکلے کیونکہ میں مسلمان نہیں تھی، میں نے اس سفر پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ جس کی وجہ سے مجھے اس حرم کی زیارت نصیب ہوئی۔ لاورن بوتھ نے فارس نیوز ایجنسی کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے قبول اسلام قبول کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی بار جب میں نے اسلام کو سمجھا اور اس کے لئے احترام کی قائل ہوئی تو وہ غزہ میں 2005 کا سال تھا۔ انھوں نے کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے خلاف جدوجہد کے لیے فلسطینی عوام متحد ہوجائیں۔ ![]() حضرت معصومہ(ع) قم کے حرم مقدس میں پاکستان اور دیگر ممالک کے ہزاروں طلباء کرام کے عظیم اجتماع نے رھبر معظم کا پرزور استقبال کیا اور اس وقت تمام آنکھیں اشکبار ہو گئیں جب رھبر معظم نے نہایت محبت وشفقت سے فرمایا:آپ طلباء کرام ایران میں غیر نہیں ہیں اور نہ ہی مہمان بلکہ آپ صاحب خانہ ہیں اور میرے فرزند ہیں۔ اس عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے معارف و تعلیمات اسلامی کے احیاء کو اسلامی جمہوریہ ایران کا بنیادی ہدف قرار دیا اور فرمایا کہ ان نجات بخش تعلیمات سے مسلم اقوام کی واقفیت امت مسلمہ کے تشخص و وقار کی بازیابی، ترقی و پیشرفت اور آزادی و تقویت کی تمہید ہے۔ ![]() قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شہر قم میں زبردست اور تاریخی عوامی استقبال اور پھر حضرت معصومہ علیہا السلام کے روضہ اقدس کی زیارت کے بعد روضے سے ملحقہ وسیع و عریض میدان میں ٹھاٹھیں مارتے عوامی اجتماع میں پہنچ کر جذبہ مودت کے اظہار پر شکریہ ادا کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں قم کو شہر علم و بصیرت اور وادی جہاد و مجاہدت قرار دیا اور فرمایا کہ طول تاریخ میں شہر قم جس طرح علوم اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کا مرکز رہا ہے، عصر حاضر میں بھی اسی انداز سے اعلی ترین الہی تعلیمات و معارف کے سرچشمے کی حیثیت سے عالم اسلام کے مشرق و مغرب کو اپنے جید اور عظیم الشان علما کی مجاہدت و بصیرت کی برکتوں سے بہرہ مند کر رہا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے عصری تاریخ کے حساس اور نازک موڑ پر یعنی "انیس سو ترسٹھ کے عاشور" اور "پانچ جون" پر اہل قم کے لا فانی کردار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل قم نے اس تاریخی موڑ پر امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی حمایت کرکے معاشرے میں علماء کی تحریک کو حرکت عطا کر دی اسی طرح انیس سو ستتر میں بھی اپنی بصیرت و آگاہی کی مدد سے عظیم الشان امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کی شان میں استبدادی شاہی حکومت کی گستاخی کی پيچیدہ سازش کی گہرائی کا بھرپر ادراک کرتے ہوئے وہ اپنے نوجوانوں کا خون دیکر اسلامی تحریک کے فروغ میں صف اول میں شامل ہو گئے اور اس شہر کو عظیم الشان اسلامی انقلاب کے سرچشمہ میں تبدیل کر دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے شہر قم کے عوام کو مخلص، صداقت پسند، پاک و پاکیزہ اور مثالی بصیرت کا حامل قرار دیا اور فرمایا کہ اگر اہل قم کی بیداری نہ ہوتی تو خاص اہمیت کے حامل اس شہر کے خلاف تیار کی جانے والی دشمنوں کی سازشیں ناکام نہ ہوتیں۔ قائد انقلاب اسلامی کے بقول شہر قم عوام کی بیداری اور با برکت دینی علمی مرکز کے وجود سے جہاد و بصیرت کا سرچشمہ بن گیا ہے، اہل قم دینی علمی مرکز اور علماء کی قدر و قیمت کو جانتے ہیں اور حالیہ بتیس برسوں میں اسلام اور انقلاب کے دفاع کے میدانوں اپنے با برکت کردار کا لوہا منوا چکے ہیں۔ نوجوانوں کے معروف ماہنامہ امان زمان (امام زمانہ کے متعلق) نے بھی وسیع پیمانے پر نشرواشاعت کےلیے اپنی سایٹ کا افتتاح کیا ہے شایقین رجوع فرماییں www.aman.ir (1/9/2007) سہ ماہی مجلہ انتظار موعود نے دنیا بھر میں قارءین تک اپنے علمی مضامین پہنچانے کےلیے حال میں ہی اپنی سایٹ کا اجراء کیا۔سایٹ کا ایڈرس یہ ہے:www.entizar.ir (1/7/2007) ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق اسلامي جمہوريہ ايران کے حوزات علميہ کے سربراہ آيت اللہ شيخ مرتضي مقتدائي نے آيتاللہ شيخ محمد علي العَمري کي وفات پر اپنے پيغام ميں اس صدمے پر تعزيت پيش کي ہے۔ انھوں نے اپنے پيغام ميں کہا ہے: عالم مجاہد آيت اللہ شيخ محمد علي العَمري کے انتقال پر ملال نے عالم اسلام و تشيع کو سوگوار کيا اور اس جليل القدر کي رحلت سے حوزات علميہ کو ناقابل تلافي نقصان پہنچا۔ آيت اللہ مقتدائي کے پيغام ميں آيا ہے: يہ بزرگوار عالم دين سعودي عرب کي شيعيان اہل بيت (ع) نيز ان شيعہ زائرين و حجاج کرام کے لئے بہترين پناہگاہ تھے جو متعصب اور انتہاپسند دھڑوں کي نامہربانيوں سے اپنے زخمي قلوب کا مداوا کرنے کے لئے ان کي سادہ سي حسينيہ ميں پناہ ليا کرتے تھے۔ اس پيغام ميں مزيد آيا ہے: آيت اللہ العَمري مکتب اہل بيت (ع) کے تحفظ و دفاع کے سلسلے ميں صبر و تقوي اور زہد و استقامت کا قابل تقليد نمونہ تھے جنہوں نے اپني پوري عمر شيعيان اہل بيت (ع) کے دفاع ميں گذار دي ہے۔ آيت اللہ شيخ مرتضي مقتدائي کے پيغام کے آخر ميں آيا ہے: حوزات علميہ کا مرکزي ادارہ اس ناقابل مداوا صدمے پر حضرت بقية اللہ الاعظم(عج)، رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي، مراجع عظام اور علمائے اعلام، شيعيان مدينہ اور خاص طور پر مرحوم عالم دين کے فرزند ارجمند حجتالاسلام والمسلمين شيخ کاظم العَمري کي خدمت ميں تسليت و تعزيت عرض کرتا ہے اور اللہ تعالي سے التجا کرتا ہے کہ مرحوم کو رحمت و مغفرت اور ان کے پسماندگان کو صبر و اجر عنايت فرمائے۔ (1/29/2011) ![]() ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق سعودي عرب کے عظيم شيعہ مجتہد آيت اللہ العظمي شيخ محمد علي عَمري کے خانداني ذرائع نے ذرائع ابلاغ کو بتايا ہے کہ سعودي عرب کے يہ بزرگ شيعہ عالم طويل عرصے تک اسلام اور مکتب اہل بيت (ع) کي خدمت کرنے کے بعد آج صبح 120 سال کي عمر ميں، رياض کے ايک ہسپتال ميں انتقال کرگئے ہيں۔ آيت اللہ العظمي شيخ محمد علي عَمري کا آبائي شہر مدينہ منورہ ہے اور انھوں نے طويل عرصے تک شديد وہابي ـ سعودي دباؤ کے باوجود وسيع علمي، تبليغي اور سماجي خدمات سرانجام دي ہيں اور وہابيوں کے شديد دباؤ کے باوجود مدينہ منورہ ميں عظيم مسجد و امام بارگاہ کي بنياد رکھي جہاں شيعيانِ مدينہ سلفيوں کي شديد مخالفتوں کے باوجود اپنے ديني مراسمات بجالايا کرتے ہيں۔ سلفيوں نے کئي بار بدنام زمانہ سعودي مذہبي پوليس کي مدد سے اس مسجد و امام بارگاہ کو بند کرايا ہے اور شيخ عَمري اور کو ان کے رفقائے کار کے ہمراہ قيد و بند کي صعوبتيں جھليني پڑي ہيں۔ قابل ذکر ہے کہ مرحوم آيت اللہ العظمي شيخ محمد علي عََمري نے اپني زندگي کے 45 برس سعودي جيلوں ميں گذارے ہيں۔ عالمي اہل بيت (ع) اسمبلي اور اہل البيت (ع) نيوز ايجنسي ـ ابنا ـ نيز امام مہدي (عج)کلچرل فاونڈيشن مرحوم آيت اللہ العظمي شيخ محمد علي عَمري کے انتقال کي مناسبت سے حضرت بقيةاللہ الاعظم امام مہدي عَجَّلَ اللہ فَرَجَہ الشَّريف، رہبر مسلمين حضرت آيت اللہ العظمي امام سيد علي خامنہ اي، مراجع عظام و علمائے اعلام، مرحوم عالم دين کے خاندان معظم اور شيعيان حجاز کو تسليت و تعزيت عرض کرتي ہيں۔ شيخ العَمري آيت اللہ العظمي امام خميني رحمۃاللہ عليہ کے قريبي دوستوں ميں سے تھے۔ انھوں نے 1941 سے 1955 تک کا عرصہ حصول علم کے سلسلے ميں قم المقدسہ ميں گذارا تھا اور امام خميني (رح) کے کہنے پر مدينہ منورہ واپس جاکر تبليغ و تدريس کا سلسلہ شروع کيا اور شيعيان حجاز کي معنوي قيادت سنبھالي۔ آيت اللہ شيخ عَمري کا سب سے پہلا اعتراض 8 شوال 1383 ہجري (بمطابق 22 فروري 1964) کو يوم انہدام جنت البقيع کي مناسب سے تھا جس کي پاداش ميں انہيں جيل جانا پڑا اور عرصہ دس سال تک قيد و بند کي سختيان برداشت کرني پڑيں۔ انہيں اس عرصے ميں شديد اذيتوں کا نشانہ بنايا گيا۔ آيت اللہ شيخ محمد علي عَمري سنہ 1979 کو خفيہ طور پر سعودي عرب سے نکلے اور اپنے پرانے دوست سے ملنے تہران پہنچے اور تہران ميں امام خميني رحمۃاللہ عليہ سے ملاقات کي اور جب حجاز لوٹے تو سعوديوں نے انہيں گرفتار کرکے تين برس جيل ميں رکھا۔ شيخ العَمري رحمۃاللہ عليہ کي اہمترين تحريک 1987 کو مکہ معظمہ ميں سعوديوں کے ہاتھوں ايراني حجاج کے قتل عام کے موقع پر شروع ہوئي جس کي پاداش ميں انہيں گرفتار کيا گيا اور سعودي ظالم عدالتوں نے انہيں موت کي سزا سنائي جس پر مدينہ اور منطقۃالشرقيہ کے شيعہ اکثريتي علاقوں ميں وسيع مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور وہابي عدالت کو ان کي سزائے موت عمر قيد ميں بدلنا پڑي۔ اس زمانے ميں بھي شيخ العمري عمر نوے برس سے زيادہ تھي جس کي بنا پر سعوديوں کو انہيں جيل سے رہا کرنا پڑا۔ يہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ شيخ العَمري صاحب رائے مجتہد ہونے کے باوجود مرجعيت کے دعويدار نہيں تھے . (1/26/2011) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اربعین حسینی کی مناسبت ـ اور عزاداری کے مراسمات میں شرکت اور نواسۂ رسول (ص) سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی نیت ـ سے کئی ملین عراقی عزاداران حسینی نے اس ملک کے مختلف شہروں اور صوبوں سے قافلوں کی صورت میں کربلا کی طرف پیدل سفر کا اغاز کیا ہے؛ عزاداروں نے اپنے ہاتھوں میں یا حسین (ع) اور یا عباس (ع) کے ناموں سے مزین پرچم اٹھا رکھے ہیں جبکہ حکومت نے بھی قافلوں کے راستوں میں زبردست حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ زن و مرد، بچے اور نوجوان اور بوڑھے دور افتادہ علاقوں سے نکل کربلا کی طرف جانے والے راستوں میں آبلہ پائی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جو نوحے پڑھتے ہوئے اور ماتم کرتے ہوئے کربلا میں محبوب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عشق کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاؤں میں چالے پڑے ہیں مگر تھکاوٹ کے آثار دکھائی نہیں دے رہے بلکہ ہر قدم اٹھا کر کربلا سے ایک قدم قریبتر ہونے کا احساس رکھتے ہیں اور جتنی قربت جاناں حاصل ہوتی ہے ان آبلہ زدہ پیروں کی توانائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور کربلا کی قربت کا احساس کرکے تیز تر اٹھتے ہیں آپ اگر کربلا میں ہوں تو شہر میں داخل ہونے والے قافلوں کے سر راہ کھڑے ہوکر بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ کئی زائرین کے پیروں سے خون رس رہا ہے مگر ان کے چہرے مسکراہٹیں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ گذشتہ برسوں کی مانند اس سال بھی کربلائے معلی کی طرف جانے والے تمام راستوں پر زائرین و عزادارن حسینی کے استقبال کا انتطام ہوا ہے اور ان کی زبردست پذیرائی ہورہی ہے۔ اس سال بھی بغداد، بابل، نجف اور دیگر شہروں سمیت بیرونی ممالک سے آئے ہوئے زائرین کے راستوں میں پذیرائی کا پورا پورا بندوبست ہی۔ راستوں میں لگی ہوئی پنڈالوں میں زائرین کے لئے نہانے دھونے، کھانے پینے اور ادائیگی نماز کا بندوبست کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں طبی خدمات فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے اور شیعیان عراق کے ان انتظامات کا مقصد زائرین و مسافرین کے سفر کو آسان بنانا ہے۔ یادرہے کہ صفر کے مہینے میں پائے پیادہ کربلا کا سفر اختیار کرنا عراقیوں کی صدیوں پرانی روایت ہے اور ہر سال اربعین کے روز مختلف شہروں سے آئے ہوئے کئی ملین عزادار کربلا میں عزاداری کرتے دکھائی دیتے ہیں گو کہ زائرین اور عزادارن حسینی کے درمیان بیرونی ممالک سے آئے ہوئے دلسوختگان سیدالشہداء (ع) کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ (1/26/2010) اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی شیعہ اکثریتی علاقے "الشرقیہ" کے شہر "الخُبَر" کے شیعہ باشندے ـ جو اپنی نو مساجد کی بندش کے بعد مقامی حکام اور اہل سنت کی مسجدالنور کی انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اس مسجد میں نماز جمعہ و جماعت ادا کرتے تھے ـ تکفیری گروہوں کے حملوں کے بعد مسجدالنور میں بھی نماز کی ادائیگی سے محروم ہوگئے۔اس رپورٹ کے مطابق سلفیوں اور تکفیریوں کے حملے کے بعد الخبر کے شیعہ باشندے سرکاری فورسز کی نظروں سے دور سڑک پر نماز جماعت ادا کرنے پر مجبور ہوئے؛ تکفیریوں نے مسجد میں حاضر ہوکر شیعہ امام جماعت کو بھی برا بھلا کہا۔ تکفیریوں کے اس اقدام کے بعد کئی سرکردہ شیعہ افراد اس واقعے کی شکایت کرنے کی غرض سے مقامی حکام کے دفتر میں حاضر ہوئے۔ یادرہے کہ الخبر شہر میں 20 ہزار شیعہ رہائش پذیر ہیں اور اس علاقے میں اہل تشیع کی نو مسجدیں تھیں جنہیں سعودی عرب کے سلفی حکمرانوں نے گذشتہ 4 مہینوں کے دوران بند کردیا ہے۔ یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے حکمران اہل تشیع کو مسجد و امامبارگاہ ـ تو کیا ـ قبرستان تک کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتے بلکہ ان کی کوشش ہے کہ اہل تشیع کے موجودہ دینی مراکز کو بھی بند کردیں؛ دوسری طرف سے اہل تشیع کی توہین سعودی عرب کے حکام، سیکورٹی فورسز اور انتہا پسند وہابیوں کے روز کا معمول بن گئی ہے۔ (1/26/2010)
انہوں نے اپنی تقریر کے دوران غزہ میں ہونے والے جنگی جرایم اور مظالم کی پر زور مذمت کرتے ہویے فرمایا:پارا چنار کا محاصرہ غزہ سے بھی زیادہ بدتر ہے وہاں ابتداء میں مظلوم شیعوں کے ہاتھ پاوں کاٹے جاتے ہیں پھر ان کو ذبح کیا جاتا ہے ،یہ اسقدر ایک ملک میں وحشتناک جرایم ہورہے ہیں اور کسی جانب سے بھی صداءے احتجاج بلند نہیں ہورہی ،یہ کیسی دنیا ،کیسا بین الاقوامی معاشرہ اور کیسا قانون ہے۔ ۔ ۔ انہوں نے آخر میں فرمایا:جو بھی چاہتا ہے کہ قلب امام زمان (عج) کو مسرور کرے وہ اپنے مظلوم شیعہ برادران کی مدد کرے۔ (1/26/2009)![]() ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق، ديني ذرائع ابلاغ کے مقام و منزلت کا جائزہ لينے کے لئے شہر مقدس قم کے ٹيلي ويژن مرکز ميں منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے ولايت ٹي وي چينل کے ڈائريکٹر، آيت اللہ حسيني قزويني نے کہا کہ دنيا ميں 300 ٹي وي چينلز شيعہ تعليمات کے خلاف تشہيري مہم چلارہے ہيں اور اس سلسلے ميں مختلف قسم کے شکوک و شبہات پيدا کرتے ہيں اور مختلف قسم کے گھسے پھٹے الزامات لگانے کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہيں جبکہ 40 ہزار سے زائد ويب سائٹس بھي تشيع کے خلاف سرگرم عمل ہيں ايسے ميں عالمي سطح پر ديني ذرائع ابلاغ کا فعال ہونا ماضي سے کہيں زيادہ ضروري ہے تا کہ وہ دنيا کي تشنہ نگاہوں اور پياسي جانوں کو اہل بيت (ع) کي تعليمات کے چشمے سے سيراب کيا جا سکے۔ انھوں نے قم ٹي وي اور ريڈيو کے اعلي اہلکاروں اور بعض علماء کي موجودگي ميں اپنا خطاب جاري رکھتے ہوئے کہا: عالمي سطح پر تشيع کے خلاف اتني وسيع يلغار کے پيش نظر ضرورت اس امر کي ہے کہ شيعہ ذرائع ابلاغ بھي ميدان ميں آئيں اور مکتب اہل بيت (ع) کا تعارف اسي طرح کريں جيسے کہ يہ ہے جبکہ مذکورہ بالا ٹي وي چينلوں اور ويت سائٹوں سے تشيع کا چہرہ بالکل مکدر اور تاريک کرکے پيش کيا جارہا ہے۔ ![]() اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الحوثی تحریک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے شمال میں مختلف شیعہ علاقوں پر 3800 میزائل، توپ اور مارٹر گولے گرے ہیں اور طیاروں نے صعدہ صوبے کے مختلف علاقوں پر 21 مرتبہ بمباری کی ہے. بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی فضائیہ نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21 حملے کرکے شیعیان یمن اور یمن کے عوام و مملکت کے خلاف اپنی شدید دشمنی کا ایک اور ثبوت فراہم کیا ہے. سعودی طیاروں نے ہزاروں اعلامئے شیعہ علاقوں پر گرائے ہیں جن میں سعودی مفتیوں کے فتوے درج ہیں اور ان فتؤوں میں سعودی افواج کا مقابلہ اور انہیں یمن میں داخلے سے روکنا حرام قرار دیا گیا ہے!!. الحوثی تحریک نے بھی اپنے بیان میں سعودی جارحیت کے مقابلے کے بارے میں کہا ہے کہ بیرونی جارحیت کے مقابلے میں اپنا دفاع نہ صرف جائز ہے بلکہ قرآن مجید کے مطابق یہ ہر قوم کا مسلّمہ حق ہے. الحوثی تحریک نے اپنے بیان میں جبل المدود پر سعودی افواج کے نئے حملے کی رپورٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی افواج کو ان حملوں میں ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے. تحریک نے کہا ہے کہ المجدعہ کے علاقے میں بھی سعودی افواج نے خفیہ طور پر ایک حملہ ترتیب دیا تھا تا ہم شیعہ مجاہدین نے سعودی حیلہ گری کا بروقت سراغ لگایا اور ایک گھنٹے کی شدید جھڑپ کے بعد سعودی فوجی کئی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔ اس بیان میں بتایا گیا ہے کہ شیعہ مجاہدین نے الجابری کے سعودی فوجی اڈے ـ جو مجاہدین کے قبضے میں ہے ـ پر بھی سعودی عرب کا نیا حملہ ناکام بناتے ہوئے ایک سعودی ٹینک تباہ کردیا ہے اور آل عقاب کے علاقے میں سعودی توپخانے کا جواب توپخانے سے دیا ہے. (1/23/2010)![]() اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "قدسنا خبر ایجنسی" کے ڈائریکٹر اور مشرق وسطی کے امور کے تجزیہ نگار "مہدی شکیبائی" نے فارس خبر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: سولہویں صدی عیسوی میں عثمانی سلطنت نے حجاز کے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور اہل تشیع کے خلاف پابندیوں میں اضافہ ہوا اور سعودی حکمرانی قائم ہونے کے بعد یہ پابندیاں اور محدودیتیں عروج پر پہنچیں۔ آل سعود کی حکمرانی کے بعد اہل تشیع کی سرکوبی اور انہیں معاشرے میں کسی بھی مرکزی کردار سے محروم کرنا حکمرانوں کے ایجنڈے کا حصہ بن گیا اور درحقیقت شیعہ نسل کشی عبدالعزیز آل سعود کی سربراہی میں آل سعود کی سلطنت کی سیاسی اور بنیادی ترجیحات میں شامل ہوئی. حجاز میں کئی شیعہ اکثریتی علاقے آباد ہیں جن میں آبادی کا توازن بگاڑنا بھی سعودی حکمرانوں کی پالیسی کا حصہ تھا اور آج بھی ہے اور اس وقت بھی سعودیوں کی پالیسی ہے کہ اہل تشیع کی سرکوبی کے لئے تمام ممکنہ وسائل سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ نجد اور دیگر علاقوں کے ہزاروں آبادکاروں اور تاجروں کو منطقة الشرقیہ اور جنوب میں نجران جیسے علاقوں میں آباد کیا جارہا ہے اور اس طرح ان علاقوں کی شیعہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؛ اسی مقصد سے شیعہ علاقوں میں مختلف صنعتی ٹاؤن بنائے جارہے ہیں جن میں صرف غیر شیعہ آبادکاروں اور تاجروں کو کام کرنے کی اجازت ہے۔ انھوں نے کہا: اس سلسلے میں سعودیوں کی دیگر پالیسیاں یہ ہیں: شیعہ علاقوں میں کاشتکاری اور زراعت کا ڈھانچہ تباہ کیا جارہا ہے؛ اہل تشیع کا تجارتی نظام تباہ کیا جارہا ہے؛ اہل تشیع کے املاک و اموال اور دولت و ثروت کو ضبط کیا جا رہا ہے۔ غیر شیعہ تاجروں کو شیعہ تاجروں کے ساتھ لین دین سے منع کیا جارہا ہے اور ان تمام اقدامات کا مقصد صرف یہی ہے کہ شیعہ اکثریتی علاقوں کی آبادی کا توازن بگاڑدیا جائے. ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کو دینی اور مذہبی اعمال و عبادات سے منع کیا جارہا ہے؛ ان کی مساجد بند کی جارہی ہیں؛ انہیں نئی مساجد اور حتی قبرستانوں کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جارہی اور ان اقدامات میں حال ہی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو پالیسی آل سعود نے اہل تشیع کے خلاف اپنا رکھی ہے عیناً وہی پالیسی ہے جو صہیونی ریاست مقبوضہ فلسطین میں مسلمانوں کی خلاف اپنائے ہوئی ہے۔ فلسطین کی مغربی کناری اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی ٹاؤن شپس کی تعمیر اور املاک کی ضبطی 1948 میں صہیونی ریاست کے قیام کے بعد سے صہیونیوں کی دائمی پالیسی ہے؛ صہیونی ریاست مختلف فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد یہودیوں کو دنیا کے مختلف علاقوں سے اکٹھا کرکے ان علاقوں میں بساتی رہی ہے اور اس طرح کئی علاقوں کی آبادی اس وقت صہیونی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے۔ انھوں نے کہا: سعودی عرب بھی شیعہ علاقوں میں بالکل یہی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور سعودیوں نے اس سلسلے میں بھی صہیونیوں سے سبق سیکھا ہے سعودی حکمران شیعیان اہل بیت (ع) کے خلاف بالکل وہی اقدامات عمل میں لارہے ہیں جو صہیونی حکمران مسلمانوں کے خلاف عمل میں لارہی ہے۔ (1/21/2010)![]() اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ شیعہ عالم دین الشرقیۃ کے شہر "الخُبَر" میں "اہل سنت کی ایک مسجد" میں نماز جماعت ادا کررہے تھے کہ گرفتار کرلئے گئے. یہ مسجد شیخ محمد باقر ناصر کی رہائشگاہ کے قریب واقع ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی پولیس کے سات اہلکاروں نے شیخ ناصر اور ان کے پانچ ساتھیوں کو نماز عشاء کے بعد گرفتار کرکے الخبر کی حوالات میں منتقل کرلیا ہے. یادرہے کہ الخُبر میں شیعہ مساجد کی بندش کے بعد شیعہ اور سنی باشندوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت شیعہ نمازی مغرب کی نماز سنی امام جماعت کی امامت میں ادا کرتے تھے اور نماز عشاء شیخ ناصر کی امامت میں ادا کی جاتی تھی مگر یہ سلسلہ مسجد پر سعودی سیکورٹی فورسز کے حملے اور شیعہ عالم دین اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد عملاً ختم ہوگیا ہے۔ (1/20/2010)
جناب ڈاکٹر احمدی نژاد نے ـ وہابیوں کی ریشہ دوانیوں پر تنقید کرنے والے ـ ہال میں حاضر ایک نوجوان ـ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ہمارے پاس صوبۂ خوزستان میں وہابیت کی سرگرمیوں کی پوری معلومات موجود ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ جذبات کا اظہار کرکے کسی مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا اور ہر مسئلے کا علاج صحیح منصوبہ بندی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض مسائل کو اچھالنے سے وہابی تفکر کو تقویت مل سکتی ہے اور اس طرح کے اقدامات وہابیت کے استحکام کا باعث بن سکتے ہیں اور یہ ایک غلطی ہے؛ اگر آپ ملک کے ہمدرد ہیں تو اس سلسلے میں ہونے والے اقدامات کی طرف توجہ دیں. ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا: خوزستان میں انحرافی فرقوں کی فعالیت کی گنجائش نہیں ہے اور خوزستان کے عوام ان فرقوں کی جڑیں سُکھا دیں گے (1/20/2010)![]() پورا اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ مردہ باد برطانیہ مردہ باد اور صہیونی ریاست مردہ کے باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا اجتماع تہران کے انقلاب اسکوائرپرمنعقدہوا ہے جس میں دسیوں لاکھ عزادارن مظلوم کربلا اور ایران کے انقلابی عوام شریک تھے۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں بینراورپلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پراسلامی نظام اورولایت فقیہ کے تئیں اپنی پوری وفاداری کا اعلان کیا۔ ان ریلیوں میں اسی طرح امریکہ وسامراج مخالف بینرزبھی بڑی تعداد میں دیکھے جارہے تھے۔ تہران کے تمام راستوں سے انقلاب اسکوائر کی جانب انقلابیوں کا ایک امڈتا ہوا سیلاب آرہا تھا جس نے غیرملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی مبہوت کررکھا تھا۔ اسی اثناء میں سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ بی بی سی اورمغرب کے ديگرذرائع ابلاغ جو تہران میں مٹھی بھرانقلاب دشمن عناصرکی تخریبی کاروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کی تعداد بڑھا چڑھا کرپیش کرتے ہيں آج پورے ملک میں عاشورائے حسینی کی حرمت کے تحفظ اورولایت فقیہ کے اصول کی پاسداری ميں کروڑوں کی شرکت سے نکالے جانےوالے جلوسوں پرمبہوت ہوگئے ہيں اورانھیں گویا سانپ سونگھ گیا ہے۔ پورے ملک ميں عاشورہ کی حرمت کے تحفظ کے حق ميں جوجلوس نکالے گئے ان میں عوام ایک بارپھر اپنے اسلامی نظام اورانقلاب سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے رہبرانقلاب اسلامی کے فرمان پراپنی جان کی بازی لگانے کے عزم کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ عاشور کے دن امریکہ، برطانیہ اورصہیونی ریاست کی ایماء پرکچھ شرپسندعناصرنے تہران کی بعض سڑکوں پرنکل کرعزاداری کے جلوسوں پرحملہ کیا تھا اورعاشورہ کے تقدس کوپامال کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوری نظام کے اصولوں کےخلاف نعرے بازی کی تھی ۔ اس واقعہ پرپورے ایران کے عوام شدید برہم ہيں اورانھوں نےگذشتہ چنددنوں سے اس واقعہ کے خلاف مظاہروں کاسلسلہ شروع کررکھا ہے اورآج پورے ملک میں بیک وقت یہ مظاہرے کئے گئے. مظاہرین مطالبہ کررہے ہيں کہ ان سامراجی ایجنٹوں کوسخت سے سخت سزادی جائے جنھوں نےدین اسلام اور عاشورہ کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے عاشورہ کے تقدس کوپامال کرنےوالوں کی امریکی صدرباراک اوبامہ اوربرطانوی وزیرمیلیبینڈ اور صہیونی وزیر اعظم ایہود بارک نے حمایت کی تھی (1/2/2010)![]() حضرت آیتاللہ علی صافی گلپایگانی، جو آیتاللہ محمد تقی بہجت (رح) کی وفات کے بعد ان کے جانشین سمجھے جاتے تھے اور آیت اللہ بہجت کے مقلدین نے بھی ان کی طرف رجوع کیا تھا 99 سال کی عمر میں صوبۂ اصفہان کے شہر "گلپائگان" میں دار فانی کو وداع کہہ گئے. آیت اللہ شیخ علی گلپائگانی، قم میں مقیم حضرت آیت اللہ العظمی شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی کے بڑے بھائی تھے اور عرصۂ دراز سے علیل اور ہسپتال میں داخل تھے. گذشتہ روز صبح کے وقت قم میں مقیم مراجع تقلید اور علماء کرام ـ جن میں حضرات آیات وحید خراسانی و شبیری زنجانی ـ بھی شامل تھے آیتاللہ لطفاللہ صافی گلپایگانی کے گھر میں حاضر ہوئے اور مرحوم مرجع تقلید کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا. حضرت آیت اللہ شیخ علی صافی گلپائگانی کی مختصر سوانح حیات: انا للہ و انا اليہ راجعون آیت اللہ صافی گلپائگانی نہایت نڈر اور شجاع عالم دین تھے جن کے خطابات و تقاریر نہایت بلیغ تھیں اور چونکہ اپ علم و عمل و اخلاص کا مجموعہ تھے لہذا آپ کی تقاریر نہایت مؤثر ہوا کرتی تھیں. آپ نے رضاخانی(سابق شاہ ایران) کے گھٹن زدہ دور میں شجاعت و پامردی کے جوہر دکھائے اور آزادی اور عدل و انصاف اور سماجی نظم و ضبط، احیائے حق اور باطل کی سرکوبی کے سلسلے میں پہلوی خاندان کی آمریت و استبداد کے خلاف زبردست جدوجہد کی اور اس کے استعماری آقاؤں کو رسوا کیا اور اس راہ میں آپ نے بے شمار مسائل و مشکلات کا سامنا کیا. اور کئی بار جلاوطن ہوئے. مرحوم آیت اللہ شیخ علی صافی گلپائگانی جلیل القدر عالم دین تھے چنانچہ آپ نے متعدد کتابین لکھیں جن میں آپ کی درج ذیل کاوشیں سر فہرست تھیں: ــ العروة الوثقی کی استدلالی شرح ــ رسالہ عملیہ (توضیح المسائل فارسی زبان میں) ــ منتخب الاحکام ــ مناسک حج ــ وصال کی انتظار میں ــ المحجة فی تقریرات الحجة (مرحوم آیت اللہ حجت کوہ کمرہ ای کے دروس کی تقریرات) ــ راز دل (ایک ہزار صفحات پر مشتمل فارسی دیوان اشعار) ــ الدلالۃ الى من لہ الولایۃ ــ تاریخ تحول فقہ شیعہ ــ اصول الفقہ ــ آیت اللہ بروجردى کے دروس کی تقریرات نکتہ وروں نے ہم کو سکھایا خاص بنو اور عام رہو محفل محفل صحبت رکھو دُنیا میں گمنام رہو حضرت آیت اللہ علی صافی علمی اور فقہی لحاظ سے بہت اونچے مقام پر فائز تھے اور تقریبا تمام معاصر علماء کو ان کی علمی و فقہی عظمت کا اعتراف تھا اور پھر مرحوم حضرت آیت اللہ العظمی محمد تقی بہجت جیسی عظیم شخصیت نے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے مقلدین کو ان کی طرف رجوع کرنے کی وصیت کی تھی مگر آپ عجیب گمنامی میں زندگی بسر کرتے رہے اور زہد و تقوی اور شہرت سے دوری پر کاربند رہے. آپ کے بھائی آیت اللہ العظمی حاج شیخ لطف اللہ صافی اپنے تعزیتی پیغام میں لکھتے ہیں: بزرگ شخصیت، عالیقدر فقیہ اور ولائی مرجع تقلیدحضرت آيت اللہ العظمي آقاي حاج شيخ علي صافي لقاء اللہ کی طرف سفر کرگئے، جنہوں نے تقریبا ایک صدی کے عرصے تک اسلام کی خدمت کی اور کلمۂ دین کی ترقی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کاربندرہے، مختصر یہ کہ وہ حضرت بقيۃ اللہ مولانا المہدي ارواح العالمين لہ الفدا کے مخلص نوکر تھے اور اسی عنوان سے انھوں نے اپنے فرائض سرانجام دیئے. آپ نے متعدد کتابیں لکھیں جیسے: شرح عروة الوثقي اور اساتذہ کے دروس کی تقریرات ان کی اہم علمی کاوشیں ہیں، باذوق ادیب تھے اور مختلف فضائل سے لیس تھے اور خاص طور پر قرآن مجید کے مفسر تھے اور ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو ایسے فقیہ کے لئے ضروری ہیں اور انھوں نے اپنی حیات شریفہ کے آخری ایام تک محراب و منبر سے مسلمانوں کی ہدایت و راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا اور رضاخان کے اسلام مخالف اقدامات کے خلاف ان کا موقف نہایت شفاف اور مستحکم تھا. بے شک ایسی شخصیت کا فقدان فقاہت، مرجعیت اور علمی حوزات کے لئے ایک ثلمہ اور دراڑ ہے. ہم اس عظیم نقصان کی مناسبت سے حضرت ولي عصر ارواح العالمين لہ الفدا، حوزات علمیہ، علمائے اعلام اور آيات عظام دامت برکاتہم اور مرحوم کے علمی گھرانے کو تعزیت و تسلیت عرض کرتے ہیں۔ اس نیک سیرت عالم دین نے رضاخانی آمریت کے زمانے سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا اور سطوح عالیہ تک اپنے آبائی شہر گلپائگان میں تعلیم حاصل کی اور 1349 ہجری کو انھوں نے قم کی جانب ہجرت کی اور بزرگ علماء اور اساتذہ کے دروس میں حاضر ہوئے جو فقہ کی نامور شخصیات ہیں جیسے بزرگ مراجع تقلید مرحوم آيت اللہ العظمي حجت اور مرحوم آيت اللہ العظمي آقاي حاج سيد محمد تقي خوانساري سے فیض حاصل کیا اور جب آیت اللہ العظمی سید حسین بروجردی قم تشریف لائے تو انھوں نے ان کے فقہ اور اصول کے دروس میں شرکت کی اور استفتاء کے اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت کیا کرتے تھے اور آیت اللہ العظمی بروجردی ان کی آراء کو خاص توجہ دیا کرتے تھے اور درس و بحث کی محفل میں مشہور و معروف اور جانے پہچانے تھے۔ شجاعت، لہجے کی صراحت اور غیر اللہ سے بےباکي اور بےخوفی اور زہد و قناعت ث دنیاوی چمک دمک سے بے اعتنايي اور دین کے امور میں استقامت ان کی خاص صفات ہیں اور اس دانا فقیہ کی تاريخ زندگي پوری، درس و عبرت ہے. انھوں نے تمام امور میں خدا کو خلق خدا پر ترجیح دی اور کسی کی رضا کو خدا کی رضا پر مقدم نہ رکھا اور کبھی بھی کلمۂ حق کے اظہار میں ہچکچاہٹ اور خوف و ہراس کا شکار نہیں ہوئے حتی کہ وہ بزرگوں کو بھی وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے اور وہ بھی ان کی نصیحتوں اور یادآوریوں کو غنیمت سمجھتے تھے (1/17/2010) ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان برادرانہ تعلقات اور اتحاد و یکجہتی کے قیام کے لئے ریاست ڈیٹروئٹ میں ایک قومی اسلامی سیمینار منعقد کیا جارہا ہے۔سیمینار کا اہتمام کرنے والی 25 سالہ مسلم خاتون "صوفیا بک لطیف" نے سیمینار کے بارے میں کہا: یہ سیمینار دو روزہ ہے اور اس کا موضوع یہ ہے کہ "ہم اتحاد کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو کیونکر ہٹا سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے قریب ہوسکتے ہیں"۔ یہ کانفرنس میشیگان ریاست کے اسلامی اداروں کی انجمن اور شمالی امریکہ کی اسلامی کمیونٹی کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا ہے جس میں شمالی امریکہ کے مختلف علاقوں سے شیعہ اور سنی راہنماؤں شرکت کر رہے ہیں۔ عرب، ایشیائی اور افریقی مسلمانوں کے مندوبین بھی اس سیمینار میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سیمینار کے ساتھ ساتھ کئی فرعی نششتیں بھی ہورہی ہیں جن میں شیعہ ـ سنی تعلقات کی بہتری کے علاوہ مسلمانوں کے درمیان قومی اور نسلی اختلاف کے مسئلے پر بھی غور و خوض کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کے قیام کے لئے عملی نکات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ یادرہے کہ سنہ 2006 میں بھی شیعہ اور سنی مسلمانوں کے راہنماؤں اور مندوبین نے ڈیٹرویٹ میں ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے تھے جس میں تمام مسلمانوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ ایک دوسری کی توہین نہ کریں اور اپنی تحریر و تقریر میں ایسے الفاظ کا استعمال کرنے سے باز رہیں جو مسلمانوں کے درمیان منافرت کا باعث بنتے ہوں۔ اس سیمینار میں 400 سے زائد مسلمان مندوبین کی شرکت کی توقع ہے۔ اس سیمینار میں منہتن میں مسجد تعمیر کرنے والے "فیصل عبدالرئوف بھی شرکت کررہے ہیں۔ (1/16/2011) حوزہ علمیہ كے استاد آيت اللہ سبحانی
| ||||
|
||||